ٹرمپ کا ایران میں غیر فوجی اہداف کو سنجیدگی سے نشانہ بنانے پر غور: امریکی اخبار کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے رپورٹ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کے مختلف پہلوؤں پر غور کر رہی ہے۔
اخبار کے مطابق صدر ٹرمپ کو ایران پر فوجی حملوں سے متعلق مختلف آپشنز پر بریفنگ دی جا چکی ہے، جس کے بعد ایرانی مظاہروں کے تناظر میں تہران میں بعض غیر فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے امکان پر سنجیدہ مشاورت شروع ہو گئی ہے۔
نیو یارک ٹائمز نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے تاحال کسی حتمی فیصلے کی منظوری نہیں دی، تاہم وہ ایرانی حکومت کی جانب سے مظاہروں کو کچلنے کی کوششوں کے ردعمل میں فوجی کارروائی کی اجازت دینے پر غور کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایران میں پُرتشدد مظاہرے تیرہویں روز بھی جاری ہیں، جہاں اب تک 15 سکیورٹی اہلکاروں سمیت 65 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ امریکی جریدے ٹائم میگزین نے حالیہ جھڑپوں میں اموات کی تعداد 217 بتائی ہے۔
یاد رہے کہ امریکی صدر نے حال ہی میں ایرانی قیادت کو خبردار کیا تھا کہ اگر مظاہرین کو نشانہ بنایا گیا تو سخت ردعمل دیا جائے گا۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران آج ماضی کے مقابلے میں زیادہ آزادی کی جانب دیکھ رہا ہے اور امریکا اس عمل میں اس کی مدد کے لیے تیار ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔