ایران پر حملہ؟ ٹرمپ انتظامیہ فوجی کارروائی پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے، امریکی اخبار کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
واشنگٹن: امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کو ایران پر فوجی حملوں کے مختلف آپشنز پر بریفنگ دی جا چکی ہے، جس کے بعد تہران میں غیر فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے امکانات پر غور شروع کیا گیا ہے۔ یہ غور و فکر ایران میں جاری حکومت مخالف مظاہروں کے تناظر میں کیا جا رہا ہے۔
امریکی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران پر حملوں کا ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا، تاہم وہ ایرانی حکومت کی جانب سے مظاہرین کو دبانے کی کوششوں کے ردعمل میں فوجی کارروائی کی اجازت دینے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ممکنہ کارروائی کا مقصد براہِ راست فوجی تنصیبات کے بجائے غیر فوجی اہداف ہو سکتے ہیں، تاہم اس حوالے سے حتمی حکمتِ عملی سامنے نہیں آئی۔
مزید پڑھیںایران آزادی کی طرف بڑھ رہا ہے، امریکا مظاہرین کی مدد کیلئے تیار ہے، صدر ٹرمپ
ایران میں حکومت مخالف پُرتشدد مظاہرے؛ اسرائیلی جاسوس پکڑا گیا
ایران میں حالیہ کشیدگی پر پاکستان کی بہترین سفارت کاری مرکز نگاہ بن گئی
یاد رہے کہ ایران میں پُرتشدد مظاہرے تیرہویں روز بھی جاری ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک 15 سکیورٹی اہلکاروں سمیت 65 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ ایک معروف امریکی جریدے ٹائم میگزین نے دعویٰ کیا ہے کہ جھڑپوں میں ہلاکتوں کی تعداد 217 تک پہنچ چکی ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ حالیہ دنوں میں ایرانی قیادت کو خبردار کر چکے ہیں کہ اگر مظاہرین کو قتل کیا گیا تو امریکا سخت ردعمل دے گا۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران ماضی کے مقابلے میں آج زیادہ آزادی کی طرف دیکھ رہا ہے اور امریکا اس کی حمایت کے لیے تیار ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایران میں
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔