کے فور منصوبے پر ورلڈ بینک کے اعتراضات ختم، یونیورسٹی روڈ پر کام دوبارہ شروع
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
کراچی کے اہم آبی منصوبے ’کے فور‘ پر عالمی مالیاتی ادارے ’ورلڈ بینک‘ کے اعتراضات دور کر دیے گئے ہیں، جس کے بعد منصوبے پر دوبارہ کام کا آغاز ہو گیا ہے۔ تاہم حکام کی جانب سے منصوبہ مکمل ہونے کی کوئی نئی ڈیڈ لائن تاحال نہیں دی گئی، جس کے باعث شہریوں میں بے یقینی برقرار ہے، خاص طور پر وہ افراد جو روزانہ یونیورسٹی روڈ سے گزرتے ہیں۔
کے فور منصوبے کے تحت یونیورسٹی روڈ پر اردو یونیورسٹی سے حسن اسکوائر تک تقریباً 2.
دسمبر کے آغاز تک منصوبے پر صرف 10 فیصد کام ہی مکمل ہو سکا تھا اور محض 300 میٹر کے فاصلے پر 96 انچ قطر کی پائپ لائن ڈالی جا سکی، جبکہ 72 انچ کی پائپ لائن کا کام شروع ہی نہیں ہو سکا تھا۔
اسی دوران ورلڈ بینک نے منصوبے پر ماحولیاتی خدشات، حفاظتی انتظامات کی کمی اور روٹ میں تبدیلی جیسے نکات پر اعتراضات اٹھائے۔
عالمی بینک کی ٹیم نے نو نومبر کو منصوبے کی سائٹ کا دورہ کیا تھا، جہاں حفاظتی اقدامات کی کمی اور متعلقہ ماہرین کی عدم موجودگی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔
ان اعتراضات کے بعد 10 دسمبر کو کے فور منصوبے پر کام روک دیا گیا تھا، جس سے یونیورسٹی روڈ پر ٹریفک کی صورتحال مزید خراب ہو گئی اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
رپورٹس کے مطابق منصوبے کے آغاز پر تعینات ماحولیاتی ماہرین نے بھی کام شروع ہوتے ہی اپنی ذمہ داریاں چھوڑ دی تھیں، جبکہ سڑک بند کرنے کے باوجود بہتے پانی کے درمیان گاڑیوں کی آمدورفت جاری رہی۔ اس صورتحال نے نہ صرف منصوبے کی رفتار کو متاثر کیا بلکہ عوامی تحفظ کے حوالے سے بھی سوالات کھڑے کر دیے۔
اب حکام کا کہنا ہے کہ عالمی بینک کے اعتراضات کو دور کر لیا گیا ہے اور ڈیزائن میں تبدیلی کے بعد ایک ہی ٹریک پر پائپ لائنیں بچھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سڑک پر کم سے کم دباؤ پڑے۔ نجی کنسلٹنٹس اور سرکاری ذرائع کے مطابق کام دوبارہ شروع ہو چکا ہے، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ منصوبہ کب مکمل ہوگا۔
دوسری جانب میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کی جانب سے بھی منصوبے پر تیزی سے کام مکمل کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے، مگر شہریوں کا کہنا ہے کہ ماضی کے تجربات کی روشنی میں صرف وعدوں سے مسائل حل نہیں ہوتے۔
فی الحال یونیورسٹی روڈ پر سفر کرنے والے افراد کے لیے مشکلات بدستور موجود ہیں اور یہ سڑک شہریوں کے لیے ایک امتحان بنی ہوئی ہے، جس کا خاتمہ کب ہوگا، اس بارے میں کوئی واضح تصویر سامنے نہیں آ سکی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: یونیورسٹی روڈ پر کیا گیا کے فور
پڑھیں:
گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
ایک بیان میں قائد نون لیگ کا کہنا تھا کہ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے گلگت سے سکردو کا 9 گھنٹے کا سفر 3 گھنٹے میں بدل کر عوام کے 6 گھنٹے بچائے ہیں۔ 70 سال سے لٹکے منصوبے ہم نے اربوں روپے لگا کر مکمل کیے۔ ہمیں یہ منظور نہیں کہ یہاں 20، 22 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو۔ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ ایک بیان میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں شہباز شریف اور مریم کو بھی کہوں گا کہ وہ دونوں یہاں آئیں اور اگر اللہ کے فضل و کرم سے ہماری حکومت آتی ہے، تو میں خود ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آکر شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور نگرانی اپنی دیکھ بھال میں مکمل کرواؤں گا۔ یہاں دیس نکالے کی باتیں کرنے والے یاد رکھیں کہ 2017ء میں این ایف سی کمیٹی نواز شریف نے ہی بنائی تھی تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکل سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت، سکردو، بلتستان اور ہنزہ سمیت پورے خطے کے عوام سے مخاطب ہوں۔ اللہ کے فضل و کرم سے اور شہباز شریف سے بات کر کے اس شاہراہ کو پورا خنجراب تک پہنچائیں گے۔ پاک چائنا ٹریڈنگ کے اس منصوبے سے یہاں ایسی خوشحالی آئے گی کہ آپ کو گھر بیٹھے روزگار اور اخراجات ملیں گے اور پورا خطہ بدل جائے گا۔ آج گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، وہ گلگت کہاں ہے جسے میں جانتا تھا؟ ہم نے مانسہرہ سے تھاکوٹ تک بہترین سڑک بنائی جسے خنجراب تک جانا تھا مگر اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ ہم کسی کی برائی کرنے نہیں بلکہ ہمیشہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔ یہاں کے عوام بے تحاشہ ترقی اور روزگار کے حقدار ہیں۔