کراچی کے اہم آبی منصوبے ’کے فور‘ پر عالمی مالیاتی ادارے ’ورلڈ بینک‘ کے اعتراضات دور کر دیے گئے ہیں، جس کے بعد منصوبے پر دوبارہ کام کا آغاز ہو گیا ہے۔ تاہم حکام کی جانب سے منصوبہ مکمل ہونے کی کوئی نئی ڈیڈ لائن تاحال نہیں دی گئی، جس کے باعث شہریوں میں بے یقینی برقرار ہے، خاص طور پر وہ افراد جو روزانہ یونیورسٹی روڈ سے گزرتے ہیں۔

کے فور منصوبے کے تحت یونیورسٹی روڈ پر اردو یونیورسٹی سے حسن اسکوائر تک تقریباً 2.

7 کلومیٹر کے حصے پر 96 اور 72 انچ قطر کی پائپ لائنیں بچھائی جانی تھیں۔ اس منصوبے پر کام کا آغاز 10 نومبر کو ہوا تھا اور اسے 30 دسمبر تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، تاہم کام کی رفتار انتہائی سست رہی۔

دسمبر کے آغاز تک منصوبے پر صرف 10 فیصد کام ہی مکمل ہو سکا تھا اور محض 300 میٹر کے فاصلے پر 96 انچ قطر کی پائپ لائن ڈالی جا سکی، جبکہ 72 انچ کی پائپ لائن کا کام شروع ہی نہیں ہو سکا تھا۔

اسی دوران ورلڈ بینک نے منصوبے پر ماحولیاتی خدشات، حفاظتی انتظامات کی کمی اور روٹ میں تبدیلی جیسے نکات پر اعتراضات اٹھائے۔

عالمی بینک کی ٹیم نے نو نومبر کو منصوبے کی سائٹ کا دورہ کیا تھا، جہاں حفاظتی اقدامات کی کمی اور متعلقہ ماہرین کی عدم موجودگی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔

ان اعتراضات کے بعد 10 دسمبر کو کے فور منصوبے پر کام روک دیا گیا تھا، جس سے یونیورسٹی روڈ پر ٹریفک کی صورتحال مزید خراب ہو گئی اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

رپورٹس کے مطابق منصوبے کے آغاز پر تعینات ماحولیاتی ماہرین نے بھی کام شروع ہوتے ہی اپنی ذمہ داریاں چھوڑ دی تھیں، جبکہ سڑک بند کرنے کے باوجود بہتے پانی کے درمیان گاڑیوں کی آمدورفت جاری رہی۔ اس صورتحال نے نہ صرف منصوبے کی رفتار کو متاثر کیا بلکہ عوامی تحفظ کے حوالے سے بھی سوالات کھڑے کر دیے۔

اب حکام کا کہنا ہے کہ عالمی بینک کے اعتراضات کو دور کر لیا گیا ہے اور ڈیزائن میں تبدیلی کے بعد ایک ہی ٹریک پر پائپ لائنیں بچھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سڑک پر کم سے کم دباؤ پڑے۔ نجی کنسلٹنٹس اور سرکاری ذرائع کے مطابق کام دوبارہ شروع ہو چکا ہے، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ منصوبہ کب مکمل ہوگا۔

دوسری جانب میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کی جانب سے بھی منصوبے پر تیزی سے کام مکمل کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے، مگر شہریوں کا کہنا ہے کہ ماضی کے تجربات کی روشنی میں صرف وعدوں سے مسائل حل نہیں ہوتے۔

فی الحال یونیورسٹی روڈ پر سفر کرنے والے افراد کے لیے مشکلات بدستور موجود ہیں اور یہ سڑک شہریوں کے لیے ایک امتحان بنی ہوئی ہے، جس کا خاتمہ کب ہوگا، اس بارے میں کوئی واضح تصویر سامنے نہیں آ سکی۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: یونیورسٹی روڈ پر کیا گیا کے فور

پڑھیں:

فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا

فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کے اختتام پر شاندار کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا ہے، جس میں عالمی فٹبال کے کئی نامور ستاروں کو پورے ایونٹ میں بہترین کھیل کی بنیاد پر شامل کیا گیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق منتخب ٹیم میں ارجنٹائن کے کپتان لیونل میسی، فرانس کے کپتان کیلیان ایمباپے اور ناروے کے اسٹار اسٹرائیکر ایرلنگ ہالینڈ کو فرنٹ لائن کا حصہ بنایا گیا ہے۔

مڈفیلڈ میں ورلڈ کپ کے گولڈن بال کے فاتح اور اسپین کے کپتان روڈری ، انگلینڈ کے جوڈ بیلنگھم اور فرانس کے مائیکل اولیسے کو جگہ دی گئی ہے، جنہوں نے پورے ٹورنامنٹ میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

دفاعی لائن میں کیپ وردے کے گول کیپر ووزینیا کو منتخب کیا گیا ہے، جبکہ اسپین کے عالمی چیمپئن مارک کوکوریلا اور پیڈرو پورو ، فرانس کے ڈایو اوپامیکانو اور ارجنٹائن کے لیساندرو مارٹینیز بھی دفاع کا حصہ ہیں۔

فیفا کے مطابق ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا انتخاب کھلاڑیوں کی مجموعی کارکردگی، ٹیم پر اثراندازی اور پورے ایونٹ کے دوران مستقل بہترین کھیل کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

دوسری جانب فیفا نے ورلڈ کپ کے اختتام پر نئی عالمی رینکنگ بھی جاری کر دی ہے۔ نئی عالمی چیمپئن اسپین ایک درجہ ترقی کے بعد دنیا کی نمبر ایک ٹیم بن گئی، جبکہ رنر اپ ارجنٹائن ایک درجہ تنزلی کے بعد دوسرے نمبر پر چلی گئی۔

رینکنگ میں فرانس تیسرے اور انگلینڈ چوتھے نمبر پر برقرار ہیں، جبکہ برازیل اور مراکش ایک، ایک درجہ ترقی کے ساتھ بالترتیب پانچویں اور چھٹے نمبر پر پہنچ گئے ہیں۔

ادھر کرسٹیانو رونالڈو کی پرتگال دو درجے تنزلی کے بعد ساتویں نمبر پر آ گئی، جبکہ میزبان میکسیکو نے ورلڈ کپ میں عمدہ کارکردگی کی بدولت چار درجے ترقی کرکے ٹاپ ٹین میں جگہ بنا لی۔

ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل تک رسائی حاصل کرنے والی ناروے کی ٹیم نے بھی نمایاں پیش رفت کرتے ہوئے 12 درجے ترقی کی اور عالمی رینکنگ میں 19ویں پوزیشن حاصل کر لی۔

متعلقہ مضامین

  • پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
  • سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
  • ورلڈ کپ فاتح ہسپانوی فٹبالرز کو وزن کے برابر ٹماٹر انعام میں مل گئے
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج