Daily Mumtaz:
2026-07-24@10:35:32 GMT

بھارتی باکسر میری کوم کو طلاق کے بعد کیا کچھ جھیلنا پڑا؟

اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT

بھارتی باکسر میری کوم کو طلاق کے بعد کیا کچھ جھیلنا پڑا؟

بھارت کی نامور باکسر اور عالمی سطح پر پہچانی جانے والی کھلاڑی مریم کوم نے اپنی ذاتی زندگی کے سب سے مشکل دور پر خاموشی توڑ دی ہے۔ اس مشکل مرحلے میں تکلیف دہ طلاق، دیوالیہ ہونے کے قریب مالی حالات اور اندرونی طور پر خاموش جذباتی ٹوٹ پھوٹ شامل تھی۔

بین الاقوامی باکسنگ میں ’میگنیفیسنٹ میری‘ کے نام سے مشہور میری کوم کو بھارت کی سب سے کامیاب باکسر مانا جاتا ہے۔ ان کی جدوجہد اور کامیابیوں پر بننے والی فلم نے دنیا بھر میں پذیرائی حاصل کی، لیکن ان کی اصل زندگی اب پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہو چکی ہے۔

این ڈی ٹی وی کے مطابق پریس ٹرسٹ آف انڈیا سے گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ طلاق، شدید مالی دباؤ اور جذباتی ٹوٹ پھوٹ نے انہیں اندر سے ہلا کر رکھ دیا، مگر سوشل میڈیا اور خبروں میں مسلسل الزام تراشی کے بعد انہیں اپنی بات سامنے لانا پڑی۔

انہوں نے کہا کہ ذاتی باتوں کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا اور انہیں ولن بنانے کی کوشش کی گئی، جس کے بعد ان کے لیے خاموش رہنا ممکن نہیں رہا۔

میری کوم اور ان کے سابق شوہر اونلر، جو دونوں منی پور سے تعلق رکھتے ہیں، کی شادی بیس سال سے زیادہ عرصے تک قائم رہی۔ ان کی علیحدگی 2025 میں ہوئی، جس نے اہلِ خانہ اور قریبی جاننے والوں کو حیرت میں ڈال دیا۔

میری کوم کا کہنا ہے کہ جب تک وہ باکسنگ کے میدان میں سرگرم رہیں اور مالی معاملات میں ان کی شمولیت کم تھی، سب کچھ ٹھیک محسوس ہوتا رہا، لیکن 2022 کے کامن ویلتھ گیمز سے قبل انجری کے بعد حقیقت سامنے آنا شروع ہوئی اورمعلوم ہوا کہ یہ سب کچھ جھوٹ تھا۔

انہوں نے بتایا کہ انجری کے باعث وہ کئی مہینے بیڈ ریسٹ پر تھیں اور بعد ازاں واکر کے سہارے چلنا پڑا۔ اسی دوران انہیں احساس ہوا کہ جس شخص پر انہوں نے برسوں بھروسہ کیا، وہ ویسا نہیں نکلا جیسا وہ سمجھتی تھیں۔

میری کوم کے مطابق انہوں نے اس معاملے کو لوگوں کے سامنے تماشہ بنانے کے بجائے خود ہی حل کرنے کی کوشش کی، لیکن بات نہ بن سکی اور بالآخر طلاق کا فیصلہ کرنا پڑا۔

میری کوم نے کہا کہ انہوں نے یہ فیصلہ اپنے اور سابق شوہر کے خاندان کو بتا دیا تھا اور وہ سمجھ گئے تھے۔ انہیں امید تھی کی یہ سب کچھ پرائیویٹ رہے گا مگر بعد میں میڈیا اور سوشل میڈیا پر ان کے خلاف مسلسل باتیں ہونے لگیں۔

انہوں نے کہا، پچھلے ایک سال سے میرے خلاف باقاعدہ طور پر بہتان تراشی کی جا رہی ہے۔ میں نے سوچا تھا کہ میں اس کا جواب نہیں دوں گی، مگر میری خاموشی کو غلط معنی پہنائے گئے۔ مجھے لالچ کا طعنہ دیا گیا اورمیرے کردار پر سوال اٹھائے گئے، جس سے مجھے شدید ذہنی اذیت پہنچی اورمیرا خاموشی کو توڑنا ضروری ہوگیا۔

سابق راجیہ سبھا رکن مریم کوم نے الزام لگایا کہ انہیں کروڑوں روپے کا نقصان ہوا اور وہ اپنی محنت کی کمائی سے خریدی گئی زمین سے بھی محروم ہو گئیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی جائیداد کو رہن رکھ کر قرضے لیے گئے اور بعد میں زمین ان کے ہاتھ سے نکل گئی۔

دوسری جانب اونلر نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی غلط کام میں ملوث نہیں رہے۔

مریم کوم نے میڈیا میں ہونے والی باتوں پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کچھ رپورٹس میں انہیں وہ خاتون دکھایا گیا جو اپنے شوہر کو سیاست میں لانے کی ذمہ دار تھی، جبکہ ان کے مطابق یہ سب بے بنیاد ہے۔

چار بچوں کی ماں میری کوم کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت خود ٹوٹ چکی ہیں، لیکن انہیں اپنے بچوں اور والدین کی ذمہ داری نبھانی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ کسی قانونی کارروائی کی خواہش نہیں رکھتیں، بس یہ چاہتی ہیں کہ ان کے خلاف بہتان تراشی بند ہو اور انہیں سکون سے جینے دیا جائے۔

میری کوم، جو اب فرید آباد میں مقیم ہیں اور انڈین اولمپک ایسوسی ایشن کی ایتھلیٹس کمیشن کی سربراہ بھی ہیں، نے بتایا کہ وہ اپنے بچوں کے لیے دوبارہ خود کو سنبھال رہی ہیں اور اشتہارات و دیگر تجارتی سرگرمیوں کے ذریعے مالی حالات بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق ماں ہونے کے ناتے ہمت ہارنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

یاد رہے کہ میری کوم کو بھارت کی سب سے کامیاب باکسر مانا جاتا ہے۔ وہ چھ مرتبہ عالمی چیمپئن، اولمپک کانسی کا تمغہ اور بے شمار بین الاقوامی اعزاز اپنے نام کرچکی ہیں اسی غیر معمولی سفر کو 2013 میں فلمی انداز میں پیش کیا گیا، جس میں بالی ووڈ کی معروف اداکارہ پریانکا چوپڑا نے ان کا کردارادا کیا۔

مریم کوم کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی لڑ رہی ہیں، کیونکہ ان کی پوری زندگی ایک طویل باکسنگ مقابلے کی مانند رہی۔ چالیس برس کی عمر کے بعد وہ مزید شوقیہ طور پر باکسنگ میں حصہ نہیں لے سکتیں، مگر انہیں یقین ہے کہ خدا انہیں آگے بڑھنے کی طاقت ضرور دے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کا کہنا ہے کہ انہوں نے کے مطابق میری کوم مریم کوم اور ان کوم نے کے بعد

پڑھیں:

بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز بعد بھوک ہڑتال ختم کر دی

 بھارت کے معروف سماجی کارکن، ماہرِ تعلیم سونم وانگچک(Sonam Wangchuck) نے تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کرنے والے نوجوان مظاہرین کی حمایت میں جاری 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم کر دی۔

وانگچک، جنہیں عوام میں “سونم سر” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ انہوں نے مختلف شرائط پر طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں ممکنہ تشدد سے بچنے کے لیے بھوک ہڑتال ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

59 سالہ وانگچک کاکروچ جنتا پارٹی کے مظاہرین کی حمایت میں بھوک ہڑتال پر تھے، جو (NEET) کا پرچہ لیک ہونےکے بعد تعلیمی اصلاحات کے ساتھ ساتھ بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔

وانگچک نے ہڑتال کے دوران بتایا تھا کہ ان کا 11 کلوگرام وزن کم ہو چکا ہے، تاہم وہ “اب بھی زندہ ہیں”۔ گزشتہ ہفتے انہیں دہلی میں احتجاجی مقام سے پولیس نے زبردستی ہٹا کر اسپتال منتقل کر دیا تھا۔

Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy

— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026


بھارتی میڈیا این ڈی ٹی وی کے مطابق، حکومت کی جانب سے یہ یقین دہانی کرانے کے بعد کہ جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے مظاہرین کے خلاف قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی، وانگچک نے اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی۔ اس دوران بھارت کے وزرائے مملکت اور وزیر صحت نے بھی اسپتال میں ان سے ملاقات کی۔

وانگچک کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے کہا کہ ہمیں خوشی اور اطمینان ہے کہ سونم سر نے 26 دن بعد اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی ہے۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کا پُرامن احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان استعفیٰ نہیں دیتے۔

مزیدپڑھیں:پاک ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز، ٹرافی کی رونمائی کردی گئی

واضح رہے کہ نئی دہلی میں بڑے پیمانے پر مظاہرے بدستور جاری ہیں۔ پیر کے روز پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے والے مظاہرین پر پولیس کے سخت کریک ڈاؤن کے نتیجے میں متعدد مظاہرین اور پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔

کاکروچ جنتا پارٹی اس وقت بھارت کی نمایاں نوجوان تحریکوں میں شمار کی جا رہی ہے اور اسے وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے خلاف عوامی اختلاف کی بڑی علامت سمجھا جا رہا ہے۔

یہ تحریک مئی میں اعلیٰ تعلیمی امتحانات کے پرچے لیک ہونے اور دیگر بے ضابطگیوں کے خلاف ایک طنزیہ آن لائن مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، جس نے بعد ازاں سوشل میڈیا پر وسیع مقبولیت حاصل کی۔

مظاہرین، جو خود کو “کاکروچ” کہتے ہیں، گزشتہ ایک ماہ سے احتجاج کر رہے ہیں، جبکہ بعض ارکان نے بھوک ہڑتال بھی کی۔

ان کا مطالبہ ہے کہ ڈاکٹر بننے کے خواہشمند طلبہ کے اہم داخلہ امتحان کا پرچہ لیک ہونے کے بعد امتحان منسوخ ہونے کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان مستعفی ہوں۔

متعلقہ مضامین

  • 10 لاکھ تک بِلا سود قرضہ کیسے حاصل کریں؟ درخواست دینے کا طریقہ انتہائی آسان
  • کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی
  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • طلاق کی افواہیں بے بنیاد؟ شہزادی بیٹریس کی شوہر کے ہمراہ نئی خوشگوار تصویر وائرل
  • بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز بعد بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت