’ٹرمپ نے گرین لینڈ پر ممکنہ فوجی حملے کی منصوبہ بندی کا حکم دے دیا؟‘
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
برطانوی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جوائنٹ اسپیشل آپریشنز کمانڈ کو ہدایت کی ہے کہ وہ گرین لینڈ جزیرے پر ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے منصوبہ تیار کرے، یہ ایک اقدام جو کہ آرکٹک خطے میں جاری تنازعہ اور دیگر عالمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کو بڑھا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:گرین لینڈ عالمی طاقتوں کی کشمکش کا نیا مرکز کیوں بن گیا؟
ایک برطانوی اخبار نے رپورٹ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے امریکی فوج کی اعلیٰ قیادت کو حکم دیا ہے کہ وہ گرین لینڈ پر فوجی حملے یا قبضے کے لیے منصوبہ بندی تیار کریں۔ رپورٹ کے مطابق یہ اقدام اس سوچ کے تحت ہے کہ اگر امریکا خود گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل نہیں کرتا تو روس یا چین وہاں اثر و رسوخ بڑھا سکتے ہیں۔
???? Big update from Washington ????????
Reports claim President Trump has instructed the US military to prepare invasion plans for Greenland ????????
This story is developing and already raising global eyebrows pic.
— WAR (@warsurveillance) January 11, 2026
اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ جوائنٹ چیف آف اسٹاف نے اس ممکنہ منصوبے کی مخالفت کی ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ امریکا کی فوجی قیادت اس نوعیت کے اقدام کے خلاف ہے اور اسے غیر قانونی بھی سمجھتی ہے، جبکہ کانگریس کی حمایت بھی متوقع نہیں ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ ٹرمپ گرین لینڈ کو روس اور چین کے بڑھتے ہوئے اثر سے روکنے کے لیے حاصل کرنا چاہتے ہیں، جب کہ بعض امریکی عہدیدار کم متنازع عالمی امور کی طرف صدر کی توجہ مبذول کرانے کی کوشش کرتے نظر آ رہے ہیں۔
گزشتہ دنوں ہی امریکی صدر کے گرین لینڈ کے حوالے سے متنازع بیانات نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کی ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’امریکا گرین لینڈ پر کچھ نہ کچھ کرے گا، چاہے وہ چاہیں یا نہ چاہیں‘، جس پر ڈنمارک اور یورپی اتحادیوں نے سخت ردعمل دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ رپورٹ باضابطہ طور پر امریکی حکومت کی طرف سے تصدیق شدہ نہیں، لیکن ایسے بیانات خطے میں سفارتی تناؤ اور حکمتِ عملی میں شدید تبدیلیوں کے امکانات کو ظاہر کرتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا ڈنمارک صدر ٹرمپ گرین لینڈ گرین لینڈ حملہ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا گرین لینڈ گرین لینڈ حملہ
پڑھیں:
ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔
نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔
امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔
مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔
آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔
کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔
کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔
تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔
ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔