ٹانک میں پولیس بکتر بند پر آئی ای ڈی حملہ؛ ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار شہید
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
ٹانک میں پولیس بکتر بند پر آئی ای ڈی حملہ؛ ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار شہید WhatsAppFacebookTwitter 0 12 January, 2026 سب نیوز
ٹانک میں پولیس بکتر بند پر آئی ای ڈی حملے میں ایس ایچ او سمیت 6 اہل کار شہید ہو گئے۔
خیبر پختونخوا میں ٹانک کے علاقے گومل میں پولیس کی اے پی سی (بکتر بند گاڑی) پر آئی ڈی بم حملہ کیا گیا۔ پولیس کے مطابق یہ دھماکا ٹانک کے علاقے کوٹ ولی سے 25 کلومیٹر کے فاصلے پر پیش آیا۔ دھماکے کے نتیجے میں پولیس کی بکتربند گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں ایس ایچ او سمیت 6 پولیس اہل کار شہید ہو گئے۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیمیں جائے وقوع کی جانب روانہ کی گئیں، جہاں سے لاشوں اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔
بکتر بند گاڑی پر حملے میں شہید ہونے والوں میں اسحاق ،ایس ایچ او ،اے ایس آئی شیر عالم،شفیع،حضرت علی ،احسان اللہ مجید ڈرائیورشامل ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایف آئی اے کی کارروائی، سی پیک پروجیکٹس کے بہانے شہری سے کروڑوں کی جائیداد ہتھیانے والے ملزمان پکڑے گئے ایف آئی اے کی کارروائی، سی پیک پروجیکٹس کے بہانے شہری سے کروڑوں کی جائیداد ہتھیانے والے ملزمان پکڑے گئے ٹرمپ نے خود کو وینزویلا کا عبوری صدر قرار دے دیا، نئی تصویر جاری کردی ہم جنگ اور مذاکرات دونوں کے لیے تیار ہیں: ایرانی وزیر خارجہ ایک سال میں پی آئی اے کو منافع بخش ادارہ بنا کر دکھائیں گے، عارف حبیب بجلی صارفین کیلئے بڑی خوشخبری، حکومت کا بنیادی ٹیرف میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ متنازع ٹویٹ کیس میں عدالت نے ایمان مزاری کو ریلیف دے دیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ایس ایچ او سمیت 6 میں پولیس بکتر بند
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔