برطانوی شاہی خاندان کی سابق رکن سارہ فرگوسن آسٹریلیا جانے کی خواہشمند لیکن سانپوں کا خوف آڑے
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
سابق ڈچس آف یارک اور شاہ چارلس کی سابق بھابھی سارہ فرگوسن اپنے مستقبل کے بارے میں ایک مشکل فیصلے سے دوچار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: برطانوی شاہی خاندان کی معمر ترین رکن شہزادی کیتھرین انتقال کرگئیں
غیر ملکی میڈیا کے مطابق برطانیہ میں جیفری ایپسٹین سے تعلقات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی جانچ پڑتال کے دوران سارہ آسٹریلیا منتقل ہونے پر غور کر رہی ہیں تاہم سانپوں سے شدید خوف ان کے راستے میں بڑی رکاوٹ بن گیا ہے۔
سارہ فرگوسن، جنہیں عام طور پر فرگی کہا جاتا ہے، کافی عرصے سے آسٹریلیا میں رہائش اختیار کرنے کا سوچ رہی ہیں تاہم وہ وہاں کے جنگلی جانوروں، خصوصاً سانپوں سے حقیقی طور پر خوفزدہ ہیں۔
رپورٹ کے مطابق خصوصاً سابق شوہر پرنس اینڈریو شاہی ذمہ داریوں اور خطابات سے محروم ہونے کے بعد سے سارہ فرگوسن کو خاصی مشکلات کا سامنا ہے۔
مزید برآں سنہ 2011 کی ایک ای میل دوبارہ سامنے آئی ہے جس میں سارہ فرگوسن نے سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کو اپنا بہترین دوست قرار دیا تھا جس کے بعد تنقید میں اضافہ ہو گیا ہے۔
مزید پڑھیے: برطانوی شاہی خاندان کے افراد کونسے کھانے کھاتے ہیں اور کن کھانوں کو ہاتھ نہیں لگاتے؟
سارہ فرگوسن کی بڑی بہن جین فرگوسن لوئیڈیکے، جو آسٹریلیا میں مقیم ہیں، نے حالیہ برطانیہ کے دورے کے دوران ان کی مدد کی پیشکش کی ہے۔
ایک ذریعے نے بتایا کہ جین معمول کے دورے پر نہیں آئی تھیں اور وہ اس بات پر شدید پریشان تھیں کہ سارہ کس ذہنی کیفیت سے گزر رہی ہیں اور انہوں نے محسوس کیا کہ ذاتی طور پر موجود ہونا ضروری ہے۔
سارہ کے قریبی حلقے میں کچھ لوگوں کو خدشہ تھا کہ وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو رہی ہیں اسی لیے اس وقت کو نہایت نازک سمجھا جا رہا تھا۔
سارہ فرگوسن کو موجودہ حالات میں برطانیہ کے مقابلے میں آسٹریلیا میں شاید زیادہ مثبت ماحول مل سکے لیکن سانپوں سے ان کا شدید اور فطری خوف وہاں منتقل ہونے کے فیصلے میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔
مزید پڑھیں: اسکاٹ لینڈ میں شاہ چارلس کے نئے پورٹریٹ کی نقاب کشائی، ہمشیرہ شہزادی این جذباتی ہو گئیں
موجودہ حالات میں جب ان کے پاس نہ مالی وسائل ہیں اور نہ ہی کوئی شاہی رہائش تو آسٹریلیا منتقلی ناگزیر ہو سکتی ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ وہ بہت دور جانا چاہتی ہیں مگر آسٹریلیا کی جنگلی حیات کا خیال ہی انہیں خوفزدہ کر دیتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آسٹریلیا برطانوی شاہی خاندان برطانیہ سارہ فرگوسن سارہ کو سانپوں کا خوف.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا سٹریلیا برطانوی شاہی خاندان برطانیہ سارہ فرگوسن سارہ کو سانپوں کا خوف برطانوی شاہی خاندان سارہ فرگوسن رہی ہیں
پڑھیں:
چینی چڑیا گھر میں جانور گرمی کی شدید لہر سے کیسے محفوظ رہتے ہیں؟
چین کے جنوب مغربی شہر چونگ چنگ میں شدید گرمی کے پیش نظر چونگ چنگ چڑیا گھر نے جانوروں کو محفوظ اور آرام دہ رکھنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے ہیں۔ پانڈا، ہاتھی، دریائی گھوڑوں اور دیگر جانوروں کو ٹھنڈے پانی، پھلوں اور جدید کولنگ سسٹمز کے ذریعے گرمی سے بچانے کی کوششیں جاری ہیں۔
سرکاری خبر رساں ادارے شِنہوا کے مطابق چونگ چنگ چڑیا گھر میں دیوقامت پانڈا، ہاتھی، دریائی گھوڑے اور دیگر جانوروں کو شدید گرمی سے بچانے کے لیے ٹھنڈے پانی کے تالاب، مصنوعی بارش (مسٹنگ سسٹم)، سایہ دار مقامات اور خصوصی خوراک کا انتظام کیا گیا ہے۔
چڑیا گھر میں موجود دیوقامت پانڈا دن کے گرم اوقات میں پانی کے تالابوں میں وقت گزار رہے ہیں، جبکہ ان کے باڑوں میں مسلسل پانی کی باریک پھوار چلائی جا رہی ہے تاکہ درجہ حرارت کم رکھا جا سکے۔
اسی طرح دریائی گھوڑوں اور ہاتھیوں کو جسمانی درجہ حرارت متوازن رکھنے کے لیے تربوز اور دیگر پانی سے بھرپور پھل کھلائے جا رہے ہیں، جبکہ ان کے لیے نہانے اور پانی میں رہنے کے اضافی انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پانڈا نسبتاً ٹھنڈے موسم کے جانور ہیں اور شدید گرمی ان کی صحت، خوراک اور روزمرہ سرگرمیوں پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ اسی وجہ سے چین کے مختلف چڑیا گھروں میں موسمِ گرما کے دوران کولنگ سسٹمز، برف کے بلاکس، ایئر کنڈیشنڈ انڈور حصوں اور پانی سے بھرپور غذا کا استعمال معمول کا حصہ بن چکا ہے۔
چونگ چنگ چین کے گرم ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے، جہاں موسمِ گرما میں درجہ حرارت اکثر 40 ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب یا اس سے بھی زیادہ پہنچ جاتا ہے۔ حالیہ برسوں میں شدید گرمی کی لہروں کے باعث مقامی انتظامیہ نے نہ صرف شہریوں بلکہ جنگلی اور قید جانوروں کے تحفظ کے لیے بھی خصوصی منصوبے نافذ کیے ہیں۔
چڑیا گھر کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ موسمِ گرما کے دوران جانوروں کی صحت کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ضرورت کے مطابق ان کے ماحول، خوراک اور طبی نگہداشت میں تبدیلیاں کی جاتی ہیں تاکہ شدید گرمی کے باوجود انہیں کسی قسم کی تکلیف یا صحت کے خطرات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں