لاہور میں درختوں کی کٹائی اور تراش خراش پر پابندی عائد کردی گئی
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
حکومت پنجاب کی ہدایت پر لاہور بھر میں درختوں کی غیر مجاز کٹائی اور تراش خراش پر فوری پابندی عائد کردی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی، حکومت نے ماحولیاتی بحالی کے لیے وضاحت دے دی
ہارٹیکلچر ایجنسی لاہور کے مطابق پیشگی تحریری اجازت کے بغیر کسی بھی درخت کی معمولی پروننگ بھی نہیں کی جا سکے گی۔
ہارٹیکلچر ایجنسی کے منیجنگ ڈائریکٹر راجا منصور احمد نے تمام متعلقہ اسٹاف اور ڈائریکٹرز کو چوکس رہنے اور احکامات پر مکمل عملدرآمد کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ایجنسی نے واضح کیا ہے کہ درختوں کے تحفظ کے لیے ہدایات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
واضح رہے کہ ان دنوں اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی پر حکومت اور سی ڈی اے کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی پر سوشل میڈیا کی غلط مہم، سی ڈی اے نے مؤقف واضح کر دیا
دوسری جانب وفاقی حکومت اور سی ڈی اے کا مؤقف ہے کہ صرف ان درختوں کو ہٹایا جا رہا ہے جو پولن پھیلانے کا سبب بنتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews پابندی عائد درختوں کی کٹائی لاہور وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پابندی عائد درختوں کی کٹائی لاہور وی نیوز میں درختوں کی کٹائی
پڑھیں:
بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
کراچی:ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔
درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔