عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
ہم کسی کو اجازت نہیں دینگے عمران خان کو بلاجواز جیل میں رکھیں،پیپلزپارٹی نے مل کرآئین کاڈھانچہ تبدیل کیا، سندھ میں پی پی کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، فسطائیت ہمیشہ یاد رہے گی،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا
عمران خان کی سیاست ختم کرنیوالے دیکھ لیں قوم آج کس کیساتھ کھڑی ہے، آج ہمارے ساتھ مختلف مقامات پر پولیس گردی کے باوجود ہم یہاں اتنی بڑی تعداد میں جمع ہیں،باغ جناح میں خطاب
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ عوام ڈی چوک جانے کو تیار ہیں، بانی پی ٹی آئی کی کال کا انتظارہے، ہم کسی کو اجازت نہیں دیں گے کہ وہ ہمارے حقوق ختم کرے، ہم کسی کو اجازت نہیں دیں گے کہ قوم کے لیڈر کوبلاجوازجیل میں رکھیں۔ آج ہمارے ساتھ مختلف مقامات پر پولیس گردی کی گئی،پولیس گردی کے بعد بھی ہم یہاں اتنی بڑی تعداد میں جمع ہیں،عمران خان کی سیاست ختم کرنیوالے دیکھ لیں قوم آج کس کیساتھ کھڑی ہے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کراچی میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت نے سندھی ٹوپی اور اجرک کی بے حرمتی کی،کسی کو میڈیٹ پر ڈاکا ڈالنے اجازت نہیں دیں گے ۔ انھوں نے کہا کہ سب نے تیار رہنا جیسے ہی لیڈر کی کال آئے گی ہم اس کے ساتھ ہوں گے، سندھ حکومت نے ہم پر پولیس گردی کی، کارکنوں پر شیلنگ کی گئی جس کی ہم مذمت کرتے ہیں، پنجاب کے حکومت نے بھی ہمارے ساتھ یہی رویہ کیا تھا۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ ہماری اسٹریٹ موومنٹ جاری رہے گی، ہمارا اگلا پڑاو خیبرپختونخوا ہوگا، پنجاب میں حکومت نے ہمارے اچھا سلوک نہیں کیا، سندھ میں بھی سندھ حکومت نے اچھا سلوک نہیں کیا۔ انھوں نے کہا کہ اسٹریٹ موومنٹ کے ذریعے عمران خان کا پیغام ملک بھر میں پہنچائیں گے، سندھ کی عوام کا مشکور ہوں ، کراچی کی عوام کا دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں ، عوام نے نکل ثابت کیا ہے قوم عمران خان نے ساتھ کھڑے ہیں،جو سوچ رہے تھے عمران خان کی سیاست ختم ہو جائے گی وہ آج آکر دیکھ لیں۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ جس دن عمران خان نے نے پیغام دیا عوام تیار ہے نکلے گی، عوام نے آج ثابت کیا ہے کہ بغیر سہولیات کے بھی جلسہ ہوسکتا ہے ، سندھ حکومت نے رکاوٹیں ڈالیں عوام نے سب رکاوٹیں ہٹا کر جلسہ کامیاب بنایا ، آج لاکھوں کا مجمعہ کراچی کی عوام نے ثابت کیا ہے کراچی کی نمائندہ جماعت پی ٹی آئی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ جو لوگ جمہوریت کے دعویدار تھے وہ جمہوریت پسند نہیں نکلے،سندھ حکومت نے سندھی ٹوپی اجرک کی بے حرمتی کی ہے ،عوام سندھ حکومت کو معاف نہیں کرے گی ، پیپلز پارٹی نے ملکر آئین کا ڈھانچہ تبدیل کر دیا ہے،سندھ میں پیپلز کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے،عوام تیار ہے ڈی چوک جانے کو عمران خان کی کال کا انتظار ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ عوام کو تیار رہنا ہے یہی جذبہ جنوں رکھنا ہے، ہم کسی کو اجازت نہیں دینگے کہ وہ ہمارے حقوق ختم کرے ، ہم کسی کو اجازت نہیں دینگے کہ قوم کے لیڈر کو بلا جواز جیل میں رکھیں، جب بھی عمران خان کا حکم ہوگا ہم ویسا کریں گے، سندھ کی ہونے والی فسطائیت ہمیشہ یاد رہے گی۔ باغ جناح میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ عوام نے آج ثابت کیا ہے کہ بغیر سہولیات کے بھی جلسہ ہوسکتا ہے ، سندھ حکومت نے رکاوٹیں ڈالیں عوام نے سب رکاوٹیں ہٹا کر جلسہ کامیاب بنایا ، آج لاکھوں کا مجمعہ کراچی کی عوام نے ثابت کیا ہے کراچی کی نمائندہ جماعت پی ٹی آئی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ جو لوگ جمہوریت کے دعویدار تھے وہ جمہوریت پسند نہیں نکلے، سندھ حکومت نے سندھی ٹوپی اجرک کی بے حرمتی کی ہے ، عوام سندھ حکومت کو معاف نہیں کرے گی ، پیپلز پارٹی نے ملکر آئین کا ڈھانچہ تبدیل کر دیا ہے،سندھ میں پیپلز کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، عوام تیار ہے ڈی چوک جانے کو عمران خان کی کال کا انتظار ہے۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ عوام کو تیار رہنا ہے یہی جذبہ جنوں رکھنا ہے، ہم کسی کو اجازت نہیں دینگے کہ وہ ہمارے حقوق ختم کرے ، ہم کسی کو اجازت نہیں دینگے کہ قوم کے لیڈر کو بلا جواز جیل میں رکھیں ، جب بھی عمران خان کا حکم ہوگا ہم ویسا کریں گے،سندھ کی ہونے والی فسطائیت ہمیشہ یاد رہے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: ہم کسی کو اجازت نہیں دینگے کہ سہیل ا فریدی نے کہا انھوں نے کہا کہ ڈی چوک جانے کو سندھ حکومت نے عمران خان کی ثابت کیا ہے پولیس گردی میں رکھیں کی کال کا کراچی کی عوام نے کی عوام کو تیار کہ عوام رہے گی
پڑھیں:
نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
Huge crowd of students floods roads of Nashik.
Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY
— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026
ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘ کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج
یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک