ترقی پانے کیلئے تمام اثاثے ڈکلیئر کریں،ایف بی آر کا افسران کو انتباہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
ترقی پانے کیلئے تمام اثاثے ڈکلیئر کریں،ایف بی آر کا افسران کو انتباہ WhatsAppFacebookTwitter 0 12 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )ایف بی آر نے ترقی خواہش مند افسران سے تمام اثاثے ڈکلیئر کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ پرفارمنس ایویلیوایشن رپورٹس بھی مانگ لی گئیں۔ ایف بی آر نے پاکستان کسٹمز سرس کے افسران کو مراسلہ جاری کر دیا۔
ایف بی آر نے ترقی حاصل کرنے کے خواہشمند افسران کو جاری مراسلے میں کہا ہے کہ اگر ترقی چاہیے تو اپنے تمام اثاثے ڈیکلیئر کرنے ہوں گے۔ افسران سے پرفارمنس ایویلیوایشن رپورٹس بھی مانگ لی گئیں۔ ایف بی آر نے گریڈ 17 سے 18 کے افسران کو مراسلہ جاری کیا ہے۔پاکستان کسٹمز سروس کے پروموشن زون میں آنے والے افسران شامل ہیں۔ اگلے گریڈ میں ترقیوں پر غور کیلئے ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی کا اجلاس جلد بلایا جائے گا۔ ایف بی آر نے پروموشن کمیٹی کے اجلاس سے پہلے ڈکلیئریشن آف ایسٹس اور پرفارمنس رپورٹس کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کر دی۔ افسران کو 30 جون 2025 تک کے اثاثے، کارکردگی رپورٹس دینا ہوگی۔ ایف بی آر نے اس مقصد کیلئے 16 جنوری کی ڈیڈ لائن مقرر کر دی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروفاقی حکومت نے بلدیاتی الیکشن کے امیدواروں کو 85لاکھ کا نقصان پہنچادیا وفاقی حکومت نے بلدیاتی الیکشن کے امیدواروں کو 85لاکھ کا نقصان پہنچادیا دہشتگردوں کے بیانیے کا ڈٹ کر مقابلہ، پیغام امن ہر گھر تک پہنچایا جائیگا، عطا تارڑ ریڈیو پاکستان پر حملے میں پی ٹی آئی کے لوگ براہ راست ملوث نکلے، عظمی بخاری جوڈیشل کمیشن اجلاس، اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3ایڈیشنل ججز کو مستقل کرنے کی منظوری وزیراعظم کی نیووٹیک کیو اپرینٹس شپ قانون پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت لوگ ٹیکس زیادہ ہونے کی وجہ سے ملک چھوڑ رہے ہیں، سپر ٹیکس کیس میں وکیل کے دلائلCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: افسران کو ایف بی آر
پڑھیں:
ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
پشاور (بیورو رپورٹ) گورنر خیبرپی کے فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان سے ضم قبائلی اضلاع کیلئے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحالی کی درخواست کردی۔ وزیراعظم کو بھیجے گئے خط میں گورنر نے مطالبہ کیا کہ ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ میں توسیع کرتے ہوئے انضمام کے وقت قبائلی عوام سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ ضم قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ وفاقی ٹیکسوں کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ صوبائی حکومت پہلے ہی ضم شدہ اضلاع اور پاٹا پر عائد تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکس برقرار رہنے سے عوام کو مکمل ریلیف نہیں مل رہا۔ دریں اثناء گورنر فیصل کریم کنڈی سے پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) پشاور کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر سہیل امیر مروت نے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی۔ ادارے کی تحقیق و ترقی (ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ)، جاری پی ایس ڈی پی منصوبوں، ادارے کی تحقیقی صلاحیتوں اور استعداد سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔