کانگریس لیڈر نے کہا کہ اترپردیش میں حالات سب سے زیادہ تشویشناک ہیں، جہاں ریاستی وسائل، پولیس اور انتظامیہ کا استعمال کھلے عام دلتوں، آدیواسیوں، پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کو دبانے کیلئے کیا جارہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کانگریس دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے ایس سی ڈپارٹمنٹ کے قومی صدر راجندر گوتم نے الزام لگایا کہ ملک میں ذات اور مذہب کی بنیاد پر نفرت کو منظم طریقے سے بڑھایا جا رہا ہے اور یہ سب کچھ بی جے پی حکومتوں کی سرپرستی میں ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف حکومت "وشو گرو" اور "وکست بھارت" کے دعوے کر رہی ہے، جبکہ دوسری طرف زمینی حقیقت یہ ہے کہ سماج کو نفرت، تشدد اور تفریق کی آگ میں جھونکا جا رہا ہے۔ راجندر گوتم نے کہا کہ اترپردیش میں حالات سب سے زیادہ تشویشناک ہیں، جہاں ریاستی وسائل، پولیس اور انتظامیہ کا استعمال کھلے عام دلتوں، آدیواسیوں، پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کو دبانے کے لئے کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت کی زیرو ٹالرینس پالیسی دراصل ذات اور مذہب دیکھ کر نافذ ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دلتوں کے خلاف جرائم میں نہ تو بروقت کارروائی ہوتی ہے اور نہ ہی انصاف نظر آتا ہے، جبکہ ملزم اگر کمزور طبقے سے ہو تو چوبیس گھنٹے کے اندر بلڈوزر کارروائی شروع ہو جاتی ہے۔ انہوں نے میرٹھ کے دل دہلا دینے والے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ایک لڑکی اپنی ماں کے ساتھ جنگل کی طرف جا رہی تھی، جہاں اسے اغوا کر لیا گیا۔ ماں نے جب بیٹی کو بچانے کی کوشش کی تو اس پر حملہ کر کے بے رحمی سے قتل کر دیا گیا۔ راجندر گوتم نے کہا کہ جب کانگریس کے نمائندے متاثرہ خاندان سے ملنے گئے تو پولیس نے انہیں راستے میں روک لیا اور کئی گھنٹے تک انتظار کرانے کے بعد بھی ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اگر پولیس اتنی ہی مستعدی مجرموں کو گرفتار کرنے اور سزا دلانے میں دکھائے، جتنی اپوزیشن کو روکنے میں دکھاتی ہے، تو ایسے جرائم سرے سے ہوں ہی نہ ہوتے۔

انہوں نے قومی جرائم ریکارڈ بیورو کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دلت مظالم کے معاملات میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دو ہزار بائیس کے بعد حکومت دلت مظالم کا تازہ ڈیٹا عوام کے سامنے لانے سے گریز کر رہی ہے، جو شفافیت پر سنگین سوال کھڑے کرتا ہے۔ راجندر گوتم نے مودی حکومت اور وزارت داخلہ کو مکمل طور پر ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کا سارا دھیان انتخابات، اقتدار اور سیاسی فائدے پر مرکوز ہے، جبکہ کمزور طبقات کے تحفظ کے آئینی فرائض کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنا شہریوں کا بنیادی حق ہے اور حکومت کی جانب سے مظاہروں پر پابندیاں عائد کرنا آئین کے منافی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ذات اور مذہب سے بالاتر ہو کر قانون کو یکساں طور پر نافذ کیا جائے اور دلت مظالم کے معاملات میں فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ راجندر گوتم نے دلت مظالم جا رہا ہے کیا جا

پڑھیں:

امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔

دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔

دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔

دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان