بھارت میں نفرت کا زہر گھولا جارہا ہے جیسا کہ اترپردیش میں دلت مظالم عروج پر ہیں، راجندر گوتم
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
کانگریس لیڈر نے کہا کہ اترپردیش میں حالات سب سے زیادہ تشویشناک ہیں، جہاں ریاستی وسائل، پولیس اور انتظامیہ کا استعمال کھلے عام دلتوں، آدیواسیوں، پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کو دبانے کیلئے کیا جارہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کانگریس دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے ایس سی ڈپارٹمنٹ کے قومی صدر راجندر گوتم نے الزام لگایا کہ ملک میں ذات اور مذہب کی بنیاد پر نفرت کو منظم طریقے سے بڑھایا جا رہا ہے اور یہ سب کچھ بی جے پی حکومتوں کی سرپرستی میں ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف حکومت "وشو گرو" اور "وکست بھارت" کے دعوے کر رہی ہے، جبکہ دوسری طرف زمینی حقیقت یہ ہے کہ سماج کو نفرت، تشدد اور تفریق کی آگ میں جھونکا جا رہا ہے۔ راجندر گوتم نے کہا کہ اترپردیش میں حالات سب سے زیادہ تشویشناک ہیں، جہاں ریاستی وسائل، پولیس اور انتظامیہ کا استعمال کھلے عام دلتوں، آدیواسیوں، پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کو دبانے کے لئے کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت کی زیرو ٹالرینس پالیسی دراصل ذات اور مذہب دیکھ کر نافذ ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دلتوں کے خلاف جرائم میں نہ تو بروقت کارروائی ہوتی ہے اور نہ ہی انصاف نظر آتا ہے، جبکہ ملزم اگر کمزور طبقے سے ہو تو چوبیس گھنٹے کے اندر بلڈوزر کارروائی شروع ہو جاتی ہے۔ انہوں نے میرٹھ کے دل دہلا دینے والے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ایک لڑکی اپنی ماں کے ساتھ جنگل کی طرف جا رہی تھی، جہاں اسے اغوا کر لیا گیا۔ ماں نے جب بیٹی کو بچانے کی کوشش کی تو اس پر حملہ کر کے بے رحمی سے قتل کر دیا گیا۔ راجندر گوتم نے کہا کہ جب کانگریس کے نمائندے متاثرہ خاندان سے ملنے گئے تو پولیس نے انہیں راستے میں روک لیا اور کئی گھنٹے تک انتظار کرانے کے بعد بھی ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اگر پولیس اتنی ہی مستعدی مجرموں کو گرفتار کرنے اور سزا دلانے میں دکھائے، جتنی اپوزیشن کو روکنے میں دکھاتی ہے، تو ایسے جرائم سرے سے ہوں ہی نہ ہوتے۔
انہوں نے قومی جرائم ریکارڈ بیورو کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دلت مظالم کے معاملات میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دو ہزار بائیس کے بعد حکومت دلت مظالم کا تازہ ڈیٹا عوام کے سامنے لانے سے گریز کر رہی ہے، جو شفافیت پر سنگین سوال کھڑے کرتا ہے۔ راجندر گوتم نے مودی حکومت اور وزارت داخلہ کو مکمل طور پر ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کا سارا دھیان انتخابات، اقتدار اور سیاسی فائدے پر مرکوز ہے، جبکہ کمزور طبقات کے تحفظ کے آئینی فرائض کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنا شہریوں کا بنیادی حق ہے اور حکومت کی جانب سے مظاہروں پر پابندیاں عائد کرنا آئین کے منافی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ذات اور مذہب سے بالاتر ہو کر قانون کو یکساں طور پر نافذ کیا جائے اور دلت مظالم کے معاملات میں فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ راجندر گوتم نے دلت مظالم جا رہا ہے کیا جا
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔