دنیا کے تمام اہل حریت رہبر معظم سید علی خامنہ ای و تشیع کے شکرگزار ہیں، ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی رہنما نے کہا کہ آج کے دور میں امت مسلمہ کی وہ نڈر قیادت جو سیدنا ابراہیمؑ، سیدنا موسیٰؑ، سیدنا امام حسینؑ کی تاریخ کو زندہ کر رہی ہے، تو وہ رہبر معظم سید علی خامنہ ای ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی رہنما ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی کا کہنا ہے کہ دنیا کے تمام اہل حریت رہبر معظم سید علی خامنہ ای و تشیع کے شکرگزار ہیں، جنہوں نے جرأتوں کا راستہ اپنایا ہے، آج کے دور میں امت مسلمہ کی وہ نڈر قیادت جو سیدنا ابراہیمؑ، سیدنا موسیٰؑ، سیدنا امام حسینؑ کی تاریخ کو زندہ کر رہی ہے، تو وہ رہبر معظم سید علی خامنہ ای ہیں، صہیونیت نواز میڈیا رہبر معظم سید علی خامنہ ای کیخلاف پروپیگنڈا کرتا ہے، لیکن الحمداللہ رہبر معظم آج ہر مسلمان کے دل کے اندر بستے ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے حامیان مظلومین جہان کراچی کے زیر اہتمام یاد شہدائے مقاومت و حمایت مظلومین جہان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی نے کہا کہ اگر اس دنیا میں کوئی ایسی قیادت موجود ہے جو آج عالمی سامراجی صہیونی نظام کو چیلنج کر رہی ہے، تو وہ خدا کی قسم روس اور چین میں نہیں بلکہ سرزمین ایران میں موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج روئے زمین پر تمام اہل حریت شکر گزار ہیں مکتب تشیع کے، رہبر معظم سید علی خامنہ ای کے، جنہوں نے جرأتوں کا راستہ اپنایا ہے، جنہوں نے اپنے سے بے تحاشا بڑے دشمنوں کو للکارا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت امام خمینیؒ نے ایران میں ایسا انقلاب اسلامی برپا کیا، جس نے ساری دنیا کی آنکھیں کھول دیں، آج کا باطل و کفر اس پر شدید پریشان ہے۔
ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی نے کہا کہ میں پاکستان کے اندر گواہی دیتا ہوں کہ 1979ء سے پہلے سارے شیعہ مسلمان تھے، لیکن جب ایران میں انقلاب اسلامی آیا تو پاکستان کے اندر نعرے لگنے شروع ہوگئے، وہ جو مسلمان تھے انہیں کافر قرار دیا جانے لگا، ہمیں پہچاننا ہوگا کہ فرقہ واریت کی ڈوریں کہاں سے ہل رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نمرود نے خدائی اعلان کیا تھا، سیدنا حضرت ابراہیمؑ اکیلے ڈٹ گئے تھے، فرعون نے بھی خدائی کا اعلان کیا تھا، سیدنا موسیٰؑ سامنے آئے تھے، خلافت کو ملوکیت میں تبدیل کرنے والے یزید کے سامنے سیدنا امام حسینؑ ڈٹ کر کھڑے ہوئے تھے، آج کے دور میں امت مسلمہ کی وہ نڈر قیادت جو سیدنا ابراہیمؑ، سیدنا موسیٰؑ، سیدنا امام حسینؑ کی تاریخ کو زندہ کر رہی ہے، تو وہ رہبر معظم سید علی خامنہ ای ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایران کو سلام پیش کرتے ہیں کہ ساری دنیا کی پابندیوں کے باوجود اس نے ناصرف معیشت کو چلایا ہے اس کے ساتھ ساتھ دفاع کو بھی ناقبل تسخیر بنایا ہے، سائنس و ٹیکنالوجی کے اندر آگے بڑھ رہا ہے، ایران نے بے شمار علوم میں ہوری مسلم دنیا میں تحقیق کے میدان میں اپنا لوہا منوایا ہے۔
مرکزی رہنما جماعت اسلامی نے کہا کہ وینزویلین صدر مادورو کو اغوا کرنے والی امریکی ڈیلٹا فورس کو پہلی ناکامی ایران کے اندر ہوئی تھی، جہاں وہ اپنے مغوی سفارتکاروں کو چھڑانے آئے لیکن ناکام ہوئے، ان کے ہیلی کاپٹر آپس میں ٹکرا کر تباہ ہوگئے تھے، وہ اپنی لاشیں چھوڑ کر بھاگے تھے، امریکا اگر دوبارہ تجربہ کرنا چاہا ہے تو یاد رکھے 80-1979ء کی تاریخ دوبارہ دہرائی جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ صہیونیت نواز میڈیا رہبر معظم سید علی خامنہ ای کیخلاف پروپیگنڈا کرتا ہے، لیکن الحمداللہ رہبر معظم آج ہر مسلمان کے دل کے اندر بستے ہیں، جن کی حفاظت رب العالمین کرے اس چراغ کو پھونکوں سے نہیں بھجایا جا سکتا، شہدائے مقاومت فکر امام خمینیؒ کے سپاہی تھے، یہ لشکر مقاومت نہیں رکے گا، ان شاء اللہ اس دنیا میں طاغوت کا نظام باقی نہیں رہے گا، امریکا اسرائیل سمیت تمام طاغوتی باطل قوتوں کو شکست فاش ہوگی۔
اسلامک ریسرچ سینٹر فیڈرل بی ایریا میں منعقدہ کانفرنس سے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ سید حسن ظفر نقوی، مجلس ذاکرین امامیہ پاکستان کے سربراہ علامہ نثار احمد قلندری، جمعیت علمائے پاکستان کے مرکزی رہنما علامہ عقیل انجم قادری، فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے مرکزی جنرل سیکریٹری ڈاکٹر صابر ابو مریم، ایم ڈبلیو ایم سندھ کے رہنما علامہ حیات عباس نجفی و دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا، جبکہ معروف شاعر و ادیب فراست رضوی نے شہدائے مقاومت و مظلومین جہان سے متعلق اپنی خصوصی نظمیں پیش کیں۔ کانفرنس میں بڑی تعداد خواتین سمیت شہریوں نے شرکت کی۔ کانفرنس میں نظامت کے فرائض علامہ مبشر حسن نے انجام دیئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: رہبر معظم سید علی خامنہ ای ڈاکٹر معراج الہدی پاکستان کے مرکزی انہوں نے کہا کہ کر رہی ہے کی تاریخ کے اندر
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔