پاکستان کے فاسٹ بولر احسان اللہ نے اپنی برق رفتار بولنگ سے بیٹرز کو پریشان کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
پاکستان کے فاسٹ بولر احسان اللہ نے بنگلادیش پریمیئر لیگ (بی پی ایل) میں اپنی برق رفتار بولنگ سے بیٹرز کو پریشان کر دیا۔
نوکھالی ایکسپریس کی نمائندگی کرتے ہوئے انہوں نے ڈھاکا کیپٹلز کے خلاف شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔میچ میں نوکھالی ایکسپریس نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 184 رنز بنائے۔ ہدف کے تعاقب میں ڈھاکا کیپٹلز کی ٹیم احسان اللہ کی تیز رفتار بولنگ کے سامنے بے بس نظر آئی اور پوری ٹیم 143 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔
احسان اللہ نے چار اوورز کی اسپیل میں 32 رنز دے کر دو اہم وکٹیں حاصل کیں۔ ان کی تیز رفتار گیندوں کا سامنا افغانستان کے اوپنر بیٹر رحمان اللہ گرباز نے بھی کیا جنہیں گیندیں سنبھالنا مشکل ہو گیا اور متعدد بار وکٹ کیپر کے دستانوں میں گیند گئی۔
فاسٹ بولر نے سیف اللہ کو صفر پر پویلین واپس بھیجا جبکہ عبداللہ علی صرف دو رنز بنا کر احسان اللہ کا شکار بنے۔ احسان اللہ کی اس عمدہ کارکردگی نے نہ صرف نوکھالی ایکسپریس کی فتح میں اہم کردار ادا کیا بلکہ بی پی ایل میں ان کی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار بھی کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: احسان اللہ
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔