انصاف برائے فروخت نہیں ہونا چاہیئے، عدلیہ آزاد ہوگی تو ہی ملک چلے گا، سہیل آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
مزارِ قائد پر تاثراتی نوٹ میں وزیر اعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے افکار آج بھی پاکستان کے لیے مشعلِ راہ ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ قوم اور ریاستی ادارے قائداعظم کے اصولوں پر عمل کریں تاکہ ملک آئینی راستے پر آگے بڑھے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر اعلی خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کے سندھ کے چار روزہ دورے کے آخری دن کا آغاز مزارِ قائد پر حاضری سے ہوا۔ وزیر اعلی پی ٹی آئی کی مرکزی و صوبائی قیادت کے ہمراہ مزارِ قائد پہنچے جہاں انہوں نے فاتحہ خوانی کی اور پھولوں کی چادر چڑھائی۔ اس موقع پر پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل بیریسٹر سلمان اکرم راجہ، پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ، عمر ڈار، ریحانہ ڈار، نعیم حیدر پنجوتہ، شفیع جان، شوکت بسرا، محمد علی بلوچ اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔ مزارِ قائد پر تاثراتی نوٹ میں وزیر اعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے افکار آج بھی پاکستان کے لیے مشعلِ راہ ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ قوم اور ریاستی ادارے قائداعظم کے اصولوں پر عمل کریں تاکہ ملک آئینی راستے پر آگے بڑھے۔
بعد ازاں وزیر اعلی خیبرپختونخوا پی ٹی آئی قیادت کے ہمراہ سندھ ہائی کورٹ پہنچے جہاں سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک کے بعد قومی ترانے سے ہوا۔ صدر سندھ ہائی کورٹ بار ایڈووکیٹ محمد حسیب جمالی نے وزیر اعلی خیبرپختونخوا کو اجرک، سندھی ٹوپی اور اعزازی شیلڈ پیش کی۔ سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ وہ وکلا برادری سے براہِ راست گفتگو کر رہے ہیں۔ انہوں نے سندھ کے عوام کو بہادر، جرات مند اور مہمان نواز قرار دیتے ہوئے کہا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ موجودہ سندھ حکومت نے مہمانوں کے ساتھ مناسب رویہ اختیار نہیں کیا اور سندھی ثقافت کی علامت اجرک اور ٹوپی کی بھی عزت نہیں رکھی۔
وزیر اعلی نے کہا کہ آج ملک میں آئین و قانون کے ساتھ کھلواڑ ہو رہا ہے، اداروں کو کمزور کیا جا رہا ہے اور اس کا خمیازہ پورا پاکستان بھگت رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے جیسے قومی ادارے نیلام کر دیے گئے جبکہ انصاف کو بھی خرید و فروخت کی شے بنا دیا گیا ہے، حالانکہ انصاف کبھی برائے فروخت نہیں ہونا چاہیے۔انہوں نے انکشاف کیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججز نے انہیں عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی، مگر ایک جیل سپرنٹنڈنٹ نے عدالتی حکم کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا۔ وزیر اعلی کے مطابق یہ ان کی ذاتی توہین نہیں بلکہ عدلیہ اور وکلا کے مقدس پیشے کی بے توقیری ہے۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ آئین پاکستان شہری کو تمام حقوق دیتا ہے، مگر جب تمام راستے بند کر دیے جائیں تو احتجاج کے سوا کوئی راستہ نہیں بچتا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: وزیر اعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ پی ٹی آئی انہوں نے
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :