سابق ٹیسٹ کرکٹر محمد الیاس کو سپرد خاک کر دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
سابق ٹیسٹ کرکٹر محمد الیاس کو آہوں اور سسکیوں کے ساتھ سپرد خاک کر دیا گیا،نماز جنازہ گلبرگ غالب مارکیٹ کی جامع مسجد میں ادا کر دی گئی جس میں سابق قومی کپتان سمیت متعدد کرکٹرز اور قریبی رشتہ دار شریک ہوئے۔
پی سی بی کی سلیکشن کمیٹی کے سابق سربراہ اور ٹیسٹ کرکٹر محمد الیاس اب ہم میں نہیں رہے، ممتاز کرکٹر کئی دنوں سے جگر کے کینسر میں مبتلا تھے۔محمد الیاس کی نماز جنازہ غالب مارکیٹ گلبرگ کی جامع مسجد میں ادا کی گئی جس میں سابق کپتان مصباح الحق، ذاکر خان، ہمایوں فرحت سمیت متعدد کرکٹرز اور قریبی رشتہ داروں نے شرکت کی۔
محمد الیاس نے دس ٹیسٹ میچز میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ 82 فرسٹ کلاس میچز میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ پی سی بی کی سلیکشن کمیٹی کے سربراہ کے طور پر بابر اعظم، عمر اکمل سمیت کئی باصلاحیت کرکٹرز کو پہلی بار پاکستان ٹیم کے لیے منتخب کیا۔محمد الیاس نے جونیئر اور ویمن ٹیم کے لیے بھی چیف سلیکٹر کی ذمہ داریاں نبھائیں۔
وہ سابق ٹیسٹ کرکٹر عمران فرحت کے سسر بھی تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ٹیسٹ کرکٹر محمد الیاس
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ