data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی( اسٹاف رپورٹر) مرکزی نائب امیرجماعت اسلامی و سابق پارلیمانی لیڈر لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ سیاست کو بندگلی سے نکالنے کے لیے قومی قیادت کو آگے بڑھ کر آئین وقانون کی حکمرانی اورجمہوریت کی بالادستی سمیت ملک کو معاشی سیاسی بحرانوں سے نکالنے کے لیے ذاتی مفادات سے بالاترہوکرسرجوڑ کربیٹھنا ہوگا۔ہرجماعت کو جلسہ سیاسی سرگرمیوں کے ذریعے عوام تک اپنا پیغام پہنچانے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔امریکا کے دنیا کو فتح کرنے کے جارہانہ عزائم سے عالمی امن کو خطرہ ہے۔غزہ میں انسانیت کے قتل عام کے سرپرست صدرٹرمپ کا اپنی فوج کو جب جہاں چاہے حملے کرنے کا بیان اس کو نوبل انعام کے لیے نامزدکرنے والے حکمرانوں کے لیے لمحہ فکر ہے۔غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی پرخاموش تماشائی اورایران میں احتجاجی مظاہروں پرعوام کی فکر سے امریکا سمیت طاغوتی قوتوں کا منافقانہ کرادار بے نقاب ہوچکا ہے۔’’بدل دو نظام ‘‘ ایک نعرہ نہیں بلکہ تحریک کا نام ہے۔نظام وقیادت کی تبدیلی سے ہی ملک وقوم کی تقدیر کو بدلاجاسکتا ہے جس کے لیے جماعت اسلامی روزاول سے جدوجہد کر ہی ہے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے قبا آڈیٹوریم میں نظم صوبہ کے اجلاس سے خطاب کے دوران کیا۔صوبائی امیرکاشف سعید شیخ،سینئررہنما اسداللہ بھٹوودیگرصوبائی ذمے داران بھی موجود تھے۔ لیاقت بلوچ نے مینارپاکستان پرمنعقدہ اجتماع عام اوربدل دونظام کو مہم کی آگاہی بھی دی۔ان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی گزشتہ 17سال سے تسلسل کے ساتھ سندھ میں حکمرانی کر رہی ہے مگر وہ عوام کو ڈاکوراج سے نجات سمیت صحت، تعلیم،صاف پانی اورامن جیسی بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے ۔سندھ میں گیس بجلی پیٹرول کوئلہ کی دولت کے باوجود غربت وفلاس ومحرومیوں کے ڈیرے کیوں ہیں؟ مرکزی رہنما لیاقت بلوچ نے میڈیا سیل سندھ کے دورے پربات چیت کرتے ہوئے کہاکہ ملک کو مثبت سرگرمی کی ضرورت ہے، قومی مکالمے کی طرف اہم قدم اٹھایا گیا شکوک و شبہات میں کوئی ایک دوسرے کی بات سننے کو تیار نہیں، سیاسی استحکام ملک کی ضرورت ہے، سیاسی رہنمائوں، خواتین کی رہائی ہونی چاہیے، سزائوں سے کشیدگی بڑھ رہی ہے، درجہ حرارت کو کم کرنا ضروری ہے، الیکشن کمیشن آزاد ہونا چاہیے اس کا مینڈیٹ تسلیم کیا جانا چاہیے، اسی سے پائیدار جمہوریت کا راستہ نکلے گا، سیاست کو بند گلی سے نکالنے کے لیے ترجیحی اقدامات کیے جائیں۔جماعت اسلامی کسی انتخابی اتحاد کا حصہ نہیں بنے گی۔البتہ آئین وقانون کی حکمرانی جمہوریت کی بالادستی اورملک وقوم کو مسائل کی دلدل سے نکالنے کے لیے ہرفورم پراپنا حق ادا کرے گی۔اس موقع پر صوبائی سیکرٹری اطلاعات مجاہدچنا نے سندھی ماہنامہ وینجھار کا تازہ شمارہ نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ کو پیش کیا۔
لاہور(نمائندہ جسارت) لیاقت بلوچ سیکرٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل پاکستان کی زیر صدارت منصورہ میں اجلاس منعقد ہوا جس میں پیر سید محمد صفدر شاہ گیلانی،نذیر احمد
جنجوعہ،سید عبد الوحید شاہ، سید لطیف الرحمن شاہ،مولانا نعیم بادشاہ ،فرحان شوکت ہنجرا شریک ہوئے جبکہ سید ضیا اللہ شاہ بخاری ،حافظ عبد الغفار روپڑی،سید اسد عباس نقوی سید اسامہ شاہ بخاری اور مولانا عبد الوحید روپڑی نے زوم پر شرکت کی۔لیاقت بلوچ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ کا جارحانہ بدمعاشی والا رول پہلے امت مسلمہ کے لیے تھا، اب دیگر آزاد ممالک بھی زد میں آ گئے ہیں۔ ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک بھی محفوظ نہیں رہ سکے گا، امریکا آزاد خودمختار ممالک کے لیے بڑا خطرہ بن گیا ہے۔ لیاقت بلوچ نے کہاکہ ایران میں رجیم چینج امریکی اسرائیلی ہدف ہے، فلسطین کی صورتحال خراب سے خراب تر ہو رہی ہے۔ انھوں نے کہاکہ ملی یکجہتی کونسل کا آئندہ اجلاس کل 14 جنوری کو اسلام آباد میں ہوگا۔ ملی یکجہتی کونسل اتحاد امت کے لیے اپنا رول ادا کرے گی، اس کونسل کے قیام کا مقصد آپس میں اتحاد اخوت بھائی چارے کا فروغ ہے۔

اسٹاف رپورٹر.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سے نکالنے کے لیے لیاقت بلوچ نے

پڑھیں:

فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ

دنیا ایک بار پھر ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں ایک غلط فیصلہ، ایک غلط اندازہ یا ایک بے قابو فوجی کارروائی پورے مشرقِ وسطی کو جنگ کی آگ میں جھونک سکتی ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری عسکری کشیدگی اب صرف دو ممالک کا تنازع نہیں رہی بلکہ اس کے اثرات پورے خطے اور عالمی معیشت تک پھیلنے لگے ہیں۔ ایسے نازک ماحول میں ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی کا اسلام آباد کا دورہ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ان کی ون آن ون ملاقات معمول کی سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ ایک اہم علاقائی پیش رفت کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔اطلاعات کے مطابق اس ملاقات میں خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال، پاک ایران تعلقات، سرحدی تعاون اور موجودہ جنگی ماحول پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اگرچہ ملاقات کی مکمل تفصیلات سرکاری سطح پر جاری نہیں کی گئیں، تاہم اس وقت کا انتخاب خود اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان کو خطے میں ایک اہم رابطہ کار اور ممکنہ ثالث کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔اگر ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ مزید پھیلتی ہے تو اس کے اثرات خلیج تک محدود نہیں رہیں گے۔ بحیرہ احمر، آبنائے ہرمز، عراق، شام، لبنان اور یمن پہلے ہی کشیدگی کا شکار ہیں۔ اگر اس تنا میں حوثی تحریک اور سعودی عرب براہِ راست آمنے سامنے آ جاتے ہیں تو پورا خطہ ایک نئے بحران میں داخل ہو سکتا ہے۔ ایسی صورتِ حال میں کئی علاقائی اور عالمی طاقتوں کے مفادات ایک دوسرے سے ٹکرا سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں جنگ کا دائرہ غیر معمولی حد تک وسیع ہونے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ایسی صورتِ حال لازما “منی ورلڈ وار” میں تبدیل ہو جائے گی، لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اگر متعدد علاقائی اور بین الاقوامی فریق براہِ راست اس تنازع میں شامل ہو گئے تو اس کے اثرات عالمی سلامتی، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت پر انتہائی گہرے ہوں گے۔ایسے حالات میں پاکستان کی اہمیت کئی وجوہات کی بنا پر بڑھ جاتی ہے۔ پاکستان کے ایران، سعودی عرب، چین، امریکہ اور دیگر مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی روابط موجود ہیں۔ یہی متوازن تعلقات اسلام آباد کو ایسے ممالک میں شامل کرتے ہیں جو کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔گزشتہ مہینوں میں بھی پاکستان نے سفارتی سطح پر ایران اور امریکہ کے درمیان رابطوں کی حمایت اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کا اظہار کیا تھا۔ اب جبکہ ایرانی وزیر داخلہ براہِ راست اسلام آباد پہنچے ہیں اور انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سمیت پاکستانی قیادت سے ملاقاتیں کی ہیں، تو یہ تاثر مزید مضبوط ہوا ہے کہ پاکستان کو خطے میں ایک اہم شراکت دار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔فیلڈ مارشل عاصم منیر کی عسکری اور سفارتی سطح پر ہونے والی سرگرمیوں پر بھی خطے کے دارالحکومتوں کی نظریں مرکوز ہیں۔ اگرچہ کسی نئی ثالثی یا معاہدے کے بارے میں ابھی تک کوئی سرکاری اعلان سامنے نہیں آیا، تاہم پاکستان کے لیے یہ ایک اہم موقع ہے کہ وہ اپنے متوازن خارجہ تعلقات کو امن کے فروغ کے لیے استعمال کرے۔دنیا کو اس وقت جنگی نعروں سے زیادہ امن کے پیغام کی ضرورت ہے۔ مشرقِ وسطی پہلے ہی کئی دہائیوں سے تنازعات کا شکار ہے، اور ایک نئی وسیع جنگ نہ صرف لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہے بلکہ عالمی معیشت، تیل کی فراہمی اور بین الاقوامی استحکام کو بھی شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔آج اسلام آباد صرف ایک دارالحکومت نہیں بلکہ امید کی ایک ممکنہ کرن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اگر پاکستان اپنی سفارتی صلاحیت، متوازن پالیسی اور تمام فریقوں کے ساتھ موجود روابط کو مثر انداز میں بروئے کار لاتا ہے تو وہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں ایک مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔تاریخ میں بعض اوقات جنگیں طاقت سے نہیں بلکہ بروقت سفارت کاری سے رکی ہیں۔ شاید یہ بھی ایسا ہی ایک لمحہ ہے، جہاں بندوقوں کی گھن گرج سے زیادہ اہمیت مذاکرات کی میز کو حاصل ہو سکتی ہے۔مشرقِ وسطی کی موجودہ جنگ کا سب سے خطرناک پہلو صرف میزائلوں کا تبادلہ نہیں بلکہ عالمی توانائی کی شہ رگوں پر منڈلاتا ہوا خطرہ ہے۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی پہلے ہی عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ چکی ہے اور اگر حالات مزید بگڑتے ہیں یا وہاں سے تیل کی ترسیل بری طرح متاثر ہوتی ہے، جبکہ دوسری طرف باب المندب بھی حوثی کارروائیوں کے باعث غیر محفوظ ہو جاتا ہے، تو دنیا ایک غیر معمولی تیل و گیس بحران سے دوچار ہو سکتی ہے۔پاکستان کے لیے یہ خطرہ محض عالمی خبروں تک محدود نہیں۔ سعودی عرب سے آنے والے خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کا ایک اہم حصہ بحیرہ احمر اور باب المندب کے بحری راستے سے گزرتا ہے۔ اگر ان آئل ٹینکروں پر حملے شروع ہو جاتے ہیں یا جہاز رانی شدید متاثر ہوتی ہے تو پاکستان کو ایندھن کی سپلائی، درآمدی لاگت، مہنگائی، زرمبادلہ کے ذخائر اور توانائی کے بحران جیسے سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔اسی لیے پاکستان اس وقت ایک انتہائی نازک سفارتی توازن پر کھڑا ہے۔ ایک طرف ایران ہمارا برادر اور ہمسایہ اسلامی ملک ہے، دوسری طرف سعودی عرب پاکستان کا دیرینہ دوست، اہم اقتصادی شراکت دار اور توانائی کی ضروریات پوری کرنے والا بڑا ملک ہے۔ اسلام آباد کے لیے دونوں ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات برقرار رکھنا محض خارجہ پالیسی نہیں بلکہ قومی سلامتی اور اقتصادی استحکام کا تقاضا ہے۔ایران اور یمن کے حوثی رہنماں کو بھی پاکستان کی اس مجبوری اور حساس پوزیشن کا ادراک ہونا چاہیے۔ اگر ایسے اقدامات کیے جاتے ہیں جن سے پاکستان آنے والے توانائی کے بحری راستے متاثر ہوں یا پاکستان کے مفادات براہِ راست خطرے میں پڑ جائیں، تو خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور غیر متوقع رخ اختیار کر سکتی ہے۔ ایسی صورت میں صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پورا مشرقِ وسطی ایک وسیع تر بحران کی لپیٹ میں آ سکتا ہے، جس کے اثرات ایشیا، یورپ اور عالمی معیشت تک محسوس کیے جائیں گے۔یہی وجہ ہے کہ آج دنیا کی نظریں ایک مرتبہ پھر اسلام آباد پر لگی ہوئی ہیں۔ اگر پاکستان اپنی متوازن سفارت کاری، علاقائی اعتماد اور تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ موجود روابط کو مثر انداز میں استعمال کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو ممکن ہے کہ وہ ایک بار پھر جنگ کے شعلوں کو پھیلنے سے روکنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں مثبت کردار ادا کر سکے۔ کیونکہ اگر یہ تنازع مزید پھیل گیا تو اس کی تپش صرف خلیج تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پورا خطہ واقعی آگ کے الا میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ