فلسطینی نژاد مصنفہ کے ادبی میلہ سے اخراج پر احتجاج، 180 مصنفین کا شرکت سے انکار، فیسٹیول بورڈ ارکان مستعفی
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
آسٹریلیا میں ایڈیلیڈ رائٹرز ویک 2026 کو شدید تنازع اور احتجاج کے بعد باضابطہ طور پر منسوخ کر دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب فلسطینی نژاد آسٹریلوی مصنفہ رندا عبدالفتاح کو پروگرام سے نکالنے کے خلاف 180 سے زائد مصنفین اور مقررین نے احتجاجاً شرکت سے انکار کردیا۔
فیسٹیول بورڈ کا اعلان اور استعفےمنگل کی سہ پہر جاری بیان میں ایڈیلیڈ فیسٹیول بورڈ نے اعلان کیا کہ یہ ادبی میلہ، جو 28 فروری سے شروع ہونا تھا، اب منعقد نہیں کیا جائے گا۔ بیان کے مطابق فیسٹیول بورڈ کے باقی ماندہ 3 ارکان نے فوری استعفیٰ دے دیا، جبکہ اس سے قبل 4 ارکان پہلے ہی مستعفی ہو چکے تھے۔ صرف ایڈیلیڈ سٹی کونسل کے نمائندے نے استعفیٰ نہیں دیا، جن کی مدت فروری میں ختم ہو رہی ہے۔
تنازع کی ابتدا کیسے ہوئی؟یہ بحران اس وقت شروع ہوا جب فیسٹیول بورڈ نے 5 روز قبل اعلان کیا کہ اس نے مداخلت کرتے ہوئے رندا عبدالفتاح کو فیسٹیول میں شرکت سے روک دیا ہے۔ بورڈ نے اس فیصلے کی وجہ سڈنی کے علاقے بونڈی میں یہودی برادری پر ہونے والے حملے کے بعد پیدا ہونے والی ثقافتی حساسیت کو قرار دیا تھا۔
بورڈ کی معذرت، مگر فیصلہ برقرارمنگل کو بورڈ نے ایک بیان میں رندا عبدالفتاح سے اس فیصلے کو جس انداز میں پیش کیا گیا، اس پر معذرت کی، تاہم فیصلہ واپس نہیں لیا۔
یہ بھی پڑھیے برطانوی پابندی کے باوجود آئرش مصنفہ سیلی رونی کی فلسطین ایکشن کے ساتھ یکجہتی
بورڈ نے کہا کہ یہ معاملہ شناخت یا اختلافِ رائے کا نہیں بلکہ آسٹریلیا کی تاریخ کے بدترین دہشتگرد حملے کے بعد قومی سطح پر اظہارِ رائے کی آزادی پر ہونے والی بحث کے تناظر میں سامنے آنے والی صورتِ حال کا ہے۔
بورڈ کے مطابق یہ قدم ایک متاثرہ کمیونٹی کے احترام میں اٹھایا گیا، لیکن اس کے برعکس اس فیصلے نے مزید تقسیم کو جنم دیا، جس پر ہمیں دلی افسوس ہے۔
بائیکاٹ کے بعد ایونٹ ناممکنبورڈ نے مزید کہا کہ کئی مصنفین نے اعلان کیا کہ وہ اب ایڈیلیڈ رائٹرز ویک 2026 میں شریک نہیں ہوں گے، اس لیے فیسٹیول کا انعقاد ممکن نہیں رہا۔ یہ ایک انتہائی افسوسناک نتیجہ ہے۔
بورڈ نے سامعین، فنکاروں، لکھاریوں، عطیہ دہندگان، کارپوریٹ شراکت داروں، حکومت اور اپنے عملے سے بھی معذرت کی۔
رندا عبدالفتاح نے معذرت مسترد کر دیرندا عبدالفتاح نے اپنے بیان میں فیسٹیول بورڈ کی معذرت کو مسترد کرتے ہوئے اسے بے خلوص قرار دیا اور کہا کہ یہ زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ بورڈ کو افسوس فیصلے پر نہیں بلکہ اس پیغام پر ہے جس میں مجھے نکالنے کا اعلان کیا گیا۔
’مجھے قومی مکالمے سے باہر کیا جا رہا ہے‘رندا عبدالفتاح نے کہا کہ ایک فلسطینی آسٹریلوی مسلمان خاتون کے طور پر مجھے یہ بتایا جا رہا ہے کہ میں قومی مکالمے کا حصہ نہیں بن سکتی، جو انتہائی توہین آمیز اور نسل پرستانہ رویہ ہے۔
یہ بھی پڑھیے ’45 دن ایسے گزرے جیسے 45 سال‘، فلسطینی صحافی کی غزہ میں اپنی رپورٹنگ پر مبنی یادداشتیں شائع
انہوں نے بونڈی حملے سے جوڑے جانے پر بھی شدید اعتراض کیا اور کہا کہ میں اور کوئی فلسطینی اس حملے سے وابستہ نہیں تھا۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہمیں اپنی قوم کے غیرقانونی قبضے اور منظم نسل کشی کے خلاف آواز اٹھانا چھوڑ دینی چاہیے۔ یہ مطالبہ مضحکہ خیز اور شرمناک ہے۔
ڈائریکٹر کا استعفیٰ: ’میں لکھاریوں کو خاموش کرنے کا حصہ نہیں بن سکتی‘یہ بیان ایڈیلیڈ رائٹرز ویک کی ڈائریکٹر لوئیس ایڈلر کے استعفے کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا۔ انہوں نے گارڈین آسٹریلیا میں لکھا ’میں لکھاریوں کو خاموش کرنے کا حصہ نہیں بن سکتی۔‘
ایڈلر نے کہا کہ ایونٹ کی منسوخی ان کے لیے حیران کن نہیں تھی۔
’یہ ناقابلِ عمل ہو چکا تھا۔ 165 سیشنز میں سے صرف 12 میں مکمل پینل باقی رہ گیا تھا۔ 70 فیصد لکھاری پیچھے ہٹ چکے تھے۔‘
انہوں نے کہا کہ زیدی اسمتھ، ایم گیسن، جوناتھن کو جیسے عالمی نام شامل تھے، ساری محنت ضائع ہو گئی۔
’فیسٹیول اسٹیٹ‘ کے لیے مالی نقصانایڈیلیڈ رائٹرز ویک کی منسوخی کے جنوبی آسٹریلیا پر وسیع مالی اثرات متوقع ہیں، جو خود کو فیسٹیول اسٹیٹ کہتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ادبی میلہ آسٹریلیا ایڈیلیڈ رائٹرز ویک 2026 رندا عبدالفتاح.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ادبی میلہ ا سٹریلیا رندا عبدالفتاح رندا عبدالفتاح فیسٹیول بورڈ اعلان کیا نے کہا کہ انہوں نے کے بعد
پڑھیں:
ناتمام (آخری قسط)
ہارون صاحب کی کتاب ’’ناتمام‘‘ میں کچھ غیر معمولی شخصیات کے بارے میں لکھی گئی تحریریں بے حد دلنشین ہیں۔ ایک جگہ لکھتے ہیں ’’کبھی کبھی یہ طالب علم سوچتا ہے سیدنا علی بن عثمان ہجویریؒ کے بعد شاید اقبالؔ ہی وہ مفکر تھے، جنھوں نے امت کے ادبار پر دل سوزی کے ساتھ پیہم تدبر کیا، جس برصغیر میں وہ پیدا ہوئے تھے، اسے الوداع کہا تو وہ بدل چکا تھا، مسلم برصغیر کو امید اور امکان کی راہ دکھانے میں ان کا حصہ کسی بھی شخص سے زیادہ تھا، یہ اقبالؔ ہی تھے، جنھوں نے کہا تھا: جہاں کہیںجہاں میں روشنی ہے، مصطفیؐ کے طفیل ہے یا مصطفی ؐ کی تلاش میں! ۔۔۔۔‘‘
’’سیّد ابوالاعلیٰ نے آخری دنوں میں اقبالؔ سے فیض پایا۔ ان کی وفات پر اپنے مضمون ’’اقبالؔ، میرا نفسیاتی سہارا‘‘ میں لکھا ’قرآنِ کریم ان کے لیے ایک شاہ کلید تھا، تمام بند دروازے جس سے کھل جاتے‘آج کل کے دانشور کیا ہیں کہ مغرب کی چکاچوند نے جنھیں اندھا کردیا، جو یہ نہیں سمجھتے کہ ترقی، علم اور ارتقا، تقلید میں نہیں ہوتا، جہاں جو چیز اچھی ہے، وہ لے لی جاتی ہے اور جو ناقص ہو، وہ ترک کردینی چاہیے اور یہ عالمانِ دین ہیں کہ اکیسویں صدی میں قبائلی عہد میں زندہ رہنے پر مصر ہیں، جنھیں سرکارؐ کا پڑھایا ہوا اولین سبق ہی یاد نہیں۔ غوروفکر، حسنِ کلام، حکمت اور دلیل کے ساتھ مکالمہ، دردمندی اور دل سوزی کے ساتھ تفکّر اور تدبّر درکار ہے۔‘‘
مصنّف قائد اور اقبالؒ کا پھر ایک کالم میں ذکر کرتے ہیں ’’یہ قوم اپنے دو عظیم رہنماؤں کو بھول گئی۔ جناح ایسے تھے کہ عمر بھر تین باتوں کا طعنہ انھیں کبھی نہ دیا گیا۔ کبھی وعدہ نہ توڑا، کبھی مالی بے قاعدگی نہیں، کبھی جھوٹ نہ بولا۔ اقبالؔ ایسے کہ تمام فکری تعصبات سے اوپر اٹھ کر سوچ بچار کیا اور پیہم کیا، تمام خلوص، تمام صلابتِ کردار۔۔ نہیں، فقط سیاست سے ہماری زندگی نہیں بدلے گی، تعلیم، غوروفکر اور حسنِ کردار۔ حضورؐ نے ارشاد فرمایا تھا: اللہ جسے ہدایت دینا چاہے، اپنی آنکھ اس پر کھول دیتا ہے۔ دوسروں کے عیب چننے سے نہیں، حیات اپنی اصلاح سے ثمر بار ہوتی ہے۔‘‘ مصنّف نے کیا دلپذیر باتیں لکھی ہیں جو ہرشعبۂ حیات کے لیڈر کو پڑھنی چاہئیں۔
ناتمام میں مصنف نے بھٹوصاحب کا بھی تجزیہ کیا ہے، لکھتے ہیں ’’بھٹو حیرت انگیز خامیوں اور خوبیوں کا مجموعہ تھے۔ 1965کی جنگ کے ہنگام وہ ایک قوم پرست بن کر ابھرے، جب بھارت کے خلاف ہزار سالہ جنگ کا انھوں نے نعرہ لگایا، غریب آدمی کے احساسات کا انھوں نے ادراک کیا، سندھ اور پنجاب میں وہ ایک مقبول رہنما بن کر ابھرے مگر 1970 کے انتخابی نتائج کو عملاً انھوں نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ شیخ مجیب الرحمٰن کو واضح اکثریت حاصل ہوئی تو جنرل یحییٰ سے انھوں نے گٹھ جوڑ کرلیا اور انتقالِ اقتدار کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئے، ان دو آدمیوں کی ہوسِ اقتدار نے پاکستان کے دولخت ہونے کی بنیاد فراہم کی۔‘‘
پھر لکھتے ہیں ’’ایک راز بھٹو نے پالیا تھا۔ لیڈر وہ شخص ہوتا ہے، جو کسی قوم کی عمیق ترین، سب سے بنیادی اور سب سے بڑی آرزو کو پوری طرح پہچان لے۔ جنگِ ستمبر تک، وہ فیلڈ مارشل ایوب خان کے درباری تھے، کبھی اسے صلاح الدین قرار دیتے اور کبھی ایشیا کا ڈیگال۔ جنگِ ستمبر میں پہلی بار دلوں میں یہ امید جاگی کہ کشمیر پہ دشمن بھارت کا تسلّط تمام ہوسکتا ہے، بھٹو نے اس نجیب آرزو کو پہچانا اور اس کا مظہر بن گئے، اقوامِ متحدہ میں جاری مباحث کے دوران، جن کا ایک ایک لفظ غور سے پڑھا اور سنا جایا کرتا، بھٹو نے بھارت کے ’’میسنے‘‘ وزیرِ خارجہ سردار سورن سنگھ کو مخاطب کرکے کہا: لڑنا پڑا تو کشمیر کے لیے ایک ہزار برس تک بھی ہم لڑیں گے، تبھی وہ ہیرو بن کر ابھرے۔ ہاں! مگر ان کا کوئی عقیدہ نہ تھا، قوم پرست وہ یقیناً تھے اور بے شک انھوں نے پہلی بار Anti Estabhishment پارٹی تشکیل دی مگر خود پسند، اقتدار کے حریص اور نرگسیت کے مارے۔ باقی سب تاریخ ہے"
پاکستانی سیاست کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں’’ پاکستانی سیاست اور معاشرے کا مرض یہ ہے کہ سائنسی اندازِ فکر سے وہ محروم ہے۔ تعصّبات اور جذبات کا غلبہ اس قدر ہے کہ کبھی نفرت چھا جاتی ہے اور کبھی محبت۔ بھٹو صاحب کے مداحوں سے عرض کیجیے کہ بے شک مقبول وہ بہت تھے۔
بجا کہ ملک کو انھوں نے دستور عطا کیا، ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی، جذباتی توازن سے مگر وہ محروم تھے اور پرلے درجے کے انتقام پسند۔ دوسروں کا تو ذکر ہی کیا، اپنی پارٹی کے سیکریٹری جنرل جے رحیم کو پٹوایا۔ قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے رکنِ اسمبلی ملک سلیمان اور ان کے خاندان کی تذلیل کی، اپنے وزیرِ اعلیٰ حنیف رامے کو شاہی قلعے میں قید رکھا۔ پارٹی کے ایک دوسرے لیڈر احمد رضا قصوری پر قاتلانہ حملے میں ان کے والد مارے گئے۔ کوئی نہیں سنتا، کوئی نہیں مانتا۔‘‘
کتاب کے مصنّف، عمران خان کے سب سے بڑے سپورٹر تھے اور شاید اب بھی ہیں مگر اس کتاب میں انھوں نے اس کی خامیاں بھی چھپانے کی کوشش نہیں کی، لکھتے ہیں ’’لاہور میں موسم بہار کی ایک سویر جب میں زمان پارک میں اسے ملنے گیا تو وہ ورزش میں مصروف تھا۔ کچھ دیر کے بعد وہ نمودار ہوا اور ضرورت سے زیادہ پُراعتماد لہجے میں کہا’’اپنے جسم پر بھی آدمی کو سرمایہ کاری کرنی چاہیے‘‘ ۔ ’’جی ہاں‘‘۔ عرض کیا ’’اپنے ذہن پر بھی‘‘۔ اسے دھچکا لگا ’’تمہارا مطلب یہ ہے کہ میں نے ذہن پہ سرمایہ کاری نہیں کی‘‘۔ ہاں! میں نے جواب دیا ’’میرا مطلب یہی ہے‘‘۔ بدمزہ نہیں، وہ کچھ حیران سا ہوا اور ناشتے میں جُت گیا، پھل، دہی، ڈبل روٹی کے دو ٹکڑے اور بہت سا جوس۔ مجال ہے کہ ایسے میں دوسروں کو وہ دعوت دے‘‘۔
پھر لکھتے ہیں ’’عمران خان اپنی پہاڑ سی غلطیوں کو بھلا کر ظفرمندی کے خواب کا اسیر تھا، 11 مئی کی صبح احسن رشید سے کہا کہ انتخابی نتائج سنتے ہی شوکت خانم اسپتال آجانا کہ جشن منایا جاسکے۔ اپنے بچوں سے لندن میں کہہ آیا تھا کہ اگلی بار وزیراعظم کی حیثیت سے برطانیہ آئے گا۔ نتیجہ نکلا تو صرف اس کی نہیں، پارٹی کے تمام بزر جمہروں کی رائے یہ تھی کہ قبول کرلینا چاہیے۔
الجھے ہوئے ذہن کے ساتھ کئی ماہ وہ مخمصے کا شکار رہا، پارٹی کو ان دنوں دو تین گھنٹے سے زیادہ وقت نہ دیا کرتا۔ شاطروں نے سمجھ لیا کہ اسے الّو بنانے میں کامیاب رہے‘‘۔ ایک اور جگہ لکھتے ہیں ’’ناقابلِ فہم بات یہ ہے کہ دس حلقے کھولنے کی شرط کے ساتھ مفاہمت پہ آمادگی کے بعد تحریکِ انصاف کے سربراہ وزیراعظم کے استعفیٰ کی تاریخیں کیوں دینے لگے؟ نوبت پھر تھرڈ امپائر کی انگلی تک پہنچی، بلا استثنیٰ سبھی کا تاثر یہ تھا کہ کپتان کا اشارہ عسکری قیادت کی طرف ہے۔ کئی دن بعد کپتان نے اعلان کیا کہ ان کی مراد اللہ تعالیٰ سے تھی۔ اللہ تعالیٰ امپائر نہیں، وہ کائنات اور زندگی کا خالق ہے۔ حیات کی تمام حرکیات اور قوانین کا، وہ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ ذاتِ باری تعالیٰ کو کرکٹ کے امپائر سے تشبیہہ دینا پرلے درجے کی بدذوقی اور سطحیت تھی۔ کپتان اگر انھی لوگوں کے زیرِ اثر رہا، جن کے زیرِ اثر ہے تو مستقبل میں بھی اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے‘‘۔
کچھ دوسرے لیڈروں کے بارے میں لکھتے ہیں ’’چوہدری نثار علی میں صلاحیّت بے پایاں تھی مگر روحانی جہت معمولی۔ کھٹ سے اللہ کی رحمت کا دروازہ کھلتا مگر بن مانگے تو گاہے وہ گھاس بھی نہیں دیتا، چہ جائیکہ عظمت ورفعت۔ یوں بھی عظمت غریبوں، دکھ جھیلنے اور ایثار کرنے والوں کے لیے ہوتی ہے۔ چوہدری کہاں، شریف برادران کہاں، ان کے مقاصد محدود ہیں۔ اقتدار کا انبساط، جو دنیا کا سب سے تباہ کن نشہ ہے، جان چھوڑتا ہی نہیں، عزتِ نفس اور شان وشوکت کا ایک سطحی سا تصور۔عمران خان سمیت سبھی کا حال پتلا ہے۔ پانی پت کی تیسری جنگ لڑنے جاتے ہیں اور لشکر سراج الدولہ سے بدتر۔ رہے علّامہ طاہرالقادری تو جرأت ہی نہیں، جسارت ہی نہیں، فقط زورِ خطابت۔ کوئی دن میں غبارہ پھٹ جائے گا‘‘۔
’’اچھی حکمرانی کی بے تاب تمنا بھی بجا۔ بحث بہت ہوچکی۔ سیاست کے قرینوں سے اب ہم آگاہ ہیں مگراس کے لیے سیاست کافی نہیں زندگی جوڑ توڑ سے بہت بڑی ہے۔ علم اور اخلاق کے بغیر معاشرے، اقوام نہیں، ریوڑ ہوتے ہیں۔ علم، اخلاق اور تربیت۔ قرآن کریم اور اس کا صاحب انوار شارع۔۔ اور ہاں جدید علم!‘‘
ہر طبقۂ فکر کے لوگوں خصوصاً سیاست میں دلچسپی رکھنے والوں کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔