میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ واٹر ہائیڈرنٹس کا کنٹریکٹ گزشتہ سال ختم ہوچکا ہے، نئے کنٹریکٹس جاری نہیں کریں گے بلکہ شہریوں کی ٹینکرز سے جان چھڑائیں گے، کراچی میں پانی کی کمی کو متبادل دنوں میں ہر علاقے کو پانی فراہم کر کے پورا کیا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کراچی میں شہریوں کو پانی گھروں میں فراہم کرنے سے متعلق بڑی خبر سامنے آگئی۔ کے ایم سی حکام کے مطابق کراچی میں ٹینکرز اور ہائیڈرنٹس کے ذریعے پانی کی فراہم ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے واٹر کارپوریشن کے اعلیٰ حکم کو متبادل نظام کی ہدایت جاری کردی ہے۔ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ کراچی میں موجود تمام ساتوں ہائیڈرنٹس کو بتدریج ختم کر کے لائنوں کے ذریعے پانی فراہم کریں۔

مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ واٹر ہائیڈرنٹس کا کنٹریکٹ گزشتہ سال ختم ہوچکا ہے، نئے کنٹریکٹس جاری نہیں کریں گے بلکہ شہریوں کی ٹینکرز سے جان چھڑائیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ کراچی میں پانی کی کمی کو متبادل دنوں میں ہر علاقے کو پانی فراہم کر کے پورا کیا جائے گا، ٹینکرز کے ذریعے پانی فراہم کرنا مستقل حل نہیں، شہریوں کو مشکلات ہیں۔ واضح رہے کہ کراچی کے کئی علاقوں میں پانی کی قلت عام ہے جس کے باعث شہریوں کو مہنگے ٹینکر خریدنے پڑتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کے ذریعے پانی پانی فراہم کراچی میں پانی کی

پڑھیں:

گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔

سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔

اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا