متحدہ عرب امارات کی عدالت نے سابق ملازم کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے کمپنی پر بھاری جرمانہ عائد کردیا۔

عرب میڈیا کے مطابق عدالت نے فیصلے میں کہا کہ کمپنی تقریباً 23 ماہ تک ملازم کی ماہانہ تنخواہیں ادا کرنے کا ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہی۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق متاثرہ ملازم نے تنخواہیں نہ ملنے پر سب سے پہلے وزارتِ انسانی وسائل و اماراتائزیشن کی تنازعاتی حل کمیٹی سے رجوع کیا تھا۔

تاہم وہاں معاملہ حل نہ ہوپایا تھا جس پر ملازم نے لیبر کورٹ آف فرسٹ انسٹینس میں مقدمہ دائر کیا اور تقریباً دو سال کی بقایا تنخواہوں کی ادائیگی کا مطالبہ کیا۔

جسے عدالت نے درست قرار دیتے ہوئے کمپنی کو حکم دیا کہ وہ سابق ملازم کو 2 لاکھ 28 ہزار 666 درہم اداکرے۔

عدالت نے حکم دیا کہ ملازمت کے معاہدے میں تنخواہ کی رقم یا نوعیت کا واضح ہونا بے حد ضروری ہے۔

فیصلے میں کہا گیا اگر معاہدے میں تنخواہ واضح نہ ہو تو لیبر تنازع کی صورت میں عدالت کو اس کا تعین کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

عدالت نے مزید واضح کیا کہ قانون کے تحت آجر (کمپنی) پر لازم ہے کہ وہ کہ وزارت کی منظور شدہ نظام کے مطابق وقت پر تنخواہیں ادا کرے۔

فیصلے میں یہ بھی باور کرایا گیا ہے کہ تنخواہ اماراتی درہم میں ادا کی جائے، سوائے اس کہ یہ معاہدے میں کسی اور کرنسی پر باہمی اتفاق ہو۔

عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ وزارت میں رجسٹرڈ تمام اداروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ تنخواہیں ویج پروٹیکشن سسٹم یا دیگر منظور شدہ طریقہ کار کے ذریعے ادا کریں۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر آجر کو تنخواہ کی ادائیگی کا ثبوت فراہم کرنا بھی لازمی ہے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: فیصلے میں عدالت نے

پڑھیں:

کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار

سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔

عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔

3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔

عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔

ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔

دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔

تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔

عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ