ٹی ایل پی سربراہ سعد رضوی اور ان کے بھائی کی گمشدگی کا معما برقرار WhatsAppFacebookTwitter 0 13 January, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )قانون نافذ کرنے والے ادارے تقریبا تین ماہ گزرنے کے باوجود تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ سعد حسین رضوی اور ان کے بھائی انس رضوی کے ٹھکانے کے بارے میں لاعلم ہیں۔یہ معاملہ چند روز قبل اس وقت دوبارہ سامنے آیا جب کالعدم مذہبی تنظیم سے منسوب ایک مبینہ بیان سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگا، جس میں دعوی کیا گیا کہ دونوں بھائی ریاستی اداروں کی تحویل میں ہیں۔

تاہم قانون نافذ کرنے والے سینئر حکام اپنے پہلے مقف پر قائم ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ دونوں بھائی آزاد جموں و کشمیر میں کہیں چھپے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق رضوی برادران اس دن فرار ہوئے جب پنجاب پولیس نے مریدکے میں جی ٹی روڈ پر قائم ٹی ایل پی کے احتجاجی کیمپ کو ختم کرنے کے لیے علی الصبح آپریشن کیا تھا۔ایک سینئر افسر نے کہا کہ وہ یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ سعد اور انس کسی بھی سیکیورٹی ادارے کی تحویل میں نہیں اور تاحال آزاد کشمیر میں موجود ہیں۔

ان کے بقول غالب امکان ہے کہ وہ کالعدم تنظیم کے کسی وفادار کارکن کے پاس پہاڑی علاقوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے مبینہ ٹی ایل پی بیان کو جھوٹا، مضحکہ خیز اور خود ساختہ قرار دیا۔ذرائع کے مطابق بیان وائرل ہونے کے بعد ایک سینئر پنجاب افسر کو وفاقی حکام سے رابطہ کر کے اس دعوے کی تصدیق کی ذمہ داری دی گئی۔پنجاب پولیس نے اسلام آباد میں متعلقہ حکام کو آگاہ کیا کہ اگر سعد اور انس کسی ادارے کی تحویل میں ہوں تو انہیں متعدد مقدمات میں گرفتار کیا جانا چاہیے، تاہم وفاقی حکام نے بتایا کہ دونوں کسی ایجنسی کی تحویل میں نہیں ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں بھائیوں کو سنگین نوعیت کے مقدمات میں انتہائی مطلوب ملزمان قرار دیا جا چکا ہے، جن میں انسداد دہشت گردی کے الزامات بھی شامل ہیں۔حکام کے مطابق سعد اور انس کے خلاف شیخوپورہ میں 44 جبکہ لاہور میں 11 مقدمات درج ہیں، جن میں انہیں نامزد کیا گیا ہے اور الزامات نہایت سنگین نوعیت کے ہیں۔یہ بھی بتایا گیا کہ دونوں روپوش رہنماں کی گرفتاری میں مشکلات اس لیے پیش آ رہی ہیں کیونکہ وہ فون یا دیگر ڈیجیٹل ذرائع استعمال نہیں کر رہے، جس کے باعث ان کے ٹھکانوں کا سراغ لگانا مشکل ہو گیا ہے۔

ایک افسر نے کہا کہ ملک بھر میں تمام نظام متحرک کیے جا چکے ہیں اور متعلقہ ریاستی اداروں نے تصدیق کی ہے کہ ٹی ایل پی کے سربراہ اور ان کے بھائی پاکستان ہی میں موجود ہیں، جب کہ ان کے بیرون ملک فرار ہونے کا امکان مسترد کر دیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پنجاب پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے متعدد ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں۔الزامات کے بارے میں بتایا گیا کہ دونوں بھائیوں نے مبینہ طور پر ٹی ایل پی کارکنوں اور سخت گیر عناصر کو قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں، سرکاری گاڑیوں اور املاک کو نقصان پہنچانے پر اکسایا۔

لاہور اور شیخوپورہ میں ٹی ایل پی کارکنوں کے بار بار حملوں کے دوران ایک ایس ایچ او جاں بحق جبکہ درجنوں اہلکار زخمی ہوئے تھے۔ حکام کے مطابق سعد رضوی اور انس رضوی نے اکتوبر میں لاہور سے اسلام آباد کی جانب غزہ مارچ کی قیادت بھی کی تھی۔دریں اثنا ایف آئی اے نے بھی کارروائی کرتے ہوئے سعد رضوی سے منسوب تقریبا 95 بینک اکانٹس کا سراغ لگایا اور منی لانڈرنگ کے الزامات کے تحت تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمدد پہنچنے والی ہے،ملکی اداروں کا کنٹرول سنبھال لو؛ ٹرمپ کا ایران کے مظاہرین کو پیغام مدد پہنچنے والی ہے،ملکی اداروں کا کنٹرول سنبھال لو؛ ٹرمپ کا ایران کے مظاہرین کو پیغام جس دن باورکرایا گیا کہ این آئی آرسی کی چیئرمین شپ بطور ازالہ دی گئی تو اسی لمحے استعفی دیدیا، شوکت عزیز صدیقی امریکا نے 2026 میں اایک لاکھ سے زائد ویزے منسوخ کردیے ،طلبہ اور مجرمانہ ریکارڈ والے افراد نشانے پر انڈونیشیا پاکستان سے 40 جنگی طیارے خریدنے کے قریب آپکوافغانستان سے ہمدردی ہے تو ادھر چلے جائیں یا ہم آپکو چھوڑ آتے ہیں : طلال چوہدری کی سہیل آفریدی پر تنقید محمد مسعود چشتی 2026 کیلئے پاکستان بار کونسل کے نائب چیئرمین منتخب TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: اور ان کے بھائی رضوی اور ان ٹی ایل پی سعد رضوی

پڑھیں:

بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان

اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔

سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔

حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔

سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔

اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار