ای سی سی نے دفاعی شعبے کیلئے 5 ارب روپے سے زائد کے ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹس کی منظوری دیدی
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
ای سی سی نے دفاعی شعبے کیلئے 5 ارب روپے سے زائد کے ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹس کی منظوری دیدی WhatsAppFacebookTwitter 0 13 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )اقتصادی رابطہ کمیٹی نے دفاعی شعبے کیلئے 5 ارب روپے سے زائد کے ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹس جبکہ پنجاب میں ایس ڈی جیز پروگرام کیلئے 2 ارب روپے جاری کرنے کی منظوری دیدی ، دفاعی اخراجات آئندہ مالی سال سے باقاعدہ بجٹ میں شامل ہوں گے۔
وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب کی زیرصدارت ای سی سی کااجلاس ہوا جس دوران ترقیاتی، دفاعی اور ڈیجیٹل منصوبوں کیلئے اضافی فنڈز کی منظوری دی گئی ، دفاعی شعبے کیلئے 5 ارب روپے سے زائد کے ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹس ، پنجاب میں ایس ڈی جیز پروگرام کیلئے 2 ارب روپے ، خصوصی بچوں کیلئے 15 گاڑیاں خریدنے کیلئے 32 کروڑ روپے جاری کرنے کی منظوری دیدی گئی ہے ۔
وزارت خزانہ کے مطابق دفاعی اخراجات آئندہ مالی سال سے باقاعدہ بجٹ میں شامل ہوں گے، گاڑیاں آٹزم سنٹر اسلام آباد کے خصوصی بچوں کیلئے فراہم کی جائیں گی، آسان خدمت مرکز اسلام آباد کے قیام کیلئے 80 کروڑ روپے منظور کیئے گئے ہیں ۔
ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی، آئی ٹی انفراسٹرکچر کیلئے 3 ارب 70 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی ہے ، ای گورننس اور قومی آئی سی ٹی ایکو سسٹم مضبوط بنانے کی ہدایت کر دی گئی ، ایف بی آر کے ڈیجیٹل انفورسمنٹ اسٹیشنز کے قیام کی منظوری بھی دیدی گئی جس کیلئے تیسرے سہ ماہی میں 3 ارب روپے مختص کیئے گئے ہیں۔
اعلامیہ کے مطابق ایشیا پیٹرولیم لمیٹڈ پائپ لائن کے مستقبل پر اعلی سطحی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے اور اے پی ایل پائپ لائن پر لائحہ عمل 31 جنوری تک پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔
فلم اور ڈرامہ انڈسٹری کے فروغ کیلئے فنانس فنڈ کی منظوری دی گئی، فلم و ڈرامہ فنانس فنڈ کیلئے 70 کروڑ روپے مختص کئے گئے۔ وزارت خزانہ کے مطابق فلم و ڈرامہ فنڈ کے استعمال پر6 ماہ بعد کارکردگی رپورٹ لازمی پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرٹی ایل پی سربراہ سعد رضوی اور ان کے بھائی کی گمشدگی کا معما برقرار ٹی ایل پی سربراہ سعد رضوی اور ان کے بھائی کی گمشدگی کا معما برقرار مدد پہنچنے والی ہے،ملکی اداروں کا کنٹرول سنبھال لو؛ ٹرمپ کا ایران کے مظاہرین کو پیغام جس دن باورکرایا گیا کہ این آئی آرسی کی چیئرمین شپ بطور ازالہ دی گئی تو اسی لمحے استعفی دیدیا، شوکت عزیز صدیقی امریکا نے 2026 میں اایک لاکھ سے زائد ویزے منسوخ کردیے ،طلبہ اور مجرمانہ ریکارڈ والے افراد نشانے پر انڈونیشیا پاکستان سے 40 جنگی طیارے خریدنے کے قریب آپکوافغانستان سے ہمدردی ہے تو ادھر چلے جائیں یا ہم آپکو چھوڑ آتے ہیں : طلال چوہدری کی سہیل آفریدی پر تنقیدCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کی منظوری دیدی کی منظوری دی کروڑ روپے کرنے کی گئی ہے
پڑھیں:
پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
عالمی ریٹنگ ایجنسی ’ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز‘ نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ -B سے بڑھا کر B کر دی ہے، جبکہ ملک کا آؤٹ لک ’اسٹیبل‘ برقرار رکھا گیا ہے۔
یہ گزشتہ 7 برسوں میں پاکستان کی بلند ترین خودمختار کریڈٹ ریٹنگ ہے، جسے ملکی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ریٹنگ ایجنسی کے مطابق یہ اپ گریڈ پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی بنیادوں، ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور بیرونی معاشی استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔
معاشی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کو سراہا گیاایس اینڈ پی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ حکومت کی جانب سے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے، محصولات میں اضافے، اصلاحاتی اقدامات اور محتاط معاشی پالیسیوں نے پاکستان پر سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مالیاتی خسارے پر قابو پانے اور ساختی اصلاحات کے تسلسل نے ملکی معیشت کے خطرات میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے باعث پاکستان کی خودمختار کریڈٹ پروفائل مزید مضبوط ہوئی ہے۔
غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات روشنماہرین کے مطابق کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری سے پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں میں ساکھ مزید مضبوط ہوگی، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور ملک میں نئی سرمایہ کاری کے امکانات پیدا ہوں گے۔
اس پیش رفت سے مستقبل میں عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستانی خودمختار بانڈز میں سرمایہ کاری کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے، جبکہ نجکاری کے منصوبوں میں بھی بین الاقوامی دلچسپی بڑھنے کا امکان ہے۔
عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد مزید مستحکماقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بہتر کریڈٹ ریٹنگ پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں، قرض دہندگان اور ترقیاتی شراکت داروں کے سامنے زیادہ مضبوط حیثیت فراہم کرے گی۔ اس کے نتیجے میں بین الاقوامی سرمایہ تک رسائی آسان ہونے اور مالیاتی اخراجات میں بہتری آنے کی توقع ہے۔
ان کے مطابق عالمی سطح پر پاکستان کی اصلاحاتی پالیسیوں کو ملنے والی پذیرائی طویل المدتی معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے امکانات کو بھی تقویت دیتی ہے۔
معاشی استحکام کی جانب اہم پیش رفتریٹنگ میں اضافے کو پاکستان کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی معیشت بتدریج استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے۔
مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کو آئندہ بھی جاری رکھا گیا تو پاکستان کی عالمی مالیاتی درجہ بندی میں مزید بہتری کے امکانات موجود ہیں۔
واضح رہے کہ کریڈٹ ریٹنگ کسی بھی ملک کی قرض واپس کرنے کی صلاحیت اور مالیاتی اعتبار سے اس کے خطرے کی سطح کا اہم پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔
عالمی ریٹنگ ایجنسیاں، جن میں ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز، موڈیز اور فچ ریٹنگز شامل ہیں، مختلف معاشی اشاریوں کی بنیاد پر ممالک کی ریٹنگ کا تعین کرتی ہیں۔
پاکستان کو گزشتہ چند برسوں کے دوران بلند مہنگائی، کم زرمبادلہ کے ذخائر، بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ اور مالیاتی چیلنجز کا سامنا رہا۔ تاہم حالیہ عرصے میں معاشی اصلاحات، محصولات میں اضافے، مالیاتی خسارے پر قابو پانے کی کوششوں اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کے باعث عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال ہونا شروع ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق ‘B’ ریٹنگ اگرچہ سرمایہ کاری کے درجے سے اب بھی نیچے ہے، تاہم یہ پاکستان کی معاشی سمت میں بہتری اور عالمی اعتماد میں اضافے کا ایک اہم اشارہ تصور کی جا رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں