ایلون مسک کی کمپنی کو خلا میں مزید سیٹلائٹس لانچ کرنیکی اجازت
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
نیویارک:(نیوزڈیسک) ایلون مسک کی خلائی کمپنی اسپیس ایکس کو اپنے انٹرنیٹ نیٹ ورک کو وسیع کرنے کے لیے خلا میں مزید اسٹار لنک سیٹلائٹس لانچ کرنے کی اجازت دے دی گئی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکا کے وفاقی مواصلاتی کمیشن (ایف سی سی) نے اسپیس ایکس کے جنریشن 2 سیٹلائٹس میں اپ گریڈز کی بھی منظوری دی ہے۔ جس کے بعد کمپنی دنیا کے مزید حصوں میں اپنی براڈبینڈ اور موبائل سروسز فراہم کر سکے گی۔
امریکی ادارے کے مطابق اس منظوری کے تحت اسپیس ایکس کو 7500 مزید جنریشن 2 اسٹار لنک سیٹلائٹس بنانے، لانچ کرنے اور آپریٹ کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
اس توسیع سے اسپیس ایکس عالمی سطح پر تیز رفتار انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے کے قابل ہو جائے گی۔
واضح رہے کہ موجودہ فعال سیٹلائٹس میں دو تہائی اسٹار لنک کے ہیں۔ اور زمین کے نچلے مدار میں 9 ہزار سے زائد اسٹار لنک سیٹلائٹس کا نیٹ ورک موجود ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اسپیس ایکس اسٹار لنک
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔