Islam Times:
2026-07-24@10:21:08 GMT

ایران میں استعمار کو شکست 

اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT

ایران میں استعمار کو شکست 

اسلام ٹائمز: جب امریکہ اور اسرائیل کو ایران کے ہاتھوں گذشتہ سال ہونے والی بارہ روزہ جنگ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تو انہوں نے اس بار اپنا انداز بدلا اور ایران میں اپنے ایجنٹوں کے ذریعے بغاوت کی سی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کی۔ یہاں اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ ایرانی قوم مذہبی وابستگی کیساتھ ساتھ شدید محب وطن ہے، وہ کسی صورت ملکی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں کرسکتے، چاہے وہ مذہبی طبقہ ہو یا لبرل۔  رپورٹ: سید عدیل عباس

گزشتہ دنوں ایران کے مختلف شہروں میں حکومت کی مخالفت میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے، جہاں مظاہرین نے مہنگائی کو اس کا سبب قرار دیا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے اندر جس طرح مہنگائی ہوئی ہے ایران اب بھی اس حوالے سے ایک سستا ملک ہے، جس میں بجلی بالکل مفت اور تقریباً دو ڈالر میں 60 لیٹر پٹرول ملتا ہے جبکہ کھانے پینے کی اشیاء بھی دنیا کے مقابل بہت سستی ہیں۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ انقلاب اسلامی ایران کے بعد ایران کو ہمیشہ پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا اور عراق سے مسلسل کئی سالوں تک جنگ کا بھی سامنا رہا، اس کے بعد مختلف مواقع پر سامراجی قوتوں نے ہمیشہ اپنے مزموم مقاصد پورے کرنے کے لیے مختلف حربے استعمال کیے۔ حال ہی میں اسرائیل کا ایران پر حملہ تہران کو مسلسل دباؤ میں رکھنے کی کوشش ہے۔ ایسی صورتحال میں بھی عوام کا پرامن طور پر سڑکوں پر نکلنا کوئی غیر معمولی نہیں تھا، تاہم درحقیقت یہ سب کچھ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ہوا۔

بہرحال اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے ایران میں ہنگامے ہوئے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ ہنگامی کیوں ہوئے اور پس پردہ محرکات کیا ہیں؟ ان سوالوں کا جواب ضروری ہے اور اس معاملے کا فی الفور جائزہ بھی انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ پہلے تو ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کیا واقعاً یہ ہنگامے مہنگائی کے خلاف تھے۔؟ اگر ایسا ہے تو حکومت نے فوری طور پر اس کا ادراک کیا اور ماہانہ سبسڈی دینے کا اعلان کر دیا لہذا یہ ہنگامے ختم ہو جانے چاہیے تھے، اور ان کو پرتشدد بنانے کی ضرورت نہ تھی لہذا یہ بات صاف سمجھ آ رہی ہے کہ استعماری قوتوں اور ان کے اعلیٰ کاروں نے اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے ایرانی حکومت کو گرانے کی بات کی اور یقیناً کچھ لوگوں کو خریدنے میں کامیاب ہو گئے، ورنہ مساجد اور مزارات کو جلانا اور نقصان پہنچانا کسی صورت مہنگائی سے تعلق نہیں رکھتا۔ 

جب امریکہ اور اسرائیل کو ایران کے ہاتھوں گذشتہ سال ہونے والی بارہ روزہ جنگ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تو انہوں نے اس بار اپنا انداز بدلا اور ایران میں اپنے ایجنٹوں کے ذریعے بغاوت کی سی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کی۔ یہاں اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ ایرانی قوم مذہبی وابستگی کیساتھ ساتھ شدید محب وطن ہے، وہ کسی صورت ملکی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں کرسکتے، چاہے وہ مذہبی طبقہ ہو یا لبرل۔ لہذا جیسے ہی انہیں اس بات کا احساس ہوگا کہ وہ ان احتجاجی مظاہروں کی آڑ میں اسرائیل اور امریکہ کے آلہ کار بن رہے ہیں تو وہ فوری طور پر ان معاملات کو ختم کردیں گے اور ملک کے امن کو بحال کریں گے، لہذا جہاں تک بات رجیم چینج کی ہے تو یہ استعماری خواہش گذشتہ روز حکومتی حمایت میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے بعد اپنی موت آپ ہی مر گئی ہے۔ 

یہاں قابل ذکر ہے کہ ایران اور انقلاب اسلامی کیخلاف رچی گئی اس سازش کو تقویت دینے میں امریکہ، صیہونی اور مغربی میڈیا کیساتھ ساتھ پاکستان سمیت مختلف مسلم ممالک کے ذرائع ابلاغ نے بھی انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور منفی کردار ادا کیا۔ اس حوالے سے مسلم امہ کو سنجیدگی سے سوچنا ہوگا۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے حکومت کے حق میں ہونے والے ملک گیر مظاہروں پر ایرانی قوم کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اسے ملکی تاریخ کا ایک اہم اور یادگار دن قرار دیا ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ عظیم ایرانی قوم نے آج ایک تاریخی دن رقم کیا ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای کا کہنا تھا کہ آج ہونے والی عظیم ریلیوں نے غیرملکی دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنا دیا۔ دشمن قوتیں ایران کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے اندرونِ ملک کرائے کے ایجنٹوں کو استعمال کرنا چاہتی تھیں، تاہم ایرانی عوام نے ان سازشوں کو خاک میں ملا دیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ایرانی قوم ایران میں ایران کے

پڑھیں:

ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر

کراچی کی ایمپریس مارکیٹ کی سبزی منڈی میں صبح سے ہی خریداروں کا رش تھا، مگر ایک چیز ہر چہرے پر مشترک نظر آئی۔۔۔ مایوسی۔

ایک خاتون دکاندار سے ٹماٹر کا ریٹ پوچھتی ہیں۔ جواب ملتا ہے: 500 روپے کلو۔ وہ چند لمحے خاموش رہتی ہیں، پھر بغیر ٹماٹر لیے آگے بڑھ جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ٹماٹروں کی فی کلو قیمت 600 روپے سے بھی تجاوز کر گئی، سبب کیا ہے؟

یہ منظر اب کراچی کے کئی بازاروں میں معمول بنتا جا رہا ہے۔

چند ہفتے پہلے امید بندھی تھی کہ ایران سے ٹماٹروں کی آمد شروع ہوگی تو شاید قیمتیں نیچے آ جائیں گی، مگر یہ امید بھی مہنگائی کی نذر ہو گئی۔

آج بھی شہر کے مختلف علاقوں میں ایرانی اور کوئٹہ سے آنے والے ٹماٹر 450 سے 500 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں، جبکہ کم معیار کے ٹماٹر بھی 400 روپے سے کم دستیاب نہیں۔

’اب سالن کے لیے ٹماٹر نہیں، دہی اور املی ڈال رہے ہیں‘

کراچی کی تاریخی ایمپریس مارکیٹ میں شہریوں نے بتایا کہ بہت سے گھروں کے لیے ٹماٹر اب روزمرہ کی سبزی نہیں بلکہ ایک سوچ سمجھ کر خریدی جانے والا کچن آئٹم بن چکا ہے۔

ایک شہری نے قدرے مایوس لہجے میں استفسار کیا کہ 500 روپے کلو ٹماٹر غریب آدمی کیسے خریدے۔ ’بیشترلوگ اب سالن میں ٹماٹر کے بجائے دہی یا املی استعمال کر رہے ہیں کیونکہ گھر کا خرچ پورا کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

ایک اور بزرگ نے سوالیہ انداز میں کہا کہ مزدور کی دیہاڑی 8 یا 9 سو روپے ہو تو وہ ایک کلو ٹماٹر خریدے یا بچوں کے لیے آٹا، سبزی اور دودھ لے۔

بازار میں موجود کئی خریداروں نے یہی شکایت دہرائی کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ ایران سے ٹماٹر آرہے ہیں، لیکن قیمت میں وہ کمی نہیں آئی جس کی امید تھی۔

قیمتیں آخر کم کیوں نہیں ہو رہیں؟

سبزی فروشوں اور تاجروں کے مطابق مسئلہ صرف درآمدات کا نہیں، بلکہ سپلائی چین کا بھی ہے۔

سبزی فروشوں کے مطابق ایران سے روزانہ تقریباً 10 کنٹینرز ٹماٹر کراچی پہنچ رہے ہیں لیکن یہ مقدار شہر کی طلب کے مقابلے میں ناکافی سمجھی جا رہی ہے۔

اس کے علاوہ تقریباً 30 فیصد مال خراب ہو جاتا ہے، جس سے مارکیٹ میں دستیاب مقدار مزید کم ہو جاتی ہے۔

دوسری جانب کوئٹہ سے سپلائی محدود ہے، سندھ کی نئی فصل ابھی مکمل طور پر مارکیٹ میں نہیں آئی، جبکہ حالیہ بارشوں اور نقل و حمل کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے بھی قیمتوں کو اوپر رکھا ہوا ہے۔

50 روپے مالیت کے 2 ٹماٹر

چند ماہ پہلے یہی ٹماٹر 80 سے 100 روپے فی کلو میں دستیاب تھے، بعد ازاں قیمت 120، پھر 300، اور اب 500 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے۔

بازار میں اب صورتِ حال یہ ہے کہ 50 سے 60 روپے میں صرف 2 یا 3 چھوٹے ٹماٹر دستیاب ہیں۔

یہ اضافہ صرف ایک سبزی کی قیمت میں نہیں، بلکہ عام آدمی کی قوتِ خرید میں مسلسل کمی کی عکاسی بھی کرتا ہے۔

عوام کو وجوہات نہیں، ریلیف چاہیے

ایمپریس مارکیٹ میں آئے شہریوں کا مؤقف تقریباً یکساں تھا، ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران سے درآمدات ہو رہی ہیں تو اس کا فائدہ بھی صارف تک پہنچنا چاہیے۔

عوام سپلائی، بارشوں یا خراب مال کی وجوہات ضرور سمجھتے ہیں، لیکن ان کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ گھر کا بجٹ کیسے چلے؟

مزید پڑھیں: قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، ’مرغی میں ٹماٹر ڈالیں یا ٹماٹر میں مرغی‘

ایک شہری نے جاتے جاتے صرف اتنا کہا کہ ٹماٹر پر ہی موقف نہیں، اب تو سبزی، دال اور گوشت، سب کچھ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔

شاید یہی ایک تبصرہ رائے عامہ کا اہم خلاصہ بھی تھا کیونکہ جب روزمرہ کھانے کا بنیادی جزو بھی ایک خاندان کے کچن بجٹ پر بوجھ بننا شروع ہوجائے تو مسئلہ ہر اس خاندان کا بن جاتا ہے جو مہنگائی کے ساتھ روز ایک نئی جنگ لڑ رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آٹا ایران ایمپریس مارکیٹ بارش ٹماٹر دسترخوان دودھ ریلیف سبزی سندھ طلب قوت خرید کچن بجٹ کراچی کنٹینرز مہنگائی نقل وحمل

متعلقہ مضامین

  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی