ایران میں استعمار کو شکست
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
اسلام ٹائمز: جب امریکہ اور اسرائیل کو ایران کے ہاتھوں گذشتہ سال ہونے والی بارہ روزہ جنگ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تو انہوں نے اس بار اپنا انداز بدلا اور ایران میں اپنے ایجنٹوں کے ذریعے بغاوت کی سی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کی۔ یہاں اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ ایرانی قوم مذہبی وابستگی کیساتھ ساتھ شدید محب وطن ہے، وہ کسی صورت ملکی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں کرسکتے، چاہے وہ مذہبی طبقہ ہو یا لبرل۔ رپورٹ: سید عدیل عباس
گزشتہ دنوں ایران کے مختلف شہروں میں حکومت کی مخالفت میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے، جہاں مظاہرین نے مہنگائی کو اس کا سبب قرار دیا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے اندر جس طرح مہنگائی ہوئی ہے ایران اب بھی اس حوالے سے ایک سستا ملک ہے، جس میں بجلی بالکل مفت اور تقریباً دو ڈالر میں 60 لیٹر پٹرول ملتا ہے جبکہ کھانے پینے کی اشیاء بھی دنیا کے مقابل بہت سستی ہیں۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ انقلاب اسلامی ایران کے بعد ایران کو ہمیشہ پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا اور عراق سے مسلسل کئی سالوں تک جنگ کا بھی سامنا رہا، اس کے بعد مختلف مواقع پر سامراجی قوتوں نے ہمیشہ اپنے مزموم مقاصد پورے کرنے کے لیے مختلف حربے استعمال کیے۔ حال ہی میں اسرائیل کا ایران پر حملہ تہران کو مسلسل دباؤ میں رکھنے کی کوشش ہے۔ ایسی صورتحال میں بھی عوام کا پرامن طور پر سڑکوں پر نکلنا کوئی غیر معمولی نہیں تھا، تاہم درحقیقت یہ سب کچھ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ہوا۔
بہرحال اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے ایران میں ہنگامے ہوئے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ ہنگامی کیوں ہوئے اور پس پردہ محرکات کیا ہیں؟ ان سوالوں کا جواب ضروری ہے اور اس معاملے کا فی الفور جائزہ بھی انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ پہلے تو ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کیا واقعاً یہ ہنگامے مہنگائی کے خلاف تھے۔؟ اگر ایسا ہے تو حکومت نے فوری طور پر اس کا ادراک کیا اور ماہانہ سبسڈی دینے کا اعلان کر دیا لہذا یہ ہنگامے ختم ہو جانے چاہیے تھے، اور ان کو پرتشدد بنانے کی ضرورت نہ تھی لہذا یہ بات صاف سمجھ آ رہی ہے کہ استعماری قوتوں اور ان کے اعلیٰ کاروں نے اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے ایرانی حکومت کو گرانے کی بات کی اور یقیناً کچھ لوگوں کو خریدنے میں کامیاب ہو گئے، ورنہ مساجد اور مزارات کو جلانا اور نقصان پہنچانا کسی صورت مہنگائی سے تعلق نہیں رکھتا۔
جب امریکہ اور اسرائیل کو ایران کے ہاتھوں گذشتہ سال ہونے والی بارہ روزہ جنگ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تو انہوں نے اس بار اپنا انداز بدلا اور ایران میں اپنے ایجنٹوں کے ذریعے بغاوت کی سی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کی۔ یہاں اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ ایرانی قوم مذہبی وابستگی کیساتھ ساتھ شدید محب وطن ہے، وہ کسی صورت ملکی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں کرسکتے، چاہے وہ مذہبی طبقہ ہو یا لبرل۔ لہذا جیسے ہی انہیں اس بات کا احساس ہوگا کہ وہ ان احتجاجی مظاہروں کی آڑ میں اسرائیل اور امریکہ کے آلہ کار بن رہے ہیں تو وہ فوری طور پر ان معاملات کو ختم کردیں گے اور ملک کے امن کو بحال کریں گے، لہذا جہاں تک بات رجیم چینج کی ہے تو یہ استعماری خواہش گذشتہ روز حکومتی حمایت میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے بعد اپنی موت آپ ہی مر گئی ہے۔
یہاں قابل ذکر ہے کہ ایران اور انقلاب اسلامی کیخلاف رچی گئی اس سازش کو تقویت دینے میں امریکہ، صیہونی اور مغربی میڈیا کیساتھ ساتھ پاکستان سمیت مختلف مسلم ممالک کے ذرائع ابلاغ نے بھی انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور منفی کردار ادا کیا۔ اس حوالے سے مسلم امہ کو سنجیدگی سے سوچنا ہوگا۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے حکومت کے حق میں ہونے والے ملک گیر مظاہروں پر ایرانی قوم کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اسے ملکی تاریخ کا ایک اہم اور یادگار دن قرار دیا ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ عظیم ایرانی قوم نے آج ایک تاریخی دن رقم کیا ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای کا کہنا تھا کہ آج ہونے والی عظیم ریلیوں نے غیرملکی دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنا دیا۔ دشمن قوتیں ایران کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے اندرونِ ملک کرائے کے ایجنٹوں کو استعمال کرنا چاہتی تھیں، تاہم ایرانی عوام نے ان سازشوں کو خاک میں ملا دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایرانی قوم ایران میں ایران کے
پڑھیں:
کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
کراچی میں اضافی پانی کا منصوبہ کے فور کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی۔
ایکسپریس نیوز کو واٹر کارپوریشن حکام کے سینئر افسران نے اس کی تصدیق کی کہ منصوبے میں مزید ڈھائی سال لگ سکتے ہے، اگر کام اسی طرح ہوتا رہے تو اس منصوبے میں وفاق، سندھ حکومت ، بین الاقومی مالیتی اداروں کی فنڈنگ بھی کی گئی۔
حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہوچکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔
تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1ارب 20 کروڑ گیلن ہے جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کر نے کے لئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔
2014 میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بناناتھا جس کی لاگت 25 ارب روپے بتا ئی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا تاہم پھر اس کو واپڈ کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہوسکا۔
کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026 کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ ایکپسریس نیوز نے مختلف ذرائع سے جو تفصیلا ت حاصل کیں ان کے مطابق کے فور منصوبہ 2026 میں بھی مکمل نہیں ہوسکے گا اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029 کی جنوری تک ہے۔
ایک ذرائع نے بتایا کہ اگر کام اسی رفتار سے کام چلتا رہا تو نومبر 2025 کو آگمیٹیشن کام نیپا چورنگی سے شروع ہوا جو حسن اسکوائر تک محیط ہے، اس کی لمبائی 2 اعشاریہ 7 کلو میٹر طویل ہے اب تک مکمل نہیں ہوسکا کیونکہ یہ تو صرف ابتداء ہے اصل کام تو آر ون، آر ٹو، آر تھری کا کام جو اب تک شروع ہی نہیں ہوا۔
سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کا ٹھیکہ ہی نہیں ہوسکا کہ کام کون کریں گا آر ون ،آر ٹو ، آر تھری ہے کیا یہ ریروائر کی لائنیں ہے آر ون 26 کلومیٹر طویل ہے ، آر ٹو40کلومیٹر طویل ہے جبکہ آرتھری 28 کلومیٹر طویل بتائی جا تی ہے۔
یہ لائنیں شہر کے وسط سے ہوتی ہوئی گزریں گی ان لائنوں کا مختلف نمبرز دئیے گئے ہے یہ لائنیں ڈلنے کے بعد ہی کراچی کو اضافی پانی مل سکے گا جب لائنوں کا مکمل شروع ہوگا تو شہر کی اہم شاہراہوں کو کھودنا پڑے گا، جس میں 72 انچ اور 96 انچ کی لائنیں ڈالی جا ئیں گی۔
صرف ایک روڈ آر ٹو کی تفصیلات فراہم کرر ہے ہیں یہ ریزر وائر ٹو نادرن بائی سے واپڈ کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی کے سپرد کریں گی جو کھدائی کرتی ہوئی۔
نادرن بائی پاس، ٹول پلازہ سے سپرہائی وے ، پھر جنجال گوٹھ سے ہوتی ہوئی سہراب گوٹھ ، وہاں سے ابوالحسن اصفہانی روڈ ، ڈسکو بیکری سے ہوتی ہے گلشن چورنگی ، رب میڈیکل سے ہوتی ہوئی ہے سرسید یونی ورسٹی سےنیپا چورنگی پر آگمینٹیشن سے منسلک کیا جا ئے گا۔
پھر یہ حسن اسکوائر سے ہوتا ہوا غریب آباد ، لیا قت آباد ، ناظم آباد، حبیب بنک چورنگی ، سے ہوتی ہوئی گلبائی تک جا ئیں گی، یہ راستہ ہے (آر ٹو) ریزر وائر ٹو کے فور کے لئے ڈالی جانی والی لائن اس کے لئے جب لائن ڈالنے کا کام ہو گا تو کھدائی ہوگی جس میں 72 انچ اور کسی مقام پر 96 انچ کی لائن ڈالی جا ئیں گی۔
اندازہ لگانا مشکل نہیں یہ 94 کلو میٹر کی لائنیں ڈالنے کے لئے 80 ارب روپے لگے اس کے لئے 2 بین الاقومی مالیتی ادارے 80 فیصد قرضے کی صورت میں فنڈ فراہم کر یں گے جبکہ 20 فیصد فنڈ سندھ حکومت فراہم کر یگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ 80 ارب روپے صرف آرون، آرٹو، آر تھری کی لائنیں ڈالنے میں خرچ ہوں گے جبکہ 124 ارب ٹرانسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشنز، فلٹر پلانٹٹس اور دیگر کاموں میں خرچ ہوں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جا نے ہے جن میں ٹراسمیشن لائن ، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنا نے کے کام کی ذمہ داری ہے جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن ، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے آگمیٹیشن کانیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025 سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا بلکل بین الاقومی مالیتی ادارے نے اس کو غیر معیا ری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جا ئیں گی اس وقت شہریوں کو آمد ورفت میں مزید مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑیگا۔