فٹبال کوچ اور گرل فرینڈ کو بچوں سے جنسی زیادتی کی ویڈیو بنانے پر قید کی سزائیں
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
ویلی ہائی اسکول کے ہیڈ فٹ بال کوچ اور ان کی گرل فرینڈ پر اسکول کی حدود میں نابالغ طالبہ کے ساتھ جنسی زیادتی اور غیر اخلاقی ویڈیوز بنانے کے جرم میں سزا سنادی گئی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اینٹون واشنگٹن اور ان کی گرل فرینڈ جاڈا کول پر متعدد بچوں کے ساتھ نامناسب حرکات اور غیر اخلاقی ویڈیوز بنانے کا الزام تھا۔
استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ اس جوڑے کو ویڈیو میں دیکھا گیا تھا کہ وہ ایک طالبہ کا جنسی استحصال کر رہے ہیں جس کی عمر 16 سال سے کم تھی۔
دونوں نے جن بچوں کے ساتھ جنسی عمل کرائے اور ان کی ویڈیوز بنائیں ان کی عمریں 9 سے 15 سال کے درمیان تھی۔
46 سالہ اینٹوون واشنگٹن اور 27 سالہ جاڈا کول نے بچوں کے جنسی استحصال کے مواد اور بے حیائی کے لیے ایک نابالغ کو استعمال کرنے کی کوشش کرنے کا جرم بھی قبول کیا۔
تفتیش کاروں کے فٹبال کوچ کے ایک 16 سال کے بچے کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بھی شواہد ملے لیکن وہ باہمی رضامندی سے تھا اور 16 سال سے زائد کو اجازت ہے اس لیے سزا نہیں ہوئی۔
ان کے موبائل فونز سے 3 سال تک کے معصوم بچوں کی بھی متعدد برہنہ تصاویر بھی ملی تھیں جن کا آن لائن غلط استعمال کرنے کا الزام بھی تھا۔
جیوری نے دونوں پر فحش نگاری کی تیاری میں نابالغ کے استعمال کے 7، جنسی بہکاوے کے 4 اور مارچ میں ایک بچے کے جنسی برتاؤ اور فرسٹ ڈگری اغوا کی تصویر کشی کے ایک جرم پر فرد جرم عائد کی۔
الزامات کو قبول کرکے ندامت کا اظہار کرنے اور سزا قبول کرنے کے معاہدے کی درخواست کی وجہ سے باقی الزامات کو خارج کر دیا گیا تھا۔
عدالت نے دونوں ملزمان کو 8 سے 25 سال قید کی سزا سنائی جب کہ دونوں کو تاحیات بطور جنسی مجرم نگرانی کے دائرے میں رہنا ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔