ملازمین مستقلی کیس، 30 دن میں فیصلہ کیا جائے:اسلام آباد ہائیکورٹ
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
اسلام آباد (وقائع نگار) اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی ای اے) کے فیز تھری کے سینکڑوں ملازمین کی مستقلی سے متعلق کیس میں اہم ہدایات جاری کرتے ہوئے ادارے کو تیس روز کے اندر فیصلہ کرنے کی مہلت دے دی ۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے سماعت کے دوران ریمارکس دئیے کہ عدالت کو توقع ہے کہ ایک ماہ کے اندر قواعد و ضوابط مرتب کر کے عدالتی حکم پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ نیا ادارہ بنا تھا، لگتا ہے اس کو کسی کی نظر لگ گئی ہے۔ عدالت نے واضح ہدایت کی کہ جب تک یہ معاملہ زیرِ سماعت ہے۔ ملازمین سے متعلق کوئی ایسا فیصلہ نہ کیا جائے جس سے وہ متاثر ہوں۔ حکام نے معاملہ کابینہ میں ہونے کے باعث تیس روز کی مہلت دینے کی استدعا کی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایک ماہ کی مہلت دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت21 فروری تک ملتوی کر دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: اسلام آباد
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔