ڈسٹرکٹ ہاکی ایسوسی ایشن شکار پور نے 2030تک کیلیے باڈی منتخب کرلی
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
شکارپور (نمائندہ جسارت) ڈسٹرکٹ ہاکی ایسوسی ایشن شکارپور کی سال 2026 سے 2030 تک کے لیے نئی باڈی منتخب کر لی گئی، جس میں ضلع کی چھ (6) ہاکی کلبوں کے عہدیداران نے شرکت کی۔ جن میں مہران ہاکی کلب، جنون ہاکی کلب، بھٹائی ہاکی کلب، شہید شیراز ہاکی کلب، کھوکر ہاکی کلب اور شہباز ہاکی کلب شامل تھے۔سینیئر عہدیداران کی مشاورت اور اتفاقِ رائے سے 2026 سے 2030 تک کے لیے درج ذیل عہدیداران منتخب کیے گئے صدر جمیل احمد شیخ, سینئر وائس پریذیڈنٹ استاد عبد الوہاب کاغذی، وائس پریذیڈنٹ آصف علی سومرو، جنرل سیکریٹری ریاض علی ملانو، جوائنٹ سیکریٹری آغا عبدالرؤف، خزانچی عرفان احمد سومرو، پریس سیکریٹری محمد ابراہیم بروہی کو منتخب کیاگیا اس موقع پر پاکستان ہاکی فیڈریشن کے نمائندہ اعجاز احمد کھوکر اور سندھ ہاکی ایسوسی ایشن کی جانب سے نئی منتخب شدہ باڈی کو پھولوں کے ہار پہنائے گئے اور مٹھائی تقسیم کی گئی۔ اس موقع پر نو منتخب صدر جمیل احمد شیخ نے کہا کہ آئندہ ہونے والے تیسرے چیف آف آرمی اسٹاف نیشنل انٹر کلب شکارپور میں بہترین پروگرام منعقد کیے جائیں گے، اور اس کے ساتھ پاکستان ہاکی فیڈریشن اور سندھ ہاکی ایسوسی ایشن کے ساتھ بہتر تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ہاکی ایسوسی ایشن ہاکی کلب
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔