لاپتا کارکن شارخ سولنگی کی بازیابی کیلیے اہل خانہ کا مظاہرہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)لاپتا کیے گئے قومی کارکن شاہ رخ سولنگی کی رہائی کے لیے ان کے اہلِ خانہ اور جیئے سندھ قومی محاذ(آریسر) گروپ کی جانب سے حیدرآباد پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ احتجاج میں خواتین، بچوں اور قوم پرست کارکنوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور شاہ رخ سولنگی کی بازیابی کے لیے شدید نعرے بازی کی۔اس موقع پر جیئے سندھ قومی محاذ (آریسر) کے مرکزی رہنما عبدالفتاح چنہ، شاہ رخ سولنگی کی والدہ مسمات ریشامہ سولنگی، ایڈووکیٹ رازق سولنگی، تنویر سولنگی اور دیگر نے کہا کہ شاہ رخ سولنگی کو 7 دسمبر ثقافتی دن کے موقع پر اس وقت زبردستی اٹھایا گیا جب وہ اپنے والد کے ساتھ ہٹڑی تھانے کی حدود میں اندھی موری کے قریب ایک ہوٹل پر بیٹھا ہوا تھا۔ ہٹڑی پولیس کے ساتھ سادہ کپڑوں میں ملبوس کچھ افراد شاہ رخ سولنگی کو زبردستی اٹھا کر لے گئے، جبکہ کسی بھی تھانے میں اس کی گرفتاری ظاہر نہیں کی گئی، جس کے باعث اس کے اہلِ خانہ شدید پریشانی کا شکار ہیں۔انہوں نے کہا کہ شاہ رخ ایک پرامن سیاسی کارکن ہے اور محض ثقافتی دن منانے کے جرم میں اسے لاپتا کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر شاہ رخ پر کوئی الزام یا جرم ثابت ہے تو اسے قانون کے مطابق عدالت میں پیش کر کے سزا دی جائے، مگر پرامن سیاسی کارکنوں کو اس طرح زبردستی لاپتا کرنا انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔مظاہرین نے انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ شاہ رخ سولنگی کی جبری گمشدگی کا فوری نوٹس لیا جائے اور اس کی بازیابی کے لیے اپنا کردار ادا کیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: شاہ رخ سولنگی کی
پڑھیں:
لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
—فائل فوٹوپنجاب کے محکمۂ قانون نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی۔
ذرائع کے مطابق محکمۂ خزانہ نے 12جون کو بجٹ پیش کرنےکی تجویز دی ہے۔
محکمۂ قانون پنجاب کا کہنا ہے کہ جمعے کو سرکاری چھٹی کی وجہ سے بجٹ پیش نہ کیا جائے اور نہ اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلایا جائے۔
پنجاب حکومت نے غیر قانونی اسلحہ کے خاتمے کیلئے نیا قانون تیار کر لیا ہے، جس کے تحت صوبے بھر میں کریک ڈاؤن تیز کرنے اور سخت سزائیں دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
محکمۂ قانون کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے معمول کے اجلاس میں زیرِ التوا بل بھی منظور ہو جائیں گے اور 3 بلز منظور کرانے ہیں اس لیے معمول کا اجلاس طلب کیا جائے۔
محکمۂ قانون پنجاب کا یہ بھی کہنا ہے کہ بجٹ کے لیے مخصوص اجلاس میں بلز منظور نہیں ہوسکتے۔