اسلام آباد میں منگل کو جاری ایک سرکاری بیان کے مطابق پاکستان اور سری لنکا نے ثقافتی تعاون کو وسعت دینے اور مذہبی سیاحت کو فروغ دینے پر اتفاق کیا ہے۔

یہ پیش رفت پاکستان کے وزیر برائے قومی ثقافت و ورثہ اورانزیب خان خچی اور سری لنکا کے سفیر رئیر ایڈمرل (ریٹائرڈ) فریڈ سینویراٹنے کے درمیان اسلام آباد میں ملاقات کے دوران سامنے آئی۔ دونوں ممالک نے مشترکہ ثقافتی نمائشیں اور ورثے کے پروگرام منعقد کرنے کا بھی عزم کیا۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان میں سیاحت سے 21 ارب ڈالر کی آمدنی، مزید اضافے کی توقع

پاکستان میں مذہبی سیاحت کے مواقع مختلف مذاہب کے زائرین کے لیے فراہم کیے جاتے ہیں، جن میں سکھ، بدھ اور ہندو شامل ہیں۔ اس میں ملک بھر کے اسلامی مزارات، ہندو مندروں، سکھ گردواروں اور بدھ مت کے تاریخی مقامات شامل ہیں۔

وزیر خچی نے کہا کہ ‘مذہبی سیاحت کے ذریعے لوگوں کے درمیان رابطہ ثقافتی بات چیت کا ایک بہترین ذریعہ ثابت ہوگا’۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ دونوں ممالک کے معتبر ٹور آپریٹرز کو خصوصی مذہبی اور ثقافتی دوروں کے انعقاد کے لیے شامل کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے: ’کارگاہ بدھا‘، گلگت بلتستان کا مقام جہاں بدھ مت کے پیروکاروں کا ہجوم ہوتا ہے

بیان کے مطابق دونوں فریقین نے مشترکہ ثقافتی نمائشیں، فن پاروں کی نمائشیں اور ورثے کے پروگرام منعقد کرنے پر اتفاق کیا تاکہ پاکستان اور سری لنکا کے فنکار، ہنرمند اور ثقافتی ادارے اپنے کام کو عوام کے سامنے پیش کر سکیں۔

سری لنکن سفیر کو پاکستان میں موجود اہم بدھ مت کے ورثے کی ورچوئل ٹورز کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا تاکہ دنیا بھر کے ناظرین ملک کی ثقافتی دولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔

یہ بھی پڑھیے: اسکردو کا بدھا راک: حکومت کی نظروں سے اوجھل

بیان میں مزید کہا گیا کہ سری لنکن سفیر نے پاکستان کے میوزیمز میں محفوظ فن تعمیر اور ثقافتی آثار، خاص طور پر ٹیکسلا اور لاہور میں موجود نوادرات میں دلچسپی ظاہر کی۔

2021 میں سری لنکا کے 14 رکنی بدھ مت راہبوں کے وفد نے ڈاکٹر والپولا پیانندا کی قیادت میں پاکستان کے مقدس مقامات کا ہفتہ بھر کا زیارتی دورہ کیا تھا۔ وفد کے ارکان کے مطابق پاکستان ماضی کی سب سے منفرد بدھ مت تہذیبوں میں سے ایک کا گھر ہے۔

پاکستان اور سری لنکا کے تعلقات طویل المدتی ہیں اور دونوں ممالک مختلف شعبوں میں تعاون کر رہے ہیں۔ گزشتہ سال دسمبر میں پاکستان نے سری لنکا کو شدید سیلاب کے بعد امدادی سامان اور ریسکیو ٹیموں کی صورت میں مدد فراہم کی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بدھ مت سیاحت مذہبی سیاحت.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: سیاحت مذہبی سیاحت پاکستان اور سری لنکا مذہبی سیاحت سری لنکا کے

پڑھیں:

دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث سیاحوں کی تعداد میں نمایاں کمی کے بعد دبئی نے سیاحت کو دوبارہ فروغ دینے کے لیے منفرد مہم شروع کر دی ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق نئی اسکیم کے تحت متحدہ عرب امارات کے رہائشی اگر اپنے دوستوں یا رشتہ داروں کو دبئی گھومنے کے لیے آمادہ کریں تو انھیں 3 ہزار اماراتی درہم مالیت تک کے انعامات اور سہولتیں دی جائیں گی۔

دبئی کے محکمۂ اقتصادیات و سیاحت کی جانب سے متعارف کرائی گئی اسکیم ’’دبئی اِنوائٹ‘‘ کے تحت یو اے ای میں مقیم افراد اپنے بیرونِ ملک رہنے والے دوستوں اور اہلِ خانہ کو نامزد کرسکتے ہیں۔

اگر کسی شہری کی دعوت پر ان کے دوست یا رشتہ دار سیاحتی ویزے پر دبئی آتے ہیں تو میزبان کو ہوٹل میں قیام، ریستورانوں میں خصوصی رعایت، تفریحی مقامات کے ٹکٹ اور دیگر مراعات پر مشتمل خصوصی پیکیج دیا جائے گا۔

اس اسکیم کے تحت ہر رہائشی زیادہ سے زیادہ تین مہمانوں کے لیے فوائد حاصل کرسکتا ہے بشرطیکہ مہمان 31 اکتوبر سے پہلے دبئی پہنچ جائیں۔ تاہم ان مراعات سے دسمبر تک فائدہ اٹھایا جا سکے گا۔

اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ آنے والا فرد یو اے ای کا رہائشی نہ ہو، وہ درست سیاحتی ویزے پر سفر کرے اور اسے صرف ایک مرتبہ ہی نامزد کیا جا سکے گا۔

دبئی حکومت کے یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کے اثرات خلیجی ممالک تک پہنچنے کے بعد سیاحت شدید متاثر ہوئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے کیے گئے میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد دبئی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور معروف فیئرمونٹ ہوٹل کو نقصان پہنچا جس سے دبئی کی محفوظ سیاحتی مقام کی ساکھ متاثر ہوئی۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس 2025 میں دبئی نے تقریباً 2 کروڑ بین الاقوامی سیاحوں کا خیرمقدم کر کے نیا ریکارڈ قائم کیا تھا لیکن حالیہ جنگ کے بعد صورتحال یکسر بدل گئی ہے۔

ہوائی سفر پر سیکیورٹی خدشات بڑھنے کے باعث دبئی آنے والی کئی بین الاقوامی ایئرلائنز نے اپنی پروازیں معطل یا محدود کر دیں جبکہ متعدد طیاروں نے مشرقِ وسطیٰ کی فضائی حدود سے گزرنے سے گریز کیا۔

اس کے نتیجے میں دبئی ایئرپورٹس پر آپریٹ کرنے والی ایئرلائنز کی تعداد میں نمایاں کمی آئی۔ دوسری جانب ہوٹلوں میں بکنگ کم ہونے سے خالی کمروں کی شرح میں اضافہ ہوا ہے اور کئی کاروباری اداروں کی آمدنی میں 50 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔

دبئی کے بعض مشہور ہوٹلوں نے کم طلب کے باعث تزئین و آرائش کے منصوبے قبل از وقت شروع کر دیے ہیں۔ دنیا کے مشہور برج العرب ہوٹل کو بھی بڑے پیمانے پر مرمت اور بحالی کے لیے تقریباً 18 ماہ کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ کئی ہوٹل اور سیاحتی ادارے حکومت کی نئی اسکیم کے تحت 45 فیصد تک رعایت اور مفت قیام جیسی خصوصی پیشکشیں بھی دے رہے ہیں۔

مقامی میڈیا کے مطابق دبئی اِنوائٹ اسکیم کے آغاز کے صرف 48 گھنٹوں میں 10 ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہو چکی ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کو اس منصوبے سے سیاحت کی بحالی کی امیدیں وابستہ ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی