پاکستان اور سری لنکا کا ثقافتی تعاون بڑھانے پر اتفاق، مذہبی سیاحت کو فروغ دینے کا عزم
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
اسلام آباد میں منگل کو جاری ایک سرکاری بیان کے مطابق پاکستان اور سری لنکا نے ثقافتی تعاون کو وسعت دینے اور مذہبی سیاحت کو فروغ دینے پر اتفاق کیا ہے۔
یہ پیش رفت پاکستان کے وزیر برائے قومی ثقافت و ورثہ اورانزیب خان خچی اور سری لنکا کے سفیر رئیر ایڈمرل (ریٹائرڈ) فریڈ سینویراٹنے کے درمیان اسلام آباد میں ملاقات کے دوران سامنے آئی۔ دونوں ممالک نے مشترکہ ثقافتی نمائشیں اور ورثے کے پروگرام منعقد کرنے کا بھی عزم کیا۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان میں سیاحت سے 21 ارب ڈالر کی آمدنی، مزید اضافے کی توقع
پاکستان میں مذہبی سیاحت کے مواقع مختلف مذاہب کے زائرین کے لیے فراہم کیے جاتے ہیں، جن میں سکھ، بدھ اور ہندو شامل ہیں۔ اس میں ملک بھر کے اسلامی مزارات، ہندو مندروں، سکھ گردواروں اور بدھ مت کے تاریخی مقامات شامل ہیں۔
وزیر خچی نے کہا کہ ‘مذہبی سیاحت کے ذریعے لوگوں کے درمیان رابطہ ثقافتی بات چیت کا ایک بہترین ذریعہ ثابت ہوگا’۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ دونوں ممالک کے معتبر ٹور آپریٹرز کو خصوصی مذہبی اور ثقافتی دوروں کے انعقاد کے لیے شامل کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے: ’کارگاہ بدھا‘، گلگت بلتستان کا مقام جہاں بدھ مت کے پیروکاروں کا ہجوم ہوتا ہے
بیان کے مطابق دونوں فریقین نے مشترکہ ثقافتی نمائشیں، فن پاروں کی نمائشیں اور ورثے کے پروگرام منعقد کرنے پر اتفاق کیا تاکہ پاکستان اور سری لنکا کے فنکار، ہنرمند اور ثقافتی ادارے اپنے کام کو عوام کے سامنے پیش کر سکیں۔
سری لنکن سفیر کو پاکستان میں موجود اہم بدھ مت کے ورثے کی ورچوئل ٹورز کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا تاکہ دنیا بھر کے ناظرین ملک کی ثقافتی دولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔
یہ بھی پڑھیے: اسکردو کا بدھا راک: حکومت کی نظروں سے اوجھل
بیان میں مزید کہا گیا کہ سری لنکن سفیر نے پاکستان کے میوزیمز میں محفوظ فن تعمیر اور ثقافتی آثار، خاص طور پر ٹیکسلا اور لاہور میں موجود نوادرات میں دلچسپی ظاہر کی۔
2021 میں سری لنکا کے 14 رکنی بدھ مت راہبوں کے وفد نے ڈاکٹر والپولا پیانندا کی قیادت میں پاکستان کے مقدس مقامات کا ہفتہ بھر کا زیارتی دورہ کیا تھا۔ وفد کے ارکان کے مطابق پاکستان ماضی کی سب سے منفرد بدھ مت تہذیبوں میں سے ایک کا گھر ہے۔
پاکستان اور سری لنکا کے تعلقات طویل المدتی ہیں اور دونوں ممالک مختلف شعبوں میں تعاون کر رہے ہیں۔ گزشتہ سال دسمبر میں پاکستان نے سری لنکا کو شدید سیلاب کے بعد امدادی سامان اور ریسکیو ٹیموں کی صورت میں مدد فراہم کی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بدھ مت سیاحت مذہبی سیاحت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سیاحت مذہبی سیاحت پاکستان اور سری لنکا مذہبی سیاحت سری لنکا کے
پڑھیں:
مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی آموں کی خوشبو اور مٹھاس ہر طرف پھیل جاتی ہے، اور بازاروں، ریڑھیوں اور گھروں میں مختلف اقسام کے آم اپنی رنگینی بکھیرنے لگتے ہیں۔
پاکستان میں آم کی کئی مشہور اقسام پائی جاتی ہیں جن میں دسہری، کیسر، چونسہ اور سندھ کے بعض علاقوں میں محدود پیمانے پر کاشت ہونے والا الفانسو آم شامل ہے، جسے عام طور پر ’الفنس‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
آم کو صرف ایک پھل نہیں بلکہ گرمیوں کی پہچان سمجھا جاتا ہے، اسی لیے اس موسم میں اس سے آئس کریم، میٹھے پکوان، آم رس، سلاد اور مختلف مشروبات تیار کیے جاتے ہیں۔ تاہم ٹھنڈا اور گاڑھا مینگو شیک آج بھی سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے مشروبات میں شمار ہوتا ہے، اور اکثر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آخر مینگو شیک کے لیے بہترین آم کون سا ہے؟
ماہرین اور شوقین افراد کے مطابق الفانسو آم مینگو شیک کے لیے بہترین انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ اس کی گودے دار ساخت قدرتی طور پر کریمی ہوتی ہے، اس میں ریشہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور اس کی مٹھاس دودھ کے ساتھ بخوبی گھل جاتی ہے، جس سے شیک ہموار اور ملائم بنتا ہے۔ بعض آم بلینڈ کرنے کے بعد ریشے دار محسوس ہوتے ہیں، لیکن الفانسو شیک کو ایک یکساں اور کریمی ساخت دیتا ہے۔
الفانسو آم کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کی خوشبو ہے، جو سادہ دودھ کے شیک کو بھی ایک خاص ذائقہ اور مہک عطا کرتی ہے۔ چونکہ یہ قدرتی طور پر بہت میٹھا ہوتا ہے، اس لیے اکثر افراد اس میں اضافی چینی ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر آم مینگو شیک کے لیے یکساں طور پر موزوں نہیں ہوتا۔ ایک اچھے شیک کے لیے ایسے آم کا انتخاب بہتر ہے جس میں ریشہ کم ہو، گودا قدرتی طور پر میٹھا اور خوشبودار ہو، ساخت گاڑھی اور کریمی ہو، جبکہ گٹھلی چھوٹی اور گودا زیادہ ہو۔
الفانسو کے علاوہ کیسر آم بھی ایک اچھا انتخاب سمجھا جاتا ہے، جو اپنے شوخ نارنجی گودے اور بھرپور مٹھاس کے باعث گاڑھا اور لذیذ شیک تیار کرتا ہے۔ اسی طرح دسہری آم اپنی خوشبو اور رس دار خصوصیات کی وجہ سے ہلکے اور تازگی بخش شیک کے لیے موزوں مانا جاتا ہے۔
ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ بہت زیادہ پکے ہوئے آم استعمال نہ کیے جائیں، کیونکہ اگرچہ وہ زیادہ میٹھے ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات ان میں خمیر جیسی بو پیدا ہو سکتی ہے جو شیک کے ذائقے کو متاثر کرتی ہے۔
گھر میں بہترین مینگو شیک بنانے کے لیے چند آسان طریقے بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ آموں کو استعمال سے پہلے ٹھنڈا کر لیا جائے تو برف کی ضرورت کم ہو جاتی ہے، جبکہ مکمل چکنائی والے ٹھنڈے دودھ سے شیک زیادہ کریمی بنتا ہے۔ آم کے ٹکڑوں کو فریز کر کے استعمال کرنے سے شیک مزید گاڑھا ہو جاتا ہے، اور ذائقے میں بہتری کے لیے ہلکی سی الائچی یا زعفران بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ضرورت سے زیادہ بلینڈنگ سے شیک پتلا بھی ہو سکتا ہے، اس لیے اسے مناسب وقت تک ہی بلینڈ کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ گرمیوں میں بہترین مینگو شیک کا راز صرف ترکیب میں نہیں بلکہ صحیح آم کے انتخاب میں بھی چھپا ہوتا ہے۔