کیا خونریز احتجاج کے بعد ایرانی حکومت گر جائے گی؟ برطانوی میڈیا کی اہم رپورٹ آگئی
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
برطانوی میڈیا نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران میں کرنسی کی قدر میں شدید کمی، مہنگائی اور حالیہ مظاہروں کے باوجود حکومت کے خاتمے کے کوئی واضح آثار نظر نہیں آ رہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران کی اعلیٰ ترین سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ میں بھی کسی قسم کی اندرونی دراڑ یا اختلافات سامنے نہیں آئے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق گزشتہ ہفتے ایران کے مختلف شہروں میں جلاؤ گھیراؤ اور لوٹ مار کے واقعات پیش آئے، جن میں ملوث افراد اور نقصانات کی نئی ویڈیوز جاری کی گئی ہیں۔ یہ ویڈیوز ایرانی سرکاری میڈیا سے حاصل کردہ کلپس پر مشتمل ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران میں انٹرنیٹ بندش کے باعث یہ ویڈیوز پہلے منظرِ عام پر نہیں آ سکیں۔ برطانوی میڈیا کے مطابق ایرانی حکام نے ان فسادات کے پیچھے امریکا اور اسرائیل کو ملوث قرار دیا ہے۔
برطانوی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایران کو شدید معاشی دباؤ، مہنگائی اور عوامی احتجاج کا سامنا ہے، تاہم ریاستی ڈھانچہ بدستور مضبوط دکھائی دیتا ہے اور فوری طور پر حکومت کی تبدیلی کے امکانات نظر نہیں آتے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: برطانوی میڈیا
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔