پیغام امن کمیٹی کا جمعہ کو ملک بھر میں پیغام امن کے نام سے منانے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
پشاور:
قومی پیغام امن کمیٹی نے جمعہ کو ملک بھر میں پیغام امن کے نام سے منانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ نماز جمعہ کے خطبے میں بھی اس حوالے سے بیانات جاری کیے جائیں گے۔
اس حوالے سے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی اور قومی پیغام امن کمیٹی کے علماء کرام نے گورنر ہاؤس پشاور میں مشترکہ پریس کانفرنس کی۔
گورنر خیبرپختون خوا فیصل کریم کنڈی نے کمیٹی ممبران کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ قومی پیغام امن کمیٹی کو پشاور آنے پر خوش آمدید کہتے ہیں دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں سیکیورٹی فورسز اور پولیس کے جوانوں نے بہت قربانیاں دی ہیں عوام بھی دہشت گردی سے متاثر ہوئے ہیں ہم اس جنگ میں پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہیں۔
پیغام امن کمیٹی کے کوآرڈی نیٹر علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ قومی پیغام امن کمیٹی ملک بھر میں جائے گی اور اس کا اغاز ہم نے پشاور سے کیا ہے کیونکہ یہ صوبہ دہشت گردی سے بہت متاثر ہوا ہے، آج پہلا دورہ پشاور کا ہے، اس کے بعد ملک کے دیگر شہروں میں بھی جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پیغام پاکستان کی روشنی میں متفقہ فتویٰ پر امام کعبہ سمیت تمام علامہ کے دستخط شامل ہیں، خود کش دھماکوں کے خلاف سب سے پہلا فتویٰ بھی پاکستان کے علامہ کا آیا تھا، بے گناہوں کو قتل کرنے والوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے میرا فوجی جوان ہر روز اللہ سے شہادت مانگتا ہے، ان کی مائیں بھی یہی دعائیں کرتے ہیں ہم امن چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پیغام امن کا بھی یہ وژن ہے ملک کے خلاف جو بھی ہوگا ہم فوج کے ساتھ کھڑے ہیں، میں نے سال 1984ء میں افغانستان جہاد میں حصہ لیا، کبھی کیڈٹ کالج کے بچے کبھی اے پی ایس کے بچے شہید ہورہے ہیں افغان طالبان کو پاکستان کا امن اپنا امن سمجھنا ہوگا۔
علامہ طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ امن کے لیے جو افغان طالبان نے بات کی ہے اُس پر عمل کرنا ہوگا، 100 میں سے 70 فیصد حملے افغانستان سے ہوتے ہیں، افغان مہاجرین کو یہاں گھر دیے کیا یہ وفا کا صلہ ہمیں مل رہا ہے؟ ہمارا پیغام امن کا ہے ہم ہر شہر میں جائیں گے، صوبائی حکومت سے بھی یہی کہتے ہیں سلامتی اداروں کو بھی یہی کہتے ہیں جہاں ضرورت ہوگی وہاں جائیں گے، اس دہشت گردی میں بھی ہماری جیت ہوگی۔
انہوں ںے کہا کہ پاکستان کی فوج، پاکستانی قوم بہت مضبوط ہیں، آنے والا جمعہ ملک بھر میں پیغام امن کے نام سے منایا جائے گا، ملا عمر کا کشمیر کے حوالے سے موقف بالکل مختلف تھا، آج کس کی گود میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف باتیں کر رہے ہیں، پاکستان کے تمام مدارس کے علماء یہاں موجود ہیں، ایک مسجد بھی پاکستان کے خلاف نہ ہے نہ ہوگی، اگر آپ سویت کے خلاف لڑ سکتے ہیں تو اپنے ملک کے لئے بھی لڑ سکتے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ بنگلادیش میں آج پاکستان کا پرچم لہرایا جارہا ہے۔
کمیٹی کے دیگر ممبران کا کہنا تھا کہ ہم ملک میں امن چاہتے ہیں افغانستان کو اب فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ کیا چاہتا ہے، ہم پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہیں دہشت گردی کے واقعات میں بے گناہ لوگوں کو شہید کیا جا رہا ہے، بچوں اور خواتین کو بھی یہ لوگ نہیں بخشتے، ہمیں بتایا جائے کہ مساجد پر حملے کہاں جائز ہیں ہم امن کا پیغام لے کر ہر شہر جائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: قومی پیغام امن کمیٹی ملک بھر میں پاکستان کے جائیں گے کے خلاف امن کے کہا کہ بھی یہ
پڑھیں:
دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا سے خطاب کیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے تک فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسلسل کوششیں، عوام کی غیرمتزلزل حمایت کے ساتھ بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کو یقینی بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی، پاکستان میں جہاں بھی دہشت گردوں کا انفرا اسٹرکچر ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بنے گا، اسے ختم کرنے کے لیے اپنے غیرمتزلزل عزم پر قائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیرونی سرپرستی میں کام کرنے والے پراکسی عناصر مسلسل بلوچستان میں بدامنی، عدم استحکام اور امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم مسلح افواج عوام کی یک جہتی اور ثابت قدمی کے ساتھ ان مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بلوچستان کو پاکستان کا فخر قرار دیا اور کہا کہ یہ صوبہ بے پناہ قدرتی وسائل، محب وطن، باصلاحیت اور باہمت عوام سے مالا مال ہے، جو بلوچستان کی اصل طاقت ہیں۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بلوچستان کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے عوام دوست اور جامع منصوبوں پر عمل پیرا ہیں، جن کا مقصد صوبے کی تقدیر بدلنا ہے۔
انہوں نے قومی یک جہتی کے فروغ میں سول سوسائٹی، جامعات، میڈیا اور نوجوانوں کے مثبت کردار کو سراہا اور کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور روشن مستقبل کی بنیاد رکھنے کے لیے قومی اتحاد، استقلال اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق جی ایچ کیو میں تقریب کے اختتام پر شرکا کے ساتھ تفصیلی سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں شرکا نے پاکستان کے استحکام، ترقی، امن اور خودمختاری کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔