data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

 کراچی (اسٹاف رپورٹر) الخدمت کراچی نے فری آئی کورسز پروگرام ” بنو قابل “5.0اور بنو قابل جاب ایپلی کیشن لانچ کر دی ۔

بنو قابل 5.0 میں کورسز کی تعداد30 کردی گئی ہے، ان کورسز میں اے آئی (AI ) کے 4 نئے کورسز شامل کیے گئے ہیں جبکہ دیگر تمام کورسز میں اے آئی (AI ) کو شامل کردیا گیا ہے ۔

مقامی ہال میں گزشتہ روز خصوصی تقریب کے دوران بنو قابل 5.

0اور بنو قابل جاب ایپلی کیشن کا افتتاح امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر نے کیا ،تقریب سے سی ای اور الخدمت کراچی نوید علی بیگ ،ڈائریکٹر بنو قابل پروگرام فاروق کملانی اورسینئر منیجر آبش صدیقی نے خطاب کیا ۔

اس موقع پر بنو قابل سے منسلک ماہرین واساتذہ نے کورسز کے بارے میں آگا ہی فراہم کی ۔ تقریب میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر راشد قریشی ،منیجر عمیراحمد موجود تھے۔تقریب میں مختلف شعبہ جات کے ذمہ داران اور بنو قابل سے منسلک ایڈمنز اوراساتذہ نے بڑی تعداد نے شرکت کی ۔

تقریب سے خطاب کر تے ہوئے سی ای او الخدمت نوید علی بیگ نے کہا کہ الخدمت 1976سے خدمت کے کام کررہی ہے ۔اس سے قبل یہ کام” شعبہ خدمت“ کے نام سے ہوتے تھے ۔الخدمت 50ویں سال میں داخل ہو چکی ہے ۔آج ہم الخدمت کی جانب سے کراچی کے شہریوں کو بنو قابل 5.0 کا تحفہ دے رہے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی صلاحتیں بڑھانے کیلئے مواقع دستیاب نہیں۔نوجوانوں کو مواقع میسر آئیں تو یہ دنیا میں اپنا نام روشن کر سکتے ہیں، ورنہ یہی نوجوان گمراہ ہو سکتے ہیں ،اسلام اور ملک دشمن قوتوں کے ہاتھوں میں جاسکتے ہیں ،مایوس ہو کر خودکشی کر سکتے ہیں ۔

نوید علی بیگ نے کہا کہ الخدمت نوجوانوں کو مایوسی سے نکال کر انہیں بہتر مستقبل فراہم کر رہی ہے ،نئی نسل کو مایوسی سے بچانا ،انہیں برے راستے سے بچا کر روذگار اور ملک کی ترقی کی طرف لانا بڑا نیکی کا کام ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ ہم بنو قابل 5.0 کو پہلے سے زیادہ بہترین پروگرام بنا رہے ہیں ۔اس میں اے آئی (AI ) کے4 کورسزشامل کیے گئے ہیں جبکہ دیگر تمام کورسز میں اے آئی (AI ) کو شامل کردیا گیا ہے ۔اے آئی (AI ) بے لگام گھوڑا ہے ،اس کو قابو کرنا ہے ،اس کو سیکھنا اوراس سے فائدہ اٹھانا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ بنو قابل پروگرام ملک بھر کے نوجوانوں کیلئے امید بن چکا ہے ،یہ پروگرام ملک بھر میں پھیل چکا ہے ،4.0 تک کے ورجنز سے 70ہزارسے زائد نوجوان پاس آؤٹ کر چکے ہیں اور یہ نوجوان اپنے خاندان کی کفالت کر رہے ہیں ۔

نو ید علی بیگ نے کہا کہ ہم اس حوالے سے مختلف شعبہ جات وکلا ،ڈاکٹرز،فارما سسٹ اور دیگر شعبوں کے افراد کیلئے بھی کورسز ڈیزائن کر رہے ہیں ۔انہوں نے کہا قابل ڈاٹ جابز پر ایمپلائر اور ایمپلائی دونوں موجود ہیں ،ایمپلائی ایپلی کیشن کے ذریعے اپنی سی وی بنا کروہاں خود کو رجسٹر کرسکے گا ۔اس سے نوجوانوں کو اسکل کے مطابق ملازمت ملے گی ۔عام نوجوان بھی ایپلی کیشن کے ذریعے جاب کیلئے خود کو رجسٹر کرواسکتے ہیں ،دنیا بھر میں جابز پورٹر ایمپلائر اور ایمپلائی سے پیسے وصول کرتے ہیں ،مگر الخدمت کا یہ پورٹل فری آف کاسٹ ہے ،انہوں نے کہا کہ نوجوان اس پروگرام سے فائدہ اٹھائیں ۔

سینئر منیجر آبش صدیقی نے کہا کہ حافظ نعیم الرحمن کاوژن آگے بڑھ رہا ہے ،انہوں نے بنو قابل 5.0 کے آغاز پر بنو قابل کے ایڈمنز اور اساتذہ کو مبارکباد دی اور کہا کہ روزگار کے ساتھ ساتھ بنو قابل ایک نظریہ ایک سوچ ہے ،نوجوانوں کو امید دینی ہے ،انہیں سہارا دینا ہے۔

ویب ڈیسک فاروق اعظم صدیقی

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: اورنگی ٹاؤن میں خاتون سے نازیبا حرکت کرنیوالے لڑکے کا صاف اور قابلِ شناخت چہرا سامنے آ گیا
  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم