ایران نے خطے میں امریکی اتحادیوں کو حتمی وارننگ دے دی
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
تہران (ویب ڈیسک) ایران نے خطے میں امریکی اتحادیوں کو خبردار کیا ہے کہ امریکا جس ملک سے ہم پر حملہ کرے گا وہاں امریکی اڈے ہمارا ہدف ہونگے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے ترکیہ، قطر اور متحدہ عرب امارات کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ امریکا کو حملے سے باز رکھیں۔ ان کی سرزمین ایران کے خلاف استعمال ہوئی تو وہان موجودامریکی اڈے ایران کے ہدف ہونگے۔
ایرانی ایرو اسپیس فورس کے کمانڈر بریگیڈر جنرل مجید موسوی کا کہنا ہے ایران کے میزائلوں کا ذخیرہ گزشتہ سال سے زیادہ ہے۔ کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
صورتحال کے پیش نظر امریکا نے قطر میں قائم امریکی ایئربیس سے غیر ضروری عملے کوآج شام تک بیس سے نکلنے کا حکم دے دیا۔ العدید بیس میں 10 ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔(جاری ہے)
جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔
امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔ امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔