ورلڈ لبرٹی فنانشل امریکہ کے وفد کی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
سٹی 42: ورلڈ لبرٹی فنانشل امریکہ کے وفد کی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات ہوئی ۔
ورلڈ لبرٹی فنانشل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر زیکری وٹکوف کی قیادت میں وفد کی فیلڈ مارشل سے جی ایچ کیو راولپنڈی میں ملاقات ہوئی ۔ملاقات میں پاکستان کی بدلتی معاشی صورتحال اور عالمی نجی سرمایہ کاری میں بڑھتی دلچسپی پر تبادلہ خیال ہے۔ملاقات عالمی سطح پر پاکستان کی فِن ٹیک صلاحیت پر بڑھتے اعتماد کی عکاس قرار دیا۔
سرکاری محکموں میں پیٹرول و ڈیزل گاڑیوں پر پابندی عائد
ڈیجیٹل فنانس، فنانشل انکلوژن اور کراس بارڈر ڈیجیٹل لین دین کے فروغ پر گفتگو ہوئی ۔زیکری وٹکوف نے پاکستان کے معاشی پوٹینشل کو سراہا اور مستقبل کی ٹیکنالوجیز اپنانے کی تعریف کی
ذکری وٹکوف نے کہا پاکستان میں معاشی ترقی کے بے پناہ مواقع موجود ہیں۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ فیلڈ مارشل نے کہا پاکستان معاشی استحکام اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کے لیے پُرعزم ہے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ذمہ دار نجی شعبے کی قومی ترقی میں شمولیت پر زور دیا۔
ایلون مسک نے ایران میں مفت اسٹار لنک انٹرنیٹ فراہم کر دیا
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
پڑھیں:
امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
نیویارک(نیوز ڈیسک)امریکہ نے “جبری مشقت سے متعلق خدشات کے پیش نظر” پاکستان، بھارت، چین اور یورپی یونین سمیت 60 تجارتی شراکت دار ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کے مطابق ان برآمدی محصولات (ٹیرف) کی شرح 10 فیصد سے لے کر 12.5 فیصد تک ہوگی اور یہ جمعہ یعنی آج سے نافذ العمل ہوں گے۔
Today, Ambassador Greer is taking action, at President Trump’s direction, under Section 301 of the Trade Act of 1974 by imposing tariffs on 60 trading partners for their failure to adopt and effectively enforce a prohibition on the importation of goods produced with forced labor.…
— United States Trade Representative (@USTradeRep) July 23, 2026
انہوں نے کہا کہ امریکہ میں جبری مشقت کے خلاف قوانین طویل عرصے سے نافذ ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ دیگر ممالک بھی اسی طرز کے اقدامات کریں۔
یہ نئے محصولات اس عالمی ڈیوٹی کی جگہ لیں گے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال کے آغاز میں عائد کی گئی تھی اور جس کی مدت اب ختم ہو رہی ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے فروری میں بعض ٹیرف مسترد کیے جانے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے متبادل قانونی راستوں کے ذریعے نئے اقدامات متعارف کروائے ہیں۔
امریکہ کے تجارتی نمائندوں کے دفتر کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا اور ملائیشیا سمیت کئی ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ چین سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ڈیوٹی لاگو ہوگی۔
یورپی یونین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کے لیے ٹیرف کی مجموعی شرح 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان رکھی گئی ہے۔
دوسری جانب متاثرہ ممالک نے ان اقدامات پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ جاپان اور آسٹریلیا نے ان ٹیرف کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آزاد تجارتی معاہدوں کے منافی ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق اسٹیل اور ایلومینیم جیسے شعبہ جاتی ٹیرف پہلے سے نافذ ہیں اور ان پر نئے اقدامات کا اطلاق نہیں ہوگا، جبکہ توانائی اور کھاد سمیت بعض اشیا کو استثنا دیا گیا ہے۔
اسلام آباد نے بھی جبری مشقت سے متعلق تحقیقات پر امریکی حکام کو تفصیلی جوابات جمع کرائے ہیں، بلکہ حالیہ تجارتی مذاکرات سے ایک روز قبل بھی مزید وضاحتیں فراہم کی تھیں۔
مزید پڑھیں۔ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے