بسنت منانے کی خواہش اوورسیز پاکستانیوں کو بھی لاہور کھینچ لائی
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
لاہور میں بسنت کی تیاریاں زوروں پر ہیں جس میں شرکت کے لیے بیرون ملک مقیم پاکستانی بھی وطن پہنچنا شروع ہوگئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ’محفوظ بسنت‘: لاہور میں سخت ضوابط کے ساتھ 3 روزہ تہوار کی تیاریاں مکمل
امریکا کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن کے بانی عدنان منور کے مطابق لاہور کی فضا جلد ہی رنگ برنگی پتنگوں اور لوگوں کی خوشیوں سے سج جائے گی۔
مزید پڑھیے: پنجاب میں بسنت پر پتنگ بازی کی مشروط اجازت: پابندیوں کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کا فیصلہ
عدنان منور نے بسنت منانے کی اجازت دینے پر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ایک طویل عرصے بعد اس تہوار کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیا۔ تفصیل جانیے اس ویڈیو رپورٹ میں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بسنت بسنت میں اوورسیز پاکستانیوں کی شرکت لاہور میں بسنت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بسنت میں اوورسیز پاکستانیوں کی شرکت لاہور میں بسنت
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔