ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران میں لوگوں کو پھانسی دینے کا کوئی منصوبہ نہیں، پھانسی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران میں امن قائم ہے، صورت حال مکمل قابو میں ہے۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ مظاہروں میں موجود عناصر کو بیرون ملک سے کنٹرول کیا جا رہا تھا، داعش طرز کی دہشت گرد کارروائیاں کیں اور پولیس اہل کاروں کو زندہ جلایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ جون جیسی غلطی دوبارہ نہ دہرائیں، ورنہ وہی نتیجہ نکلے گا جو پہلے نکلا تھا، عزم کو بمباری سے توڑا نہیں جا سکتا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یورپی ممالک کی جانب سے مختلف قسم کے خطرات کا سامنا ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے اوول آفس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں بڑے پیمانے پر پھانسیوں کا کوئی منصوبہ نہیں، یہ معلومات دوسری طرف کے بہت اہم ذرائع سے موصول ہوئی ہیں کہ ہلاکتیں رک گئی ہیں اور پھانسیاں نہیں ہوں گی۔

دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ قطر میں امریکی فوجی ایئر بیس العدید سے کچھ اہلکاروں کو نکلنے کا حکم دے چکی ہے جبکہ برطانیہ نے بھی قطر کے امریکی فوجی اڈے سے اپنا عملہ نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ایران میں

پڑھیں:

جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی

تہران:

ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔

 

ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔

مزید پڑھیں

مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔

ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی