سپریم کورٹ نے زنا بالجبر کے ملزم مدثر کی ضمانت منظور کر لی
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
سپریم کورٹ نے ٹوبہ ٹیک سنگھ میں زنا بالجبر کے ملزم مدثر کی ضمانت منظور کر لی ہے۔ 3 رکنی بینچ کی سربراہی جسٹس جمال خان مندوخیل نے کی۔ دوران سماعت عدالت نے مقدمے میں ثبوتوں اور تحقیقات کے معیار پر تفصیلی گفتگو کی اور مقدمے میں لڑکی اور ملزم کے مؤقف دونوں پر غور کیا۔
یہ بھی پڑھیں:لاہور میں 2 سگی بہنوں کے ساتھ اجتماعی زیادتی، 5 ملزمان گرفتار
سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ جتنا سنگین الزام ہو، اتنی سنجیدہ تحقیقات بھی ہونی چاہیے۔ سرکاری وکیل نے بتایا کہ تحقیقات میں لڑکی کے ملزم کے گھر رہنے کی تصدیق ہوئی ہے، جبکہ ملزم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم الزام سے مکمل انکار کر رہا ہے۔
جسٹس ملک شہزاد نے کہا کہ الزام ثابت کرنا مدعی کا کام ہے، ملزم کا نہیں۔ جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ کوئی اپنی بیٹی پر جھوٹا الزام لگا کر تماشا کیوں بنائے گا۔ جسٹس جمال مندوخیل نے مزید کہا کہ ایسے کئی واقعات تو رپورٹ بھی نہیں ہوتے، اور میڈیکل رپورٹ بھی ملزم کے خلاف نہیں ہے، جبکہ سرکاری وکیل نے کہا کہ میڈیکل ۲ ماہ کی تاخیر سے کیا گیا۔
عدالت نے کہا کہ ہر مقدمہ ریپ کا نہیں ہوتا اور صرف لڑکی کی گواہی پر سزا دینا ممکن نہیں۔ جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ کیا رضا مندی کے کیس میں زبردستی کی دفعات لاگو ہو سکتی ہیں؟ عدالت نے زور دیا کہ جو جرم ہو گا، اتنی ہی سزا دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں:دہرے قتل، زنا کا ملزم 21 برس بعد بری
ملزم کے خلاف مقدمہ اس وقت درج ہوا جب خاتون کے والد نے ٹوبہ ٹیک سنگھ میں گزشتہ برس مدثر کے خلاف زنا بالجبر کا کیس درج کروایا تھا۔ سپریم کورٹ نے سماعت کے بعد ملزم مدثر کی ضمانت منظور کرلی اور آئندہ سماعت پر مزید شواہد کی جانچ کا حکم دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ٹوبہ ٹیک سنگھ جسٹس جمال مندوخیل جسٹس ملک شہزاد زنا بالجبر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ٹوبہ ٹیک سنگھ جسٹس جمال مندوخیل جسٹس ملک شہزاد زنا بالجبر
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔