کراچی کے علاقے فیروز آباد میں پولیس نے ایک صنعت کار کے گھر سے چوری کرنے والے گھریلو ملازماؤں کے منظم گینگ کو گرفتار کر لیا ہے۔پولیس کے مطابق یہ کارروائی خفیہ اطلاع کی بنیاد پر کی گئی، جس کے نتیجے میں پانچ خواتین کو حراست میں لیا گیا جو ایک ہی بنگلے میں ملازمت کر رہی تھیں، گرفتار کی گئی پانچوں ماسیاں گزشتہ نو برس سے ایک ہی صنعت کار کے گھر کام کر رہی تھیں۔ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ ان خواتین نے طویل عرصے کے دوران گھر سے نقد رقم اور قیمتی اشیا چوری کیں، گینگ کی سرغنہ خاتون عروج نے گھر کے لاکر کی چابی چرا کر تین ہزار روپے میں اس کی نقل بنوائی، جس کے بعد باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت چوری کا سلسلہ جاری رکھا گیا۔ایس ایس پی ایسٹ کے مطابق گرفتار ملازماؤں کے قبضے سے لاکھوں روپے نقدی اور متعدد موبائل فونز برآمد کیے گئے ہیں، تفتیش کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ چوری کی گئی رقم سے گینگ کی بعض ارکان نے گھر، گاڑی اور موٹر سائیکل بھی خریدی۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ تمام اثاثے مشکوک ذرائع سے حاصل کیے گئے اور ان کی مزید جانچ کی جا رہی ہے، واقعے کا مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا اس گینگ کی سرگرمیاں مزید گھروں تک بھی پھیلی ہوئی تھیں یا نہیں۔حکام کے مطابق گرفتار خواتین سے مزید تفتیش جاری ہے اور امکان ہے کہ اس کیس میں مزید انکشافات سامنے آئیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک

کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن  تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار

تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔

 پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد

پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔

اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک

متعلقہ مضامین

  • کراچی: ملیر 15 میں رینجرز اور ایس آئی یو کی کارروائی، 3 بھتہ خور ہلاک
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 5 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 
  • کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار