جے یو پی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ امریکہ معدنی وسائل پر قبضے کے لیے دنیا بھر میں انتہاپسندانہ رویہ اختیار کر چکا ہے اور ایران کے داخلی معاملات میں کھلی مداخلت کرتے ہوئے مظاہرین کی حمایت اور ایرانی قیادت کو دھمکیاں دے رہا ہے، جو عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہی روش برقرار رہی تو پاکستان بھی اس جارحیت سے محفوظ نہیں رہے گا اور ہمارے حکمران محض خوشامد کے ذریعے کسی طاقت سے تحفظ حاصل نہیں کر سکتے۔ اسلام ٹائمز۔ جمعیت علماء پاکستان (جے یو پی) کراچی کے زیراہتمام قائدِ جمعیت ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر نقشبندی مجددی کے مسلسل ساتویں مرتبہ مرکزی صدر منتخب ہونے پر جامع مسجد امام شاہ احمد نورانی، گلبرگ میں شاندار استقبالیہ تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب کی صدارت علامہ قاری خلیل احمد نورانی نے کی۔ استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر نے عالمی صورتحال کو لمحہ فکریہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ معدنی وسائل پر قبضے کے لیے دنیا بھر میں انتہاپسندانہ رویہ اختیار کر چکا ہے اور ایران کے داخلی معاملات میں کھلی مداخلت کرتے ہوئے مظاہرین کی حمایت اور ایرانی قیادت کو دھمکیاں دے رہا ہے، جو عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہی روش برقرار رہی تو پاکستان بھی اس جارحیت سے محفوظ نہیں رہے گا اور ہمارے حکمران محض خوشامد کے ذریعے کسی طاقت سے تحفظ حاصل نہیں کر سکتے۔

انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو اپنے اندر ایمانی غیرت اور خودداری پیدا کرنا ہوگی، کیونکہ جب یہ جذبہ بیدار ہو جائے تو کوئی طاقت نہ ڈرا سکتی ہے اور نہ ہی دبا سکتی ہے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا کہ اگر امریکہ سمیت کسی نے بھی پاکستان پر میلی نظر ڈالی تو قوم اس کا بھرپور جواب دے گی، اور جمعیت علماء پاکستان استحکامِ پاکستان کے لیے کسی بھی قسم کی قربانی دینے سے دریغ نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ عہدہ کسی اعزاز کا نہیں بلکہ ذمہ داری کا نام ہے، اور ستائش کا اصل حق دار وہی ہوتا ہے جو منصب کا حق ادا کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جے یو پی کی قیادت نے ہمیشہ کارکنوں کو تصادم اور تشدد کی سیاست سے دور رکھا اور پُرامن جدوجہد کے ذریعے ظالم و جابر حکمرانوں سے بھی اپنے مطالبات منوائے۔ انہوں نے کارکنان پر زور دیا کہ وہ جے یو پی کے پیغام کو گھر گھر پہنچانے کے لیے اپنی جدوجہد کو مزید تیز کریں۔ اس موقع پر صوبائی صدر علامہ السید عقیل انجم قادری، علامہ حافظ ریحان غوری، عبد الوحید یونس، علامہ پروفیسر انوار احمد، شیخ تاج الدین صدیقی، علامہ انور علی قاسمی اور قاری امیرالدین نے بھی خطاب کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انہوں نے جے یو پی کے لیے

پڑھیں:

امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان

نیویارک(نیوز ڈیسک)امریکہ نے “جبری مشقت سے متعلق خدشات کے پیش نظر” پاکستان، بھارت، چین اور یورپی یونین سمیت 60 تجارتی شراکت دار ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کے مطابق ان برآمدی محصولات (ٹیرف) کی شرح 10 فیصد سے لے کر 12.5 فیصد تک ہوگی اور یہ جمعہ یعنی آج سے نافذ العمل ہوں گے۔

Today, Ambassador Greer is taking action, at President Trump’s direction, under Section 301 of the Trade Act of 1974 by imposing tariffs on 60 trading partners for their failure to adopt and effectively enforce a prohibition on the importation of goods produced with forced labor.…

— United States Trade Representative (@USTradeRep) July 23, 2026

انہوں نے کہا کہ امریکہ میں جبری مشقت کے خلاف قوانین طویل عرصے سے نافذ ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ دیگر ممالک بھی اسی طرز کے اقدامات کریں۔

یہ نئے محصولات اس عالمی ڈیوٹی کی جگہ لیں گے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال کے آغاز میں عائد کی گئی تھی اور جس کی مدت اب ختم ہو رہی ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے فروری میں بعض ٹیرف مسترد کیے جانے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے متبادل قانونی راستوں کے ذریعے نئے اقدامات متعارف کروائے ہیں۔

امریکہ کے تجارتی نمائندوں کے دفتر کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا اور ملائیشیا سمیت کئی ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ چین سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ڈیوٹی لاگو ہوگی۔

یورپی یونین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کے لیے ٹیرف کی مجموعی شرح 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان رکھی گئی ہے۔

دوسری جانب متاثرہ ممالک نے ان اقدامات پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ جاپان اور آسٹریلیا نے ان ٹیرف کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آزاد تجارتی معاہدوں کے منافی ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق اسٹیل اور ایلومینیم جیسے شعبہ جاتی ٹیرف پہلے سے نافذ ہیں اور ان پر نئے اقدامات کا اطلاق نہیں ہوگا، جبکہ توانائی اور کھاد سمیت بعض اشیا کو استثنا دیا گیا ہے۔

اسلام آباد نے بھی جبری مشقت سے متعلق تحقیقات پر امریکی حکام کو تفصیلی جوابات جمع کرائے ہیں، بلکہ حالیہ تجارتی مذاکرات سے ایک روز قبل بھی مزید وضاحتیں فراہم کی تھیں۔

مزید پڑھیں۔ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے

متعلقہ مضامین

  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار