پاکستان کے پہلے خود مختار اے آئی کلاؤڈ کی تیاری: پاکستانی اور امریکن کمپنی میں معاہدہ طے پاگیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستانی کمپنی ڈیٹا والٹ اور امریکی کمپنی رافے سسٹم کے ساتھ پاکستان میں مصنوعی ذہانت پرکام کےگا
کراچی(رپورٹ: منیر عقیل انصاری)پاکستان میں مصنوعی ذہانت کو فروغ دینے کے لئے خصوصی ڈیٹا سینٹر قائم کیا جائے گا اس حوالے سے پاکستانی کمپنی ڈیٹا والٹ پاکستان نے امریکی کمپنی رافے سسٹمز کے ساتھ شراکت داری معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ معاہدے کے تحت پاکستان کا پہلا خود مختار اے آئی کلاؤڈ تیار کیا جا سکے۔ اس منصوبے کا مقصد ٹیلی کام کمپنیوں، بینکوں، کلاؤڈ فراہم کنندگان اور بڑے اداروں کے حساس ڈیٹا کو ملک کے اندر ہی محفوظ رکھتے ہوئے بڑے پیمانے پر آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا استعمال کو فروغ دینا ہے۔ اور ان رکاوٹوں کو دور کرنا ہے جن کی وجہ سے تجربات اور پیداواری عمل میں سستی آتی ہے۔
جی پی یو کمپیوٹنگ اور دیگر پلیٹ فارم میں ضم کیا جائے گا جس سے اداروں کو مکمل مصنوعی ذہانت پر تیزی سے منتقل ہونے میں معاونت ہو۔ اس ڈیٹا سینٹر سے مقامی اسٹارٹ اپس، یونیورسٹیوں، اداروں اور خدمات کی صنعت کا ڈیٹا بیرون ملک سروسز پر نہیں رکھنا پڑے گا۔
ڈیٹا والٹ پاکستان کی بانی اور سی ای او مہوش سلمان علی نے اس موقع پر کہا کہ اس شراکت داری کا مقصد خود مختااور بڑے پیمانے پرر مصنوعی ذہانت کے استعمال کے زریعے حساس ڈیٹا ملک کے اندر ہی محفوظ رکھنا ہے۔
اس منصوبے کے اہم متوقع نتائج میں بینکنگ، ٹیلی کمیونیکیشن، صحت، مینوفیکچرنگ اور سرکاری شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کو تیزی سے مارکیٹ میں لانا شامل ہے۔
یہ پلیٹ فارم صنعت کے اس عالمی رجحان کے عین مطابق ہے جو ‘سیلف سروس پی یو جی کلاؤڈز’ کی طرف بڑھ رہا ہے،
رافے سسٹمز کے سی ای او حسیب بدھانی نے رفتار اور کنٹرول کے توازن پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ صارفین سیکیورٹی یا کنٹرول پر سمجھوتہ کیے بغیر فوری طور پر اے آئی کے نتائج چاہتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مصنوعی ذہانت
پڑھیں:
پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 2 جون 2026 کے لیے مختلف عالمی کرنسیوں کے پاکستانی روپے کے مقابلے میں تازہ ریٹس جاری کر دیے ہیں۔ جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق امریکی ڈالر اپنی سابقہ سطح کے قریب برقرار ہے جبکہ برطانوی پاؤنڈ، یورو اور خلیجی ممالک کی کرنسیاں بھی مستحکم رجحان دکھا رہی ہیں۔
امریکی ڈالر کی قیمت
اسٹیٹ بینک کے مطابق امریکی ڈالر کی انٹربینک شرح 278.46 روپے رہی۔ مالیاتی ماہرین کے مطابق ڈالر کی قیمت گزشتہ کئی ماہ سے 278 سے 280 روپے کے درمیان گردش کر رہی ہے، جس سے زرمبادلہ مارکیٹ میں استحکام کا تاثر مل رہا ہے۔
سعودی ریال اور اماراتی درہم
سعودی ریال 74.19 روپے جبکہ متحدہ عرب امارات کا درہم 75.82 روپے پر برقرار رہا۔ خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر کے باعث ان کرنسیوں کی اہمیت پاکستانی معیشت کے لیے بہت زیادہ ہے۔
یورو اور برطانوی پاؤنڈ
یورو کی قیمت 324.40 روپے جبکہ برطانوی پاؤنڈ 375.18 روپے ریکارڈ کیا گیا۔ یورپ اور برطانیہ میں زیر تعلیم پاکستانی طلبہ اور وہاں مقیم پاکستانی خاندانوں کے لیے ان کرنسیوں کی قیمتیں خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔
دیگر اہم کرنسیاں
کینیڈین ڈالر 201.19 روپے، آسٹریلوی ڈالر 200.03 روپے، قطری ریال 76.39 روپے، بحرینی دینار 738.61 روپے اور کویتی دینار 907.63 روپے کی سطح پر رہا، جو بدستور پاکستانی روپے کے مقابلے میں سب سے مہنگی کرنسیوں میں شامل ہے۔
آج کے نمایاں کرنسی ریٹس
امریکی ڈالر: 278.46 روپے
سعودی ریال: 74.19 روپے
اماراتی درہم: 75.82 روپے
قطری ریال: 76.39 روپے
یورو: 324.40 روپے
برطانوی پاؤنڈ: 375.18 روپے
کینیڈین ڈالر: 201.19 روپے
آسٹریلوی ڈالر: 200.03 روپے
کویتی دینار: 907.63 روپے
بحرینی دینار: 738.61 روپے
عمانی ریال: 723.26 روپے
ماہرین کے مطابق آئندہ دنوں میں روپے کی قدر کا انحصار ترسیلات زر، زرمبادلہ ذخائر، درآمدی ادائیگیوں اور عالمی مالیاتی رجحانات پر ہوگا۔