data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260116-01-23

 

 

لاہور/اسلام آباد(نمائندگان جسارت) پنجاب کے بلدیاتی قانون پر4روزہ عوامی ریفرنڈم کا جمعرات کو آغاز ہوگیا ،پہلے روز مردو خواتین نے بھرپور انداز میں رائے کا اظہار کیا ، نتائج کی روشنی میں پنجاب اسمبلی کا گھیراؤ کیا جائے گا، کالے قانون کی واپسی تک گھیراؤ جاری رہے گا۔جماعت اسلامی کے زیراہتمام ریفرنڈم کے لیے مرکز اور صوبے کے تمام اضلاع میں آزاد ریفرنڈم کمیشن تشکیل دے کر احمد بلال محبوب کو چیف الیکشن کمیشن مقرر کیا گیا۔ آزادانہ رائے دہی کے  لیے چوکوں ، چوراہوں ، گلیوں ، مارکیٹوں، تعلیمی اداروں اور دیگر عوامی مقامات پر کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔ لاہور میں 14 سو کیمپ جبکہ باقی اضلاع میں بھی ہزاروں کیمپ قائم ہیں۔ ریفرنڈم کے پہلے روز بھرپور گہما گہمی رہی اور مردو خواتین کی بڑی تعداد نے رائے کا اظہار کیا۔ ٹاؤن شپ لاہور میں پولنگ کیمپ کے دورے کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پنجاب بیدار ہوگیا ہے، مؤثر بلدیاتی نظام کے مطالبے کی لہر پورے ملک میں پھیلے گی۔ امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ پنجاب کا کالا قانون جو جمہوریت اور عوام کی توہین ہے کو واپس لیا جائے اور بلدیاتی انتخاب کی تاریخ کا اعلان کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے عوام گزشتہ 10 برس سے نچلی سطح پر حق حکمرانی سے محروم ہیں، بلدیاتی قانون میں باربار تبدیلی کی گئی ، اسلام آباد میں بلدیاتی قانون 5 مرتبہ تبدیل کیا گیا۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ صوبائی حکومتیں اختیارات پر قابض ہیں، پنجاب کے علاوہ دیگر صوبوں میں بھی بلدیاتی نظام نہ ہونے کے برابر ہے۔ حکمران خاندان نہیں چاہتے کہ عوام بااختیار ہو، راجاؤں اور رانیوں کی طرح طاقت اپنے ہاتھ میں رکھنا اور خوشامدیوں میں گھرے رہنا ان کا وتیرہ ہے، حکمران خاندان اپنی پارٹیوں میں سیاسی کارکن کو بھی اختیار نہیں دیتے، یہ عوام سے خوف زدہ ہیں ، جماعت اسلامی خاندانوں کی اجارہ داری کو چیلنج کررہی ہے، ہم عوام کے حقوق کے لیے میدان عمل میں ہیں اور عالمی سطح پر بھی امت اور دکھی انسانیت کے حق میں بھرپور آواز بلند کررہے ہیں۔ امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ پنجاب کے بلدیاتی قانون میں غیر جماعتی انتخابات کی بات کی گئی ہے ، جو آئین و جمہوریت سے انحراف ہے ، اس قانون میں یونین کونسل کا چیئرمین بھی براہ راست ووٹ سے منتخب نہیں ہوگا ، اسے ایک ماہ کے اندر کسی سیاسی پارٹی میں شامل ہونا ہوگا، ایسا محض اس لیے کیا جارہا ہے تاکہ حکمران طبقہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کی طرز پر منتخب نمائندوں کی خریدوفروخت کے عمل کو نچلی سطح تک بھی لے جائے۔ معاشرے میں بلدیاتی حکومتیں اور طلبہ یونین جمہوریت کی نرسری تصور کی جاتی ہیں ، پاکستان میں دونوں پر پابندی ہے، اس کالے قانون کو کسی صورت تسلیم نہیں کریں گے، جمہوریت کی مضبوطی کے لیے جدوجہد بھرپور طریقے سے جاری رہے گی۔امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاالدین انصاری، سیکرٹری اطلاعات جماعت اسلامی پاکستان شکیل ترابی ، سیکرٹری جنرل لاہور اظہر بلال ، نائب امیر لاہور خالد بٹ، امیر ضلع مرزا محمد رشید ، سلمان ایوب اور دیگر رہنما بھی اس موقع پر موجود تھے۔ دریں اثنانائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ اور امیر جماعت اسلامی پنجاب ڈاکٹر طارق سلیم نے کچہری چوک گجرات میں جبکہ سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پنجاب اقبال خان نے اٹک میں ریفر نڈم کے کیمپ کا افتتاح کیا اور مختلف شہروں اور اضلاع کا دورہ بھی کیا۔اس موقع پر گفتگو کر تے ہو ئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ پنجاب کا بلدیاتی قانون غیر جمہوری اور آئین سے متصادم ہے،پہلے سینیٹ اور قومی اسمبلی میں انسانوں کی منڈی لگتی تھی اب غیر جماعتی بلدیاتی انتخابات کے ذریعے حکمران خاندان یہ منڈی نچلی سطح تک لے کر جانا چاہتے ہیں،موجودہ حکومت نے بلدیاتی اداروں کو بیورو کریسی کے تابع بنا کر عوامی فیصلہ سازی کا حق چھین لیا ہے، جماعت اسلامی اس قانون کے خلاف بھرپور مزاحمت جاری رکھے گی اورحکومت کو اسے واپس لینے پرمجبورکردیں گے، اس قانون کے ذریعے انتظامی، مالیاتی اور فیصلہ کن اختیارات منتخب نمائندوں سے چھین کر افسر شاہی کو دے دیے گئے ہیں، جس کی آئین میں کوئی گنجائش موجود نہیں۔ سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر حمیرا طارق، ڈپٹی سیکرٹریز ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی، ڈاکٹر زبیدہ جبیں اور ڈپٹی سیکرٹری و ڈائریکٹر میڈیا سیل ثمینہ سعید نے مرکزی خواتین منصورہ میں قائم ریفرنڈم کیمپ کا دورہ کیا اور ووٹ پول کر کے اس عوامی مہم میں عملی شرکت کی۔میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر حمیرا طارق نے کہا کہ صوبائی حکومتوں کا بااختیار مقامی حکومتیں قائم کرنے سے انکار دراصل عوام کو ان کے بنیادی جمہوری حق سے محروم کرنے کے مترادف ہے۔ نچلی سطح پر اختیارات منتقل کیے بغیر عوامی مسائل کا حل ممکن نہیں۔انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت 2015ء کے بعد سے بلدیاتی انتخابات کرانے میں مسلسل ناکام رہی ہے، جو کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 140-اے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔پنجاب بلدیاتی ایکٹ 2025ء ایک کالا قانون ہے، جس کے ذریعے اختیارات عوامی نمائندوں کے بجائے بیوروکریسی کو منتقل کیے جا رہے ہیں، جو جمہوریت کے منہ پر طمانچہ ہے۔اس موقع پر سوشل میڈیا کی نگراں خالدہ شہزاد، ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات شہناز عاصمہ، رفعت پراچہ ،سیکرٹری اطلاعات وسطی پنجاب صفیہ ناصر، نائب ناظمہ ضلع لاہور شازیہ عبدالقادر اور ضلع غربی سے ثمینہ باجوہ بھی موجود تھیں۔

 

 

نمائندہ جسارت.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی پاکستان امیر جماعت اسلامی بلدیاتی قانون نے کہا کہ کہ پنجاب نچلی سطح

پڑھیں:

یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری

دبئی: یو اے ای ویزا آن ارائیول سے متعلق متحدہ عرب امارات نے نئی شرائط، فیس اور درخواست کے طریقہ کار کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔ نئی ہدایات کے تحت مخصوص ممالک کے اہل شہری امارات پہنچنے پر 14 یا 60 روزہ ویزا حاصل کر سکیں گے، تاہم اس کے لیے مقررہ شرائط پر پورا اترنا لازمی ہوگا۔

دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق بھارت، انڈونیشیا، ویتنام، تھائی لینڈ، فلپائن، کینیا اور جنوبی افریقہ کے شہری، اور ان کے ہمراہ سفر کرنے والے اہل خانہ، اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

حکام کے مطابق درخواست گزار کے پاس کم از کم چھ ماہ کے لیے کارآمد پاسپورٹ، سفید پس منظر والی حالیہ رنگین تصویر اور امریکا، برطانیہ، یورپی یونین، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جاپان، جنوبی کوریا یا سنگاپور کی جانب سے جاری کردہ قابل قبول رہائشی پرمٹ یا ویزا ہونا ضروری ہے۔

اعلامیے کے مطابق 14 روزہ ویزا آن ارائیول کو صرف ایک مرتبہ مزید 14 دن کے لیے توسیع دی جا سکتی ہے، جبکہ 60 روزہ ویزا میں توسیع کی سہولت دستیاب نہیں ہوگی۔

جی ڈی آر ایف اے نے بتایا کہ ویزا کے لیے درخواست اس کی سرکاری ویب سائٹ یا اسمارٹ ایپ کے ذریعے جمع کرائی جا سکتی ہے۔ درخواست کی منظوری کے بعد ویزا رجسٹرڈ ای میل پر ارسال کیا جائے گا، جبکہ عام طور پر درخواستوں پر 48 گھنٹوں کے اندر کارروائی مکمل کر لی جاتی ہے۔

فیس کے حوالے سے جاری تفصیلات کے مطابق 14 روزہ ویزا آن ارائیول کی فیس 172.50 درہم جبکہ 60 روزہ ویزا کی فیس 422.50 درہم مقرر کی گئی ہے۔

جی ڈی آر ایف اے کا کہنا ہے کہ اس سہولت کا مقصد بین الاقوامی مسافروں کے لیے سفری عمل کو مزید آسان بنانا، سیاحت کو فروغ دینا اور زیادہ سے زیادہ سیاحوں کو متحدہ عرب امارات کی جانب راغب کرنا ہے۔

ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران اس پروگرام کے تحت 73 ہزار 551 ویزے جاری کیے جا چکے ہیں، جو اس سہولت کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی نشاندہی کرتے ہیں۔

اہم وضاحت: جاری کردہ شرائط میں پاکستانی پاسپورٹ ہولڈرز شامل نہیں ہیں۔ یہ سہولت صرف ان مخصوص ممالک کے شہریوں کے لیے ہے جن کا جی ڈی آر ایف اے نے اعلان کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • خیبر پی کے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان 
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن