حکومت اور اپوزیشن جمہوریت کی گاڑی کے دو ایسے پہیے ہیں جو ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ حکمراں جماعت اپنے منشورکے مطابق قومی زندگی کے مختلف شعبوں سے متعلق منصوبہ بندی کرتی ہے اور ان پر عمل درآمد کرکے ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی کی راہیں متعین کرتی ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن کی جماعتیں ہوتی ہیں جو حکومت کی پالیسیوں،فیصلوں، اقدامات اور منصوبوں کے حوالے سے اپنے اپنے نکتہ نظر کے مطابق اسمبلیوں میں اپنی آرا کا اظہارکرتی ہیں۔ اپوزیشن کی جانب سے قومی مفادات کے ضمن میں کیے گئے حکومتی فیصلوں کی جہاں پذیرائی کی جاتی ہے، وہیں بعض حکومتی اقدامات کو اپوزیشن ارکان اسمبلی کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہیں،کھل کر اپنے موقف کا اظہارکرتے ہیں،کبھی احتجاج اورکبھی اسمبلی کارروائی کا بائیکاٹ بھی کیا جاتا ہے۔
مہذب، باوقار اور باشعور جمہوری معاشرے میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان افہام و تفہیم سے امور سلطنت چلائے جاتے ہیں۔ حکومت اپوزیشن کی مثبت تجاویز اور آرا کا احترام کرتی ہے اور انھیں اپنے منصوبوں کا حصہ بناتی ہے یہی جمہوریت کا حسن ہے۔
پاکستان کے جمہوری معاشرے میں اپوزیشن اور حکومت کے مراسم کے حوالے سے یہ تلخ اور افسوس ناک حقیقت سامنے آتی ہے کہ اول دن سے آج تک کسی بھی حکمراں جماعت یا اتحاد کے اپنی اپوزیشن کے ساتھ خوشگوار اور افہام و تفہیم والے اچھے تعلقات کا قیام تشنہ تعبیر چلا آ رہا ہے۔ ہماری قومی سیاسی زندگی کی یہ روایت رہی ہے کہ حکمرانوں نے اپنے اقتدارکی طاقت اور اختیارات کو ہمیشہ اپوزیشن کے خلاف استعمال کیا ہے۔
اسمبلی سے بہ زور طاقت ایسے قوانین اور آئینی ترامیم منظورکرائی گئیں جو اپوزیشن کو دیوار سے لگانے اور ان کے خلاف مقدمات کے قیام کا موجب بنیں۔ نتیجتاً حکومت اور اپوزیشن کے درمیان افہام و تفہیم کی فضا توکیا پروان چڑھتی الٹا مخاصمت، نفرت، انتقام،کشیدگی اور ٹکراؤ و تصادم کے راستے کھلتے چلے گئے۔ اپوزیشن نے حکومتی ہتھکنڈوں کے خلاف سڑکوں پر عوامی احتجاج کا راستہ اختیارکیا۔ دو طرفہ ٹکراؤ کے نتیجے میں جمہوریت کی ٹرین کو بریک لگے اور ملک مارشل لاؤں کی نذر ہوگیا۔
پھانسی، جلاوطنی، جیلیں اور قید و سزائیں سیاستدانوں کا مقدر بنتی گئیں، غیر جمہوری قوتیں غلبہ حاصل کر کے اپنا اثر و رسوخ بڑھانے میں قدم بہ قدم آگے بڑھتی رہیں اور خوش قسمتی سے ایوان عدل سے آنے والے تائید و حمایت کے ٹھنڈے جھونکوں نے ان کے شوق اقتدار و اختیار کو اور مہمیزکیا۔ سلسلہ دراز ہوتا گیا، غیر سیاسی قوتیں مضبوط سے مضبوط تر اور سیاسی جماعتیں کمزور سے کمزور تر ہو کر ان کی دست نگر بن کر رہ گئیں، نتیجتاً ملک میں آئین و قانون کی بالادستی اور جمہوریت کا استحکام تشنہ تعبیر رہا۔ چوںکہ ہمارے ہاں ماضی کی غلطیوں، کوتاہیوں اور ناکامیوں سے سبق سیکھنے کی کوئی تابندہ روایت موجود نہیں ہے، لہٰذا ہر آنے والا حکمران اپنی طاقت و اختیارات کے زعم میں ماضی کی تاریخ کو قصہ پارینہ سمجھ کر بھلا دیتا ہے۔
جب کہ داناؤں کا قول صادق ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ جو حکمران اس قول کی صداقت اور حقیقت کو سمجھتے اور جانتے ہیں انھیں مکافات عمل کا بخوبی ادراک ہوتا ہے۔ تاریخ کے اوراق میں ایسی بہت سی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ جب لوگوں نے ماضی کی تلخیوں سے صرف نظر کرتے ہوئے کھلے دل سے نئے حالات کو خوش آمدید کہا اور اپنے ہم عصروں کے ساتھ افہام و تفہیم کا معاملہ کیا۔ نیلسن منڈیلا کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ ربع صدی جیل کاٹنے کے بعد بھی انتقام کا شائبہ بھی ان کے دل و دماغ میں نہ تھا۔ آج وہ آل ٹائم گریٹ لیڈر کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں۔
5 جولائی 1977 کو ملک کی منتخب جمہوری حکومت کا تختہ الٹا گیا۔ مقبول عوامی لیڈر ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کی سزا دی گئی، بے نظیر بھٹو کو جلاوطنی اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں، بھٹو خاندان نے جمہوریت کے لیے اپنے خون کی قربانی دی، لیکن بے نظیر بھٹو نے افہام و تفہیم کا راستہ اختیار کرتے ہوئے جمہوریت کو بہترین انتقام قرار دیا۔
صدر آصف زرداری جو قومی سیاست میں مفاہمت کے بادشاہ ہیں انھوں نے بے نظیر بھٹو کی شہادت پر ’’ پاکستان کھپے‘‘ کا نعرہ لگا کر وطن عزیز کو ایک بڑے بحران سے بچا لیا۔ آج وہ ملک کے صدر ہیں اور اپنی سب سے بڑی سیاسی مخالف جماعت مسلم لیگ (ن) کے ساتھ شریک اقتدار ہیں جب کہ آج بھی اپوزیشن آزمائشوں کا سامنا کر رہی ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان افہام و تفہیم کی فضا بنتی نظر نہیں آ رہی۔ مذاکرات کی بات دو قدم آگے چلتی ہے تو چار قدم پیچھے پیچھے چلی جاتی ہے۔ مودی و ٹرمپ کے عزائم کے پیش نظر پاکستان میں سیاسی استحکام ضروری ہے۔ لہٰذا فریقین کو افہام و تفہیم کا راستہ نکالنا ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: حکومت اور اپوزیشن افہام و تفہیم کا اپوزیشن کے کا راستہ
پڑھیں:
پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘حکومتی دعوﺅں کے برعکس حالیہ بارشوں میں پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے‘کرنٹ لگنے سے 3 اور آسمانی بجلی گرنے سے 2 افرادجاں بحق ہوئے‘ بارش کے پانی میں ڈوبنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا جبکہ 38 مکانات متاثر ہوئے.(جاری ہے)
پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے مون سون بارشوں کے باعث نقصانات سے متعلق رپورٹ جاری کی ہے ترجمان پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق مون سون بارشوں کے باعث پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ جاں بحق افراد کے خاندانوں کو 10 سے 50 لاکھ روپے تک امداد فراہم کی جا رہی ہے. ادھرمحکمہ موسمیات نے ملک بھر میں موسلا دھار بارش کی پیش گوئی کر تے ہوئے نشیبی علاقے زیر آب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات ظاہر کیئے ہیں رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پورے ملک میں تیز ہواﺅں اور گرج چمک کے ساتھ بیشتر مقامات پر وقفے وقفے سے بارش کا امکان ہے. صوبائی دارلحکومت لاہور میں آج ہونے والی بارش سے واپڈا ٹاﺅن‘ جوہر ٹاﺅن‘ گلبرگ اور ڈیفنس ‘ او پی ایف سوسائٹی‘ ایل ڈی اے ایونیو‘ فیصل ٹاﺅن‘ماڈل ٹاﺅن‘علامہ اقبال ٹاﺅن‘مسلم ٹاﺅن‘گارڈن ٹاﺅن‘سبزہ زار‘ملتان روڈسمیت شہر بھر میں تیزبارش سے شہر کی مرکزی شاہرائیں ندیوں کا منظرپیش کرتی رہیں جبکہ شہر کے نشیبی علاقوں میں پانی گھر میں داخل ہوگیا. شمالی لاہوراور اندرون شہر میں بھی بارش کی پانی کی وجہ سے معمولات زندگی شدید متاثرہوئے . محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چند گھنٹوں کے دوران بھی مزید بارش کا امکان ہے محکمہ موسمیات کے مطابق شام کے وقت درجہ حرات 28ڈگری ریکارڈ کیا گیا جبکہ شہر میں 11 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں تاہم ہوا میں نمی کا تناسب 95 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جس کے باعث موسم مرطوب مگر خوشگوار محسوس کیا جا رہا ہے.