قومی معیشت… کس کا یقین کیجیے
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260116-03-2
کس کا یقین کیجیے، کس کا نہ کیجیے… وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور ان کی کابینہ کے بعض ارکان بار بار یہ دعوے کر رہے ہیں کہ ملک کی معیشت کو دیوالیہ ہونے سے بچا لیا گیا ہے اور اب ملک معاشی لحاظ سے مستحکم اور اقتصادی ترقی و خوش حالی کے سفر پر گامزن ہو چکا ہے۔ بدھ کے روز وفاقی کابینہ کے اسلام آباد میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کے دوران بھی وزیر اعظم نے قوم کو خوش خبری سنائی کہ وطن عزیز میں معاشی استحکام آ گیا ہے اب ہم ترقی کے لیے اقدامات کریں گے اور پاکستان خوش حالی کے سفر پر گامزن ہو گا مگر اس کا کیا کیا جائے کہ خود حکومت اور اس کے اداروں کے جاری کردہ اعداد وشمار اس کے قطعی برعکس حقائق کی نشاندہی کر رہے ہیں، ان اعداد وشمار کے مطابق ملکی درآمدات میں گزشتہ برسوں کے مقابلے میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جب کہ برآمدات میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے جس سے زر مبادلہ کے ذخائر براہ راست دبائو میں ہیں، اسی طرح اخباری اطلاعات یہ ہیں، ماہرین معاشیات جن کی تصدیق کر رہے ہیں کہ ملکی خزانے پر اندرونی اور بیرونی قرضوں کا بوجھ بھی ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔ محترم شہباز شریف کی وزارت عظمیٰ کے پہلے اکیس ماہ کے دوران قرضوں میں بارہ ہزار سات سو تینتیس ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ نومبر 2025ء تک وفاق کا قرضہ 77 ہزار 543 ارب روپے ہو گیا ہے نگران حکومت کے آخری مہینے تک یہ قرض 64 ہزار 810 ارب روپے تھا، وفاقی حکومت کے قرضوں میں یہ اضافہ مارچ دو ہزار چوبیس سے لے کر نومبر دو ہزار پچیس کے دوران ہوا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی دستاویزات کے مطابق مارچ 2024ء سے نومبر 2025ء کے 21 مہینوں کے دوران وفاقی حکومت کے مقامی قرضے میں 11 ہزار 943 ارب روپے اور بیرونی قرضے میں 790 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ ملکی معیشت سے متعلق اعداد وشمار اور دستاویزات کی اس گواہی سے آگے بڑھیں تو حیران کن طور پر وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بھی اعتراف کیا ہے کہ ملک کی اقتصادی صورت حال اطمینان بخش اور حوصلہ افزا نہیں انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ یہ سچ ہے کہ کچھ کمپنیاں پاکستان سے اپنا کاروبار سمیٹ کر جا رہی ہیں اور یہ محض مخالفین کا پروپیگنڈا نہیں بلکہ حقیقت ہے کہ ٹیکس اور توانائی کی قیمت زیادہ ہے۔ ڈیوٹیز کو معقول بنانا اور کاروباری لاگت کم کرنا ہو گی۔ جون تک تمام حکومتی ادائیگیاں ڈیجیٹل چینل پر منتقل ہو جائیں گی، اسلام آباد میں پاکستان پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ معاشی اصلاحات سے ہی ترقی ممکن ہے، معیشت کی بہتری کے لیے اقدامات کر رہے ہیں، نجی شعبے کو آگے آ کر معیشت میں کردار ادا کرنا ہو گا۔ ٹیکس پالیسی کو ایف بی آر سے لے کر فنانس ڈویژن کو منتقل کیا تاکہ پالیسی سازی اور ٹیکس وصولی کے عمل کو الگ کیا جا سکے، ایف بی آر کا فوکس ٹیکس وصولی پر ہے، غیر بینکنگ افراد کو باقاعدہ مالیاتی نظام میں شامل کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ سال 38 ارب ڈالر کی ترسیلات زر آئے، رواں سال 41 ارب ڈالر ترسیلات زر آنے کی توقع ہے۔ ٹیرف میں کمی سے پاکستان کی برآمدات اور صنعتی پیداوار میں اضافہ ہو گا، قرضوں کی ادائیگی خود کم نہیں ہوئی، ہم نے اقدامات کیے۔ وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ یہ سچ ہے کہ کچھ کمپنیاں ملک سے جا رہی ہیں، ہمیں تسلیم کرنا چاہیے کہ ٹیکس یا توانائی کی قیمت زیادہ ہے تو یہ حقیقی مسائل ہیں۔ سرکاری اداروں میں ہر سال تقریباً ایک ہزار ارب روپے ضائع ہو رہے ہیں ، یوٹیلیٹی اسٹورز، پی ڈبلیو ڈی اور پاسکو کو بند کیا گیا، ان اداروں کو دی گئی سبسڈی میں کرپشن ہو رہی تھی۔ وزیر اعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے اصلاحات ناگزیر ہیں، برآمدات پر مبنی ترقی کو فروغ دیا جا رہا ہے، حکومت معاشی اصلاحات کے لیے پر عزم ہے۔ نجکاری کوئی نظریاتی منصوبہ نہیں بلکہ مارکیٹ کی خرابیوں کو درست کرنے کا طریقہ ہے۔ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ حکومت معاشی اصلاحات کے ایجنڈے پر گامزن ہے، سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر پالیسیوں میں تسلسل اور شفافیت لانا ہو گی، معیشت کی بنیادوں کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔ معاشی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنا وقت کا تقاضا ہے، انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری کا عمل کامیابی سے مکمل ہوا، پی آئی اے کی نجکاری سے قومی خزانے پر مالی بوجھ کم ہو گا اور ائر لائن جدید خطوط پر استوار ہو گی، توانائی شعبے میں گردشی قرضوں کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں، حکومتی اداروں میں شفافیت اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال وقت کی اہم ضرورت ہے، معاشی ترقی کے لیے صرف باتوں سے آگے بڑھ کر ڈلیوی پر توجہ دینی ہو گی۔ سطور بالا میں ایک جانب وزیر اعظم کی جانب سے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کیے گئے خطاب میں معاشی استحکام، اقتصادی ترقی اور ملک کے خوشحالی کے سفر پر گامزن ہونے کے دعوے ہیں اور دوسری جانب ان ہی کی کابینہ میں خزانے کا قلم دان سنبھالے وزیر محترم کے اعترافات ہیں، جن کی تردید ان کے ساتھ پالیسی ڈائیلاگ میں خطاب کرنے والے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار اور وزیر اعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے بھی نہیں کی۔ عام آدمی کو بھی جس صورت حال کا سامنا ہے وہ بھی وزیر اعظم کے خوش حالی اور ترقی کے دعوئوں کی تائید اور تصدیق نہیں کرتی، ملکی درآمدات و برآمدات کے مابین بڑھتا ہوا فرق اور قومی خزانے پر روز افزوں قرضوں کے بوجھ بھی ملکی معیشت کی زبوں حالی ہی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ بہتر ہو گا کہ ہمارے ارباب اقتدار و اختیار عوام کو ترقی و خوش حالی اور معاشی استحکام کے غیر حقیقی خواب دکھانے کے بجائے معاشی صورت حال کی حقیقی بہتری اور اصلاح کے لیے سنجیدہ اور ٹھوس اقدامات پر توجہ مرکوز کریں اور وزیر خزانہ نے ٹیکسوں اور توانائی کی قیمتوں کی جس زیادتی کی نشاندہی کی ہے، انہیں حقیقت پسندانہ بنایا جائے تاکہ ملکی صنعت کا پہیہ بھی رواں ہو سکے اور زراعت و تجارت جیسے شعبوں کو درپیش مسائل میں بھی کمی آ سکے۔ ضرورت ہے کہ ٹیکسوں کے ظالمانہ نظام میں بنیادی نوعیت کی اصلاحات کر کے اسے عادلانہ اور منصفانہ بنایا جائے تاکہ ٹیکس دہندگان خوش دلی سے ٹیکسوں کی ادائیگی پر آمادہ ہو سکیں، اسی طرح معاشی نظام کو سود کی لعنت سے پاک کرنے پر نیک نیتی اور سنجیدگی سے توجہ دی جائے تاکہ اللہ اور رسولؐ سے بلاوجہ جنگ سے نجات حاصل کی جا سکے اور اسلامی معاشی نظام کی برکات سے مستفید ہوا جا سکے ملکی ترقی و خوش حالی کے لیے بدعنوانی، رشوت ستانی اور سفارش جیسی خرابیوں سے نظام کو پاک کرنا بھی ضروری ہے اس کے ساتھ صنعت و زراعت کے لیے توانائی کے وسائل کو سستا کرنا بھی لازم ہے تاکہ خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں ہمارے صنعت کار اور کاشت کار پر پیداواری اخراجات کا بوجھ بھی کم ہو سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کر رہے ہیں پر گامزن اضافہ ہو خوش حالی برا مدات ارب روپے کے دوران اور وزیر حالی کے کہ ٹیکس ترقی کے کہ ملک رہا ہے کے لیے
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔