پاکستان، سعودیہ اور ترکیے نے دفاعی معاہدے کا مسودہ تیار کرلیا: رضا ہراج WhatsAppFacebookTwitter 0 16 January, 2026 سب نیوز

اسلام آباد: (آئی پی ایس) وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار رضا حیات ہراج نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے نے تقریباً ایک سال کی بات چیت کے بعد دفاعی معاہدے کا ایک مسودہ تیار کرلیا ہے۔

برطانوی خبر ایجنسی رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے رضا حیات ہراج کا کہنا تھا کہ تینوں علاقائی طاقتوں کے درمیان یہ ممکنہ معاہدہ گزشتہ سال اعلان کیے گئے پاکستان اور سعودی عرب کے دوطرفہ معاہدے سے الگ ہے، معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے تینوں ممالک کے درمیان مکمل اتفاق رائے ضروری ہے۔

وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار کا کہنا تھا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کا سہ فریقی معاہدہ اس وقت پائپ لائن میں ہے، اس معاہدے کا مسودہ ہمارے پاس موجود ہے، یہی مسودہ سعودی عرب کے پاس بھی ہے اور ترکیے کے پاس بھی دستیاب ہے، تینوں ممالک اس پر غور و خوض کر رہے ہیں۔

برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق یہ پیشرفت اس بات کی علامت ہو سکتی ہے کہ تینوں ممالک گزشتہ دو برسوں میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور تشدد کے خدشات کے پیش نظر باہمی تعاون کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔

دوسری جانب استنبول میں ایک پریس کانفرنس کے دوران جب ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان سے تینوں ممالک کے درمیان مذاکرات سے متعلق میڈیا رپورٹس کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے تصدیق کی کہ بات چیت ضرور ہوئی ہے تاہم ابھی تک کوئی معاہدہ طے نہیں پایا۔

ترک وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ خطے میں بداعتمادی کو ختم کرنے کے لیے وسیع تر علاقائی تعاون اور اعتماد کی ضرورت ہے، کیونکہ یہی بداعتمادی ایسے مسائل پیدا کرتی ہے جو بیرونی طاقتوں کے اثر و رسوخ، جنگوں یا دہشت گردی سے جنم لینے والی عدم استحکام کا باعث بنتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان تمام مسائل کے بعد ہمارے پاس ایک تجویز ہے کہ تمام علاقائی ممالک کو سکیورٹی کے معاملے پر ایک مشترکہ تعاون کے پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونا چاہئے، اگر متعلقہ ممالک ایک دوسرے پر اعتماد کریں تو علاقائی مسائل حل کیے جاسکتے ہیں۔

چند روز قبل امریکی جریدے بلوم برگ نے دعویٰ کیا تھا کہ ترکیے نے پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی اتحاد میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کی ہے، پاکستان، ترکیے اور سعودی عرب کے دفاعی اتحاد سے مشرق وسطیٰ اور اس سے بہت آگے تک طاقت کا توازن تبدیل ہوجائےگا۔

واضح رہے کہ پاکستان اور سعودی عرب نے گزشتہ برس مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے جس میں لکھا گیا تھا کہ کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت دونوں ملکوں کے خلاف جارحیت تصور کی جائے گی، یہ بات نیٹو اتحاد کے آرٹیکل پانچ کی طرح ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراقوام متحدہ کا چارٹر طاقت کے استعمال کی مخالفت کرتا ہے، پاکستانی مندوب اقوام متحدہ کا چارٹر طاقت کے استعمال کی مخالفت کرتا ہے، پاکستانی مندوب تصادم کا کوئی ارادہ نہیں، جارحیت ہوئی تو بھرپور جواب دیں گے: ایرانی مندوب یمن میں سیاسی ہلچل، وزیر اعظم سالم صالح بن بریک مستعفی ٹرمپ نے ایران کے خلاف تمام آپشن کھلے رکھ دیے، وائٹ ہاؤس کا بڑا بیان ایمان مزاری اور انکے شوہر سمندر پر ہیں یا آسمان پر، گرفتار کرکے پیش کریں، عدالت کا حکم امریکا کی دھمکیوں پر پاسداران انقلاب کا منہ توڑ جواب، ہائی الرٹ کا اعلان TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: دفاعی معاہدے اور ترکیے معاہدے کا ترکیے نے

پڑھیں:

امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے

امریکا نے جبری مشقت کی روک تھام میں ناکامی پر60 سے زائد تجارتی شراکت داروں پر 10 سے 12.5 فیصد تک ٹیرف عائد کردیئے ہیں۔ 24 جولائی سے نئے ٹیرف کا اطلاق ہو رہا ہے اور پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے، جن پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جا رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے یہ نیا اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی ٹیرف کے نظریے کو بحال کرنے کی کوشش ہے۔ فروری 2026 میں امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کی جانب سے مختلف ممالک کی اشیا پر لگائے جانے والے 10 سے 50 فیصد اضافی ٹیرف کے نفاذ کو کالعدم قرار دیا تھا۔ اس بار ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امریکی ٹریڈ ایکٹ کے سیکشن 301 کو استعمال کرکے 60 سے زائد ممالک پر ٹیرف عائد کیے جا رہے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ ممالک جبری مشقت سے تیار کردہ اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرنے اور اس حوالے سے قوانین کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ارجنٹینا، بنگلا دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو کی اشیا پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔ دیگر 38 ممالک کی درآمدی اشیا پر 12.5 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ کچھ امریکی تجارتی شراکت داروں جیسے آسٹریلیا اور برازیل نے اس پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ نئے ٹیرف غیرمنصفانہ ہیں اور وہ انہیں ختم کرانے کی کوشش کریں گے جبکہ ناروے کا کہنا تھا کہ بے بنیاد الزامات پر اس کا نفاذ کیا جا رہا ہے۔ نئے ٹیرف میں مختلف درآمدی اشیا جیسے خام تیل، قدرتی گیس، مخصوص غذائی اجناس اور اشیا سمیت کھاد کو شامل نہیں کیا گیا۔ اسی طرح جو اشیا جیسے اسٹیل، گاڑیاں، ایلومنیم اور تانبا وغیرہ پہلے سے سیکشن 232 نیشنل سکیورٹی ٹیرف میں شامل ہیں، ان پر بھی اس کا نفاذ نہیں ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • قومی انڈر-18 ٹیم نے ہاکی فائیو اے سائیڈ ورلڈ کپ کیلیے کوالیفائی کرلیا
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل