پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی میں اضافہ، قیمتیں برقرار مگر عوام ممکنہ ریلیف سے محروم
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل پر پٹرولیم لیوی میں اضافہ کر دیا ہے، جس کے باعث عوام ممکنہ ریلیف سے محروم ہو گئے ہیں، تاہم قیمتیں فی الحال برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق پیٹرول پر فی لیٹر لیوی میں 4 روپے 65 پیسے اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد لیوی 79 روپے 62 پیسے سے بڑھ کر 84 روپے 27 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
اسی طرح ڈیزل پر فی لیٹر لیوی میں 80 پیسے اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ڈیزل پر لیوی 75 روپے 41 پیسے سے بڑھا کر 76 روپے 21 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، تاہم اگر لیوی میں اضافہ نہ کیا جاتا تو پیٹرول کی قیمت میں ساڑھے چار روپے فی لیٹر تک کمی ممکن تھی۔
واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے 31 جنوری تک پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے تحت پیٹرول کی قیمت 253 روپے 17 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت 257 روپے 8 پیسے فی لیٹر برقرار رہے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پیسے فی لیٹر کیا گیا ہے لیوی میں ڈیزل پر
پڑھیں:
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پیٹرول مہنگا ہو تو موٹرسائیکل سوار متاثر نہیں ہوتے، مشیر خزانہ کے بیان پر شدید ردعمل
نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
نئی قیمتیں نافذجاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ملک بھر کے پیٹرول پمپوں پر صارفین کو نئی قیمتوں کے مطابق ادائیگی کرنا ہوگی۔
عوام پر مزید مالی دباؤ کا خدشہمعاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ آ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:ایران جنگ کے اثرات: پیٹرول مہنگا، یورپ میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ
ڈیزل کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر مال بردار ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے اخراجات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
حکومت ہر 15 روز بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور ٹیکسوں کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیتی تھی لیکن اب روزانہ کی بنیاد پر یہ عمل جاری ہے۔
اسی جائزہ عمل کے تحت تازہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمتیں ملک بھر میں نافذ العمل ہو گئی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پیٹرول پیٹرولیم مصنوعات درآمدی لاگت ڈیزل روپے کی قدر عالمی منڈی مہنگا