اسلام آباد(ویب ڈیسک) سینئر سیاستدان اور سابق وفاقی وزیرا طلاعات محمد علی درانی نے انکشاف کیا ہے کہ قومی اسمبلی اور سینٹ میں عمران خان کے حمایت یافتہ اپوزیشن لیڈرز کی تعیناتی سے حکومت نے اعتماد سازی کا قدم اٹھایا جس کے بعد مسلم لیگ (ن) سے ایسا کوئی لیڈر وزیراعظم آسکتا ہے جس پر پی ٹی آئی کو اعتراض نہ ہو۔ یہ حکومت اور اپوزیشن میں ایک ممکنہ سیاسی مفاہمت ہوسکتی ہے جس سے پاکستان میں سیاسی عدم استحکام کم ہونا شروع ہوجائے گا۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہاکہسیاسی مفاہمت سے پاکستان کا فائدہ ہوگا، معیشت اورملکی نظام میں بہتری آئے گی، معرکہ حق کے بعد دنیا میں پاکستان نے جو عزت کمائی، عوامی حمایت بڑھنے سے پاکستان کے آگے بڑھنے کے راستے کھل سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عمران خان ملکی مفاد میں ہر حد تک جاسکتے ہیں لیکن اس کے لئے ڈیل کے بجائے ڈائیلاگ کرنا ہوگا۔ دبائو سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو ہوں یا محمد نوازشریف یا کوئی اور سیاسی راہنما، پاکستان کے مفاد پر ہر سیاسی لیڈر اور پارٹی نے اپنا کردار ادا کیا ۔ عمران خان بھی اس انکار نہیں کریں گے۔ ’’لو اور دو‘‘ کے بجائے انصاف پر مبنی حل نکالنا ہوگا۔محمد علی درانی نے کہا کہ عمران خان سے جیل میں ملاقات اور مفاہمت کے حوالے سے کردار کی بات نیک نیتی اور پاکستان کے مفاد کی خاطر کی ۔ میرا ذاتی کوئی مفاد نہیں۔ مفاہمت کے لئے پاکستان کے مفاد میں تفصیلی سیاسی روڈ میپ بھی دے سکتا ہوں جس میں کچھ چھپا نہیں ہوگا بلکہ سب نکات واضح ہوں گے۔محمد علی درانی نے کہاکہ وزیراعلی خیبرپختون کا پنجاب اور سندھ کا دورہ حکومت کے اعتماد سازی کے اقدامات کا حصہ ہیں۔ سیاسی سرگرمیوں پر پابندی ختم کرکے ، حکومت اس عمل کو مزید مستحکم بنا سکتی ہے جبکہ اپوزیشن کو یقینی بنانا ہوگا کہ آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر سرگرمیاں کرے، قانون ہاتھ میں نہ لے۔ حکومت ڈاکٹر یاسمین راشد، بشری بی بی سمیت دیگر سیاسی کارکنان کو رہا کرکے سیاسی ماحول میں تنائو مزید کم کرسکتی ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ اسٹیبلشمنٹ کے سہارے پر کھڑی حکومت ایک غلطی یہ کررہی ہے کہ اپنی ناکامیاں اپنے سہارے کے سر ڈال رہی ہے۔ ایسا نہیں کرنا چاہیے اورحکومت کو اس خوف سے نکلنا چاہیے کہ پی ٹی آئی سے بات چیت کرکے وہ کمزور ہوجائے گی۔ یہ رویہ پاکستان کے مفاد میں نہیں، نہ ہی خود حکمران جماعت کے مفاد میں ہے۔ ایک سوال پرانہوں نے کہاکہ 9 مئی کے نتیجے میں پاکستان کو نقصان ہوا۔ حکمران جماعت نے اس سانحے کو مخالف سیاسی جماعت کو ملک دشمن جماعت بنانے کی کوشش کے لئے استعمال کیا۔ 9 مئی میں ملوث افراد کو پندرہ دِن میں سزا ہوجانی چاہیے تھی لیکن حکومت نے ایسے مقدمات بنائے جنہیں سو سال ثابت نہیں کیاجاسکتا۔ایک قومی معاملے پر، دونوں طرف سے ، ایک دوسرے کے خلاف سیاسی بیانیے بنانے کی کوشش کی گئی جو پاکستان کے ساتھ زیادتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ الذوالفقار، اور طیارہ ہائی جیکنگ کی شکل میں پی ٹی آئی سے بڑا دھبہ پی پی پی پر تھا لیکن بے نظیر بھٹو صاحبہ نے کم عمری کے باوجود بڑی دانشمندی سے اس دھبے سے اپنی جماعت کو بچایا۔ پی ٹی آئی کو بھی اسی راستے پر چلنا چاہیے۔ حکومت کو بھی مسلسل سمجھا رہے ہیں کہ اُن کے بیانیے سے پاکستان کا نقصان ہورہا ہے۔انہوں نے کہاکہ چھبیس اور ستائیسویں ترامیم میں بعض نکات کے سوا دیگر تمام شقوں سے صرف حکمران جماعتوں کو فائدہ ہوا ۔سابق وزیر اطلاعات نے کہاکہ حکومت معاشی سطح پر کچھ نہیں کر پا رہی جس سے پاکستان کی معیشت اور عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ہر محب وطن پاکستانی اس صورتحال سے پریشان اور دکھی ہے۔ ایک اور سوال پر محمد علی درانی نے کہاکہ پی ٹی آئی کے اندر لیڈروں کی کوئی حیثیت نہیں۔ پی ٹی آئی کے دو ہی لیڈر ہیں، ایک عمران خان اور دوسرے عوام ۔ پی ٹی آئی کے دیگر لیڈر نہ کچھ کرسکتے ہیں نہ بات آگے بڑھا سکتے ہیں۔ نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے اجلاس میں بھی یہی کہا گیا کہ حکومت اعتماد سازی کرے اور جیل میں بیٹھے قیدیوں سے بات چیت شروع کرے تاکہ نتیجہ نکلے۔ قومی اسمبلی اور سینٹ میں بننے والے اپوزیشن لیڈر پی ٹی آئی سے نہیں بلکہ عمران خان کے ریکومینڈڈ ہیں۔ دوسری طرف نوازشریف نے اپوزیشن لیڈرز کی تعیناتی کے لئے اپنا کردار ادا کیا جو اعتماد سازی کا ایک واضح قدم ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: محمد علی درانی نے پاکستان کے مفاد انہوں نے کہاکہ اپوزیشن لیڈر سے پاکستان پی ٹی آئی مفاد میں کے لئے

پڑھیں:

قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان

راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔

علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔

(جاری ہے)

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ