اپوزیشن لیڈرز کی تعیناتی کے بعد مسلم لیگ (ن) سے ایسا وزیراعظم آسکتا ہے جس پر پی ٹی آئی کو اعتراض نہ ہو، محمد علی درانی
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
اسلام آباد(ویب ڈیسک) سینئر سیاستدان اور سابق وفاقی وزیرا طلاعات محمد علی درانی نے انکشاف کیا ہے کہ قومی اسمبلی اور سینٹ میں عمران خان کے حمایت یافتہ اپوزیشن لیڈرز کی تعیناتی سے حکومت نے اعتماد سازی کا قدم اٹھایا جس کے بعد مسلم لیگ (ن) سے ایسا کوئی لیڈر وزیراعظم آسکتا ہے جس پر پی ٹی آئی کو اعتراض نہ ہو۔ یہ حکومت اور اپوزیشن میں ایک ممکنہ سیاسی مفاہمت ہوسکتی ہے جس سے پاکستان میں سیاسی عدم استحکام کم ہونا شروع ہوجائے گا۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہاکہسیاسی مفاہمت سے پاکستان کا فائدہ ہوگا، معیشت اورملکی نظام میں بہتری آئے گی، معرکہ حق کے بعد دنیا میں پاکستان نے جو عزت کمائی، عوامی حمایت بڑھنے سے پاکستان کے آگے بڑھنے کے راستے کھل سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عمران خان ملکی مفاد میں ہر حد تک جاسکتے ہیں لیکن اس کے لئے ڈیل کے بجائے ڈائیلاگ کرنا ہوگا۔ دبائو سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو ہوں یا محمد نوازشریف یا کوئی اور سیاسی راہنما، پاکستان کے مفاد پر ہر سیاسی لیڈر اور پارٹی نے اپنا کردار ادا کیا ۔ عمران خان بھی اس انکار نہیں کریں گے۔ ’’لو اور دو‘‘ کے بجائے انصاف پر مبنی حل نکالنا ہوگا۔محمد علی درانی نے کہا کہ عمران خان سے جیل میں ملاقات اور مفاہمت کے حوالے سے کردار کی بات نیک نیتی اور پاکستان کے مفاد کی خاطر کی ۔ میرا ذاتی کوئی مفاد نہیں۔ مفاہمت کے لئے پاکستان کے مفاد میں تفصیلی سیاسی روڈ میپ بھی دے سکتا ہوں جس میں کچھ چھپا نہیں ہوگا بلکہ سب نکات واضح ہوں گے۔محمد علی درانی نے کہاکہ وزیراعلی خیبرپختون کا پنجاب اور سندھ کا دورہ حکومت کے اعتماد سازی کے اقدامات کا حصہ ہیں۔ سیاسی سرگرمیوں پر پابندی ختم کرکے ، حکومت اس عمل کو مزید مستحکم بنا سکتی ہے جبکہ اپوزیشن کو یقینی بنانا ہوگا کہ آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر سرگرمیاں کرے، قانون ہاتھ میں نہ لے۔ حکومت ڈاکٹر یاسمین راشد، بشری بی بی سمیت دیگر سیاسی کارکنان کو رہا کرکے سیاسی ماحول میں تنائو مزید کم کرسکتی ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ اسٹیبلشمنٹ کے سہارے پر کھڑی حکومت ایک غلطی یہ کررہی ہے کہ اپنی ناکامیاں اپنے سہارے کے سر ڈال رہی ہے۔ ایسا نہیں کرنا چاہیے اورحکومت کو اس خوف سے نکلنا چاہیے کہ پی ٹی آئی سے بات چیت کرکے وہ کمزور ہوجائے گی۔ یہ رویہ پاکستان کے مفاد میں نہیں، نہ ہی خود حکمران جماعت کے مفاد میں ہے۔ ایک سوال پرانہوں نے کہاکہ 9 مئی کے نتیجے میں پاکستان کو نقصان ہوا۔ حکمران جماعت نے اس سانحے کو مخالف سیاسی جماعت کو ملک دشمن جماعت بنانے کی کوشش کے لئے استعمال کیا۔ 9 مئی میں ملوث افراد کو پندرہ دِن میں سزا ہوجانی چاہیے تھی لیکن حکومت نے ایسے مقدمات بنائے جنہیں سو سال ثابت نہیں کیاجاسکتا۔ایک قومی معاملے پر، دونوں طرف سے ، ایک دوسرے کے خلاف سیاسی بیانیے بنانے کی کوشش کی گئی جو پاکستان کے ساتھ زیادتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ الذوالفقار، اور طیارہ ہائی جیکنگ کی شکل میں پی ٹی آئی سے بڑا دھبہ پی پی پی پر تھا لیکن بے نظیر بھٹو صاحبہ نے کم عمری کے باوجود بڑی دانشمندی سے اس دھبے سے اپنی جماعت کو بچایا۔ پی ٹی آئی کو بھی اسی راستے پر چلنا چاہیے۔ حکومت کو بھی مسلسل سمجھا رہے ہیں کہ اُن کے بیانیے سے پاکستان کا نقصان ہورہا ہے۔انہوں نے کہاکہ چھبیس اور ستائیسویں ترامیم میں بعض نکات کے سوا دیگر تمام شقوں سے صرف حکمران جماعتوں کو فائدہ ہوا ۔سابق وزیر اطلاعات نے کہاکہ حکومت معاشی سطح پر کچھ نہیں کر پا رہی جس سے پاکستان کی معیشت اور عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ہر محب وطن پاکستانی اس صورتحال سے پریشان اور دکھی ہے۔ ایک اور سوال پر محمد علی درانی نے کہاکہ پی ٹی آئی کے اندر لیڈروں کی کوئی حیثیت نہیں۔ پی ٹی آئی کے دو ہی لیڈر ہیں، ایک عمران خان اور دوسرے عوام ۔ پی ٹی آئی کے دیگر لیڈر نہ کچھ کرسکتے ہیں نہ بات آگے بڑھا سکتے ہیں۔ نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے اجلاس میں بھی یہی کہا گیا کہ حکومت اعتماد سازی کرے اور جیل میں بیٹھے قیدیوں سے بات چیت شروع کرے تاکہ نتیجہ نکلے۔ قومی اسمبلی اور سینٹ میں بننے والے اپوزیشن لیڈر پی ٹی آئی سے نہیں بلکہ عمران خان کے ریکومینڈڈ ہیں۔ دوسری طرف نوازشریف نے اپوزیشن لیڈرز کی تعیناتی کے لئے اپنا کردار ادا کیا جو اعتماد سازی کا ایک واضح قدم ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: محمد علی درانی نے پاکستان کے مفاد انہوں نے کہاکہ اپوزیشن لیڈر سے پاکستان پی ٹی آئی مفاد میں کے لئے
پڑھیں:
پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملکی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے روبوٹکس اور اٹانومس سسٹمز کی ترقی کے لئے سپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام کے آغاز اور 20 ملین ڈالر کا پاکستان وینچر فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا اور کہا ہے کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے۔
اسلام آباد میں انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں صف اول کا کردار ادا کرنے کے حوالے سے پاکستان کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے، یہ نمائش اور اس طرح کے اقدامات پاکستان کو 21ویں صدی کی جدید ٹیکنالوجی میں صف اول کا ملک بنائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال کے اوائل میں پاکستان نے انڈس اے آئی سمٹ کی بھی میزبانی کی، جس سے مصنوعی ذہانت کے دور میں پاکستان کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیےحکومتی نمائندوں، ٹیکنالوجی لیڈرز اور محققین کاروباری افراد کو مل بیٹھنے کا موقع ملا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
ان کا کہنا تھا کہ آج انڈس راس ایکسپو سے اس وژن کو عملی شکل دینے کا موقع حاصل ہوا ہے کہ کس طرح جدت کو فعال سلوشنز میں تبدیل کریں، روبوٹکس اور ڈرونز کی جدت سے معیشت مضبوط سلامتی بہتر اور عوام کی زندگی آسان ہوگی، اس جہت نے اکیڈیمیا، انڈسٹری، اسٹارٹ اپس اور پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ میرے بچپن میں ٹیکنالوجی کی جدت بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن کی آمد تھی اور خاندان کے تمام افراد’’اچے برج لاہور دے‘‘ جیسی پاکستان ٹیلی ویژن کی کلاسک نشریات کو مل کر دیکھتے تھے لیکن آج دنیا ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت آگے بڑھ گئی ہے اور ہم تاریخ کے ایک غیر معمولی دور میں ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
ان کا کہنا تھا کہ زرعی پیداوار کے لیے پانی اور دیگر بنیادی عوامل کی ضرورت، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی اہمیت کا حامل ہے، آج ٹیکنالوجی کی جدید شکل ہمارے سامنے موجود ہے، آج مشینیں محسوس کر کے تیزی سے فیصلے اور ان پر عمل درآمد کرتی ہیں جو کبھی خواب لگتا تھا آج حقیقت بن کر ہمارے سامنے موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ فخریہ طور پر کہتا ہوں کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے جدید ٹیکنالوجی اپنائی، سیمولیٹرز 100 فیصد پاکستان میں تیار ہو رہے ہیں، ڈرونز کی 60 فیصد سے زائد مقامی تیاری حاصل کر لی گئی ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
وزیراعظم نے کہا کہ معرکہ حق میں مسلح افواج نے جدید آٹونومس سسٹمز اور سائبر سیکیورٹی کے ذریعے سرحدوں کا دفاع کیا، معرکہ حق میں فیلڈ مارشل کی سربراہی میں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر اور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کی معاونت شان دار رہی اور ہماری مسلح افواج نے ملکی خود مختاری کے تحفظ کے لیے آہنی عزم کے مظاہرے کے ساتھ ساتھ ملکی صلاحیتوں، ٹیکنالوجی کی ترقی اور اور آپریشنل مہارت کا بھی بھرپور ثبوت دیا۔ان کا کہنا تھا کہ دفاعی شعبے میں شان دار کامیابیاں مادر وطن کے قومی دفاع کا لازمی جزو ہیں، اس سے ہمارے سیکیورٹی کا نظام مضبوط ہوگا، دفاع مزید ناقابل تسخیر ہو جائے گا اور اس سے ابھرتے اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔
چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرے گا، دفاع میں آٹونومس صلاحیتوں کی ترقی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا انقلاب چند جدید معیشتوں، بڑی کارپوریشنز اور بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ سب کے لیے مساوی ترقی ہونی چاہیے، کسانوں کی حالت بہتر ہو، چھوٹے کاروبار فروغ پائیں،کاروبار کرنے والی خواتین کو سہولیات ملیں اور کمزور طبقات کو فائدہ پہنچے، محفوظ اور شفاف آٹونومس سسٹمز کے لیے واضح قانون سازی اور اخلاقی فریم ورک بنانا چاہیے۔
پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا
مزید :