پاکستان بحرین کیساتھ اقتصادی تعاون، روابط کے فروغ کیلئے پر عزم:زرداری، بحرینی وزیر داخلہ کی ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) صدر آصف علی زرداری نے مملکتِ بحرین کے اکنامک ڈیولپمنٹ بورڈ کے ہیڈکوارٹر میں منعقدہ استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے بحرین کے ساتھ اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری شراکت داریوں اور ادارہ جاتی روابط کے فروغ کے لیے پاکستان کے عزم پر زور دیا۔ اپنے خطاب میں صدر نے دورے کے دوران پرتپاک میزبانی پر شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ اور شہزادہ سلمان بن حمد آل خلیفہ، ولی عہد اور وزیرِ اعظم، کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے شاہ کی جانب سے شیخ عیسیٰ ایوارڈ عطا کیے جانے پر بھی اظہارِ تشکر کیا اور اسے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی گہرائی اور باہمی احترام کی عکاسی قرار دیا۔ صدر نے کہا کہ یہ استقبالیہ پاکستان اور بحرین کے قریبی اور دیرینہ دوستانہ تعلقات کا مظہر ہے۔ بحرین کی ایک کھلی اور سرمایہ کار دوست معیشت کے طور پر کامیاب حیثیت، تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی ماحول میں قابلِ قدر اسباق فراہم کرتی ہے۔ جب بحرین کے وزیرِ خزانہ نے اقتصادی ترقی پر بریفنگ شروع کی تو صدر نے ہلکے پھلکے انداز میں منامہ کے افق کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ترقی ان کے سامنے واضح طور پر نظر آ رہی ہے اور کسی وضاحت کی محتاج نہیں۔ صدر نے کہا کہ اکنامک ڈیولپمنٹ بورڈ بحرین کی اقتصادی حکمتِ عملی کی تشکیل، غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ اور اہم شعبہ جات میں تنوع کی حمایت میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔ صدر زرداری نے کہا کہ پالیسی ہم آہنگی اور سرمایہ کاروں کی سہولت کاری پر مبنی ای ڈی بی کا ماڈل پائیدار اور جامع ترقی کے خواہاں ممالک کے لیے ایک مفید حوالہ فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بحرین کے ترقیاتی سفر کو تحسین کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور دونوں معیشتوں کے درمیان مضبوط تکمیلی پہلو موجود ہیں۔ پاکستان میں جاری اقتصادی اصلاحات کو اجاگر کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ ملک استحکام، ڈیجیٹل جدید کاری اور سرمایہ کاری پر مبنی ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ انہوں نے سپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل کا حوالہ دیا جو سرمایہ کاروں کے لیے ایک مربوط پلیٹ فارم ہے اور جس کے ترجیحی شعبہ جات میں زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، توانائی، معدنیات، لاجسٹکس اور سیاحت شامل ہیں۔ صدر نے زراعت اور غذائی تحفظ، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل خدمات، قابلِ تجدید توانائی اور لاجسٹکس کو پاکستان اور بحرین کے درمیان تعاون کے امید افزا شعبے قرار دیا۔ انہوں نے پاکستان کی سٹریٹجک جغرافیائی حیثیت پر بھی زور دیا جو جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، چین اور مشرقِ وسطیٰ کو جوڑتی ہے، اور جو بحرین کی مالی مہارت اور ریگولیٹری فریم ورک کی تکمیل کرتی ہے۔ اندرونی سلامتی کے استحکام اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن تعلقات کے فروغ کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا، ساتھ ہی قومی مفادات کے تحفظ پر بھی زور دیا۔ درےں اثناءصدر آصف علی زرداری اور بحرینی وزیر داخلہ کی ملاقات ہوئی جس مےں، سیکیورٹی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا، پاکستان اور بحرین کے درمیان انسداد دہشتگردی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا، بحرینی وزیر داخلہ نے محسن نقوی کے دونوں ممالک کے مابین تعلقات کو فروغ دینے کے حوالے سے صدر زرداری کے سامنے خصوصی ذکر کیا، پاکستان، بحرین کا منشیات سمگلنگ کے خلاف مشترکہ اقدامات پر اتفاق کیا گیا، دونوں ممالک کا منظم جرائم کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی پر زور دےا، سکیورٹی تعاون بڑھانے کے لیے عملی اقدامات جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کے درمیان اور بحرین نے کہا کہ ممالک کے انہوں نے بحرین کے بحرین کی کے فروغ کیا گیا کے لیے
پڑھیں:
صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
کراچی:صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی بلاول ہاؤس کراچی میں ملاقات ہوئی جس میں بلوچستان میں امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور صوبے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
صدر ِمملکت نے بلوچستان میں ترقی کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور صوبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کی۔
صدر مملکت نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی، امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے، عوامی فلاح اور صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے تمام متعلقہ ادارے مربوط انداز میں کام کریں۔
ملاقات میں صوبائی وزیرِ آبپاشی صادق عُمرانی، وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی ظہور بلیدی، وزیرِ صحت میر بخت کاکڑ، وزیرِ لائیو اسٹاک سردار فیصل جمالی، وزیرِ صنعت و تجارت کویار ڈومکی، وزیرِ محنت غلام رسول عُمرانی اور پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے سینئر نائب صدر میر علی حسن زہری شریک تھے۔