شوق کی انتہا: 1531 منفرد جرابیں جمع کرکے گنیز بک ریکارڈ بن گیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکا میں ایک ریٹائرڈ نیوز اینکر نے اپنے منفرد شوق کو عالمی سطح پر پہچان دلا دی ہے، جہاں انہوں نے رنگ برنگی جرابوں کا سب سے بڑا مجموعہ اکٹھا کرنے کا گینیز ورلڈ ریکارڈ قائم کر دیا۔
سی بی ایس فلیڈیلفیا سے وابستہ رہنے والے معروف نیوز اینکر جِم ڈونوون نے 1531 منفرد جوڑیوں پر مشتمل جرابوں کے ذخیرے کے ذریعے یہ اعزاز اپنے نام کیا۔
جِم ڈونوون نے بتایا کہ ان کے اس شوق کا آغاز دورانِ ملازمت ہوا، جب وہ نشریات کے دوران رنگ برنگی اور منفرد ڈیزائن کی جرابیں پہنا کرتے تھے۔ ناظرین نے ان کی جرابوں کو خاص طور پر نوٹس کیا، جس کے بعد یہ شوق ان کی شناخت بن گیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان کے مداحوں نے بھی انہیں مختلف ڈیزائن کی جرابیں تحفے میں دینا شروع کر دیں۔
ریٹائرڈ اینکر کے مطابق انہیں دنیا بھر سے مداحوں کی جانب سے جرابوں کی جوڑیاں موصول ہوتی رہیں، جن میں سے بعض پر ان کا اپنا چہرہ بھی چھپا ہوتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی برسوں تک لوگ انہیں مسلسل جرابیں بھیجتے رہے، جس کے باعث ان کا مجموعہ حیران کن حد تک بڑھ گیا۔
گینیز ورلڈ ریکارڈز کی ٹیم نے جِم ڈونوون کے مجموعے کی باقاعدہ تصدیق کی، جس کے بعد انہیں دنیا میں سب سے زیادہ منفرد جرابوں کا کلیکشن رکھنے والا فرد قرار دیا گیا۔ گینیز حکام کے مطابق ہر جوڑی کو الگ اور منفرد ہونا ضروری تھا، جس کے تمام تقاضے پورے کیے گئے۔
جِم ڈونوون نے گینیز ورلڈ ریکارڈز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ اعزاز ان کے لیے خوشی اور فخر کا باعث ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ شوق محض فیشن نہیں بلکہ ناظرین سے جڑے رہنے اور خوشی بانٹنے کا ایک ذریعہ بن گیا تھا۔ یہ ریکارڈ اس بات کا ثبوت ہے کہ عام سی دلچسپی بھی وقت کے ساتھ ایک غیر معمولی کامیابی میں بدل سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ج م ڈونوون
پڑھیں:
وزارتِ خارجہ کی اپوسٹل سروسز کے ٹھیکوں پر سوالات، آڈٹ میں قواعد کی مبینہ خلاف ورزیوں کی نشاندہی
اسلام آباد (رضوان عباسی ) وزارتِ خارجہ کی قونصلر سروسز کے تحت اپوسٹل سروسز کے لیے کوریئر کمپنیوں کے انتخاب کے عمل پر آڈٹ نے کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق خدمات کے حصول میں پبلک پروکیورمنٹ رولز (پیپرا) کے تقاضوں پر مکمل عمل نہیں کیا گیا اور اوپن ٹینڈرنگ کے شواہد بھی ریکارڈ پر موجود نہیں ہیں۔ روزنامہ اوصاف کو حاصل دستاویزات کے مطابق 17 مئی 2024 سے اپوسٹل سروسز کے لیے ٹی سی ایس، لیوپرڈز، جیرینز، ایم اینڈ پی اور ایکسیلنٹ کوریئر سروسز (ECS) سمیت پانچ کوریئر کمپنیوں کو دستاویزات کی وصولی اور ترسیل کی ذمہ داری سونپی گئی۔ تاہم آڈٹ کا کہنا ہے کہ کمپنیوں کے انتخاب کے لیے نہ تو اوپن کمپیٹیٹیو بڈنگ کی گئی اور نہ ہی واضح سلیکشن کرائٹیریا یا کاروباری اہلیت کا مکمل ریکارڈ دستیاب تھا۔آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہی طریقہ کار صرف اسلام آباد ہی نہیں بلکہ کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ اور گجرات میں قائم فارن آفس لیزن دفاتر (FALOs) میں بھی اختیار کیا گیا۔
رپورٹ میں ای سی ایس یعنی ایکسیلینٹ کورئیر سروسز کے انتخاب پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ آڈٹ کے مطابق ای سی ایس کمپنی کے قومی سطح پر متعلقہ تجربے، کاروباری پروفائل اور اہلیت سے متعلق مطلوبہ ریکارڈ دستیاب نہیں تھا۔ اس کے علاوہ کمپنی کی سیلز ٹیکس رجسٹریشن اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) سے متعلق دستاویزات بھی ریکارڈ پر موجود نہ ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔آڈٹ رپورٹ میں یہ سفارش کی گئی ہے کہ پورے معاملے کی جامع تحقیقات کی جائیں، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور آئندہ سرکاری خریداری اور خدمات کے حصول میں پیپرا رولز پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔وزارتِ خارجہ کی جانب سے آڈٹ رپورٹ میں اٹھائے گئے نکات پر تاحال باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔