بھارت کو جامع معاشی اوورہال کی اشد ضرورت ہے، وال اسٹریٹ جرنل
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وال اسٹریٹ جرنل میں بھارت سے متعلق چھپے آرٹیکل کے مطابق بھارت کی کمزور اور غیر مستقل معاشی اصلاحات مودی حکومت کی بڑی ناکامی ہیں۔ اخبار نے نشاندہی کی ہے کہ مودی حکومت آزاد منڈی کا کوئی واضح اور دلیرانہ وژن پیش کرنے میں ناکام رہی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اگست 2025 میں امریکا نے بھارت پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیا، جو کسی بھی بڑی معیشت کے لیے غیر معمولی طور پر بلند ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق ٹرمپ کے ان سخت ٹیرفس نے بھارت کی حد سے زیادہ ریگولیٹڈ معیشت کو بے نقاب کر دیا۔ وال اسٹریٹ جرنل کا کہنا ہے کہ مودی حکومت اپنے ہی پیدا کردہ مسائل کو درست کرنے میں مسلسل تاخیر کرتی رہی اور ان کے دور میں معاشی اصلاحات نہ صرف کمزور بلکہ غیر مستقل بھی رہیں۔ بینکاری بحران کے بعد اصلاحات دیر سے متعارف ہوئیں، جبکہ جی ایس ٹی کا ناقص نفاذ حکومت کی ایک بڑی ناکامی ثابت ہوا اور یہ نظام آج بھی عالمی ویلیو ایڈڈ ٹیکس کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ ہے۔ لیبر اصلاحات میں بنیادی تبدیلی سے گریز کیا گیا، نان ٹیرف رکاوٹوں نے امریکی غصے کو بڑھایا اور انشورنس و نیوکلیئر شعبوں میں ایف ڈی آئی بہت دیر سے کھولی گئی۔ پاور سیکٹر میں اصلاحات کے دعوے بار بار ناکام ہوئے اور سرکاری بجلی ادارے شدید مالی بحران کا شکار رہے۔ اخبار کے مطابق حکومت جرات مندانہ اصلاحات کے بجائے جزوی اور نمائشی اقدامات پر انحصار کرتی رہی، بحران سے پہلے مسلسل تنقید کو نظرانداز کیا گیا، بیوروکریسی میں صرف سطحی تبدیلیاں کی گئیں، اور زرعی اصلاحات سیاسی دباؤ پر واپس لے لی گئیں۔ بلند ٹیرف، تحفظ پسند پالیسیاں، زمین، لیبر اور سبسڈی اصلاحات میں تاخیر، خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی نجکاری میں ناکامیکےیہ سب عوامل بھارت کی مسابقت کو نقصان پہنچاتے رہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق بھارت کو نمائشی اقدامات کے بجائے ایک جامع اور مکمل معاشی اوورہال کی اشد ضرورت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔