وزیراعظم شہباز شریف نے صحت کارڈ پروگرام کا باضابطہ افتتاح کر دیا ہے۔

وزیراعظم صحت کارڈ پر اسلام آباد، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان کے شہریوں کو شناختی کارڈ پر صحت کی مفت سہولتیں ملیں گی۔ نئے پروگرام کی مدت 30 جون 2027 تک رکھی گئی ہے، کارڈ پر آج سے ملک کے 640 نجی و سرکاری اسپتالوں میں صحت کی سہولتیں مفت ملیں گی۔

یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر: بلدیاتی فنڈ، یوتھ قرضہ اسکیم کی منظوری، صحت کارڈ کے اجرا کا بھی فیصلہ

صحت کارڈ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ یہ سب کے لیے اہم دن ہے کہ صحت کی سہولتیں، جو کہ ہر فرد کا حق ہے، اس کو اس کی دہلیز پر پہنچائی جائیں۔ اس حوالے سے ایک قدم آج لیا جا رہا ہے، یہ قدم اس اسکیم کی یاددہانی بھی ہے جس کا اجرا میرے قائد نواز شریف نے 2016 میں کیا تھا۔

براہِ راست:- وزیراعظم صحت کارڈ کی افتتاحی تقریب کی کارروائی اور وزیراعظم کا خطاب https://t.

co/u9ySmWjWZl

— Government of Pakistan (@GovtofPakistan) January 16, 2026

شہباز شریف نے کہا کہ صوبوں میں بڑی تیزی کے ساتھ یہ سہولت عوام تک پہنچی، صحت سے زیادہ زندگی میں اور کوئی چیز قیمتی نہیں ہے، صحت ہوگی تو آپ تعلیم حاصل کر سکیں گے، باوقار روزگار حاصل کر سکیں گے، صحت ہوگی تو آپ مخالفین کو شکست فاش دے سکیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں صحت کارڈ کے ذریعے مفت علاج کی سہولت ختم کرنے کا فیصلہ

انہوں نے کہا کہ آج اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام کے لیے صحت کارڈ کا اجرا کیا جا رہا ہے، اس کے لیے وزیر صحت کا مشکور ہیں۔ یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ پاکستان میں اشرافیہ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے ہر ملک میں اپنا اور اپنے بچوں کا مہنگا ترین علاج کر سکتے ہیں، لیکن عام آدمی کی مشکل ہے، کوئی ان کے سر پر دست شفقت دینے والا نہیں ہوتا۔

ان کا کہنا تھا کہ صحت اور علاج کا حق ہر پاکستانی کا ہے، بلا تفریق علاج سب کا حق ہے، اس پر ہم جتنی بھی توجہ دیں گے کم ہوگی۔ امید ہے کہ وزیر صحت، سیکریٹری صحت تھرڈ پارٹی کے ذریعے علاج یقینی بنائیں گے، یہ پروگرام پوری تیزی کے ساتھ رواں دواں ہوگا۔

وزیراعظم نے کہا کہ سندھ میں بھی یہ پروگرام شروع کریں گے، اس سلسلے میں وزیراعلیٰ سندھ سے بات کروں گا، پنجاب میں یہ پروگرام زور و شور سے جاری ہے، بلوچستان میں بھی یہ پروگرام شروع کریں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news آزاد کشمیر اسلام اباد صحت کارڈ گلگت بلتستان وزیراعظم شہبازشریف

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسلام اباد صحت کارڈ گلگت بلتستان وزیراعظم شہبازشریف شہباز شریف نے یہ پروگرام نے کہا کہ صحت کارڈ کارڈ پر کے لیے صحت کا

پڑھیں:

ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے

وفاقی آئینی عدالت نے اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز سے متعلق نظرثانی درخواست پر وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے معاونت طلب کر لی، جبکہ مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔

جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ماریہ شہباز کم عمر تھی اور اسے ورغلا کر مذہب تبدیل کروایا گیا، جبکہ عدالت نے اپنے سابق فیصلے میں کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں لاپتا لڑکیوں میں سے 80 فیصد نے پسند کی شادیاں کیں، پولیس کی لاہور ہائیکورٹ کو رپورٹ

جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ سابق عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ درخواست گزار کے وکیل نے جواب دیا کہ قانون کے مطابق شادی کے لیے 18 سال عمر کی حد مقرر ہے اور قانون کے خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔

اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی پر سزا کا ذکر تو موجود ہے، تاہم نکاح کو خودکار طور پر منسوخ قرار دینے کی کوئی شق موجود نہیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر کم عمری میں شادی ہو جائے تو قانون اس صورت حال کا کیا حل فراہم کرتا ہے۔

عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ ماریہ شہباز نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے لے کر وفاقی آئینی عدالت تک کسی بھی مرحلے پر یہ مؤقف اختیار نہیں کیا کہ اس کے ساتھ زبردستی کی گئی تھی۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ اگر درخواست گزار اس مؤقف پر اصرار کرتا ہے تو عدالت اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے قانونی معاونت حاصل کر لیتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پسند کی شادی کیخلاف گاؤں نذرِ آتش کرنیکا واقعہ، وزیراعلیٰ سندھ کا سخت نوٹس

عدالت نے سماعت کے دوران وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔

واضح رہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کو والد کے حوالے کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ تنسیخ نکاح کے لیے متعلقہ فریق سول کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ حبسِ بے جا اور حوالگی کی درخواستوں کی سماعت کے دوران نکاح کی تنسیخ کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

چائلڈ میرج قبول اسلام ماریہ شہباز وفاقی آئینی عدالت

متعلقہ مضامین

  • ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
  • لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی، کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ مقرر کردیا گیا
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • موبائل سم صار فین ہوشیار ، پی ٹی اے کا اہم انتباہ جار ی
  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری