دہشتگرد پھر سراٹھا رہے ہیں، ان کا سر کچلا جائے گا، وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے کہا دہشتگرد پھر سراٹھا رہے ہیں۔ ان کا سر کچلا جائے گا۔ دہشتگردی کو پاکستان کی سرحدوں سے اٹھا کر بحرہند میں ڈبو دیں گے۔
قومی پیغام امن کمیٹی کے ارکان سے ملاقات میں وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ کالعدم ٹی ٹی پی اور ٹی ٹی اے کے گٹھ جوڑ کے ثبوت موجود ہیں۔ پاک بھارت جنگ کا بھی ذکر کیا، کہا فیلڈ مارشل کی قیادت میں افواج پاکستان نے بھارت کو ایسا سبق سکھایا جو وہ کبھی نہیں بھولے گا ۔ علما امن کا پیغام پاکستان کے چپچے تک پہنچائیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ قومی امن کمیٹی کی اس وقت ضرورت ہے، قیام پاکستان میں علمائے کرام کا اہم کردار تھا، اللہ نےپاکستان کو وہ وسائل عطا کیے ہیں جو کسی ملک کے پاس نہیں، پاکستان ترقی و خوشحالی کی منزل کی طرف گامزن ہے۔ اہداف کا حصول مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔
شہبازشریف نے کہا کہ دہشتگردی کے واقعات میں ایک لاکھ پاکستانی شہید ہوئے، ہم نے دہشتگردی کیخلاف جنگ لڑی اور دوسرے ممالک کو بچایا۔
اس موقع پر قومی پیغام امن کمیٹی کی خیبرپختونخوا کے علما کی دو روزہ کانفرنس بلانے کی تجویز دی۔رہنماؤں کا کہنا تھا خوارج کا پاکستان اور اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: نے کہا
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ